Aik Nuskha - Article No. 1316

ایک نسخہ

”ارے․․․․․ارے․․․․․․یہ کیا․․․․․․یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں!“ دانش نے جو کچھ دیکھا تھا ،اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔اس کے دوست عبداللہ ،ثاقب اور حسنات بھی قریب کھڑے تھے

منگل مارچ

aik nuskha

نذیر انبالوی
”ارے․․․․․ارے․․․․․․یہ کیا․․․․․․یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں!“ دانش نے جو کچھ دیکھا تھا ،اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔اس کے دوست عبداللہ ،ثاقب اور حسنات بھی قریب کھڑے تھے ۔

ان کے سامنے ایک کتاب کھلی رکھی تھی،جس کی جسامت دیکھتے ہی دیکھتے بڑی ہونے لگی۔اب کتاب ان کے قدسے بھی کچھ بلند ہو گئی تھی ۔چاروں حیرت میں گم اس منظرکو دیکھ رہے تھے ۔دانش کا خوف کے مارے بُرا حال تھا۔وہ بھاگنے کے لیے تیار کھڑا تھا کہ عبداللہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”میرا ہاتھ چھوڑو،میں گھر جانا چاہتا ہوں ۔“
”ڈر پوک ،بزدل کہیں کے۔“عبداللہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ کتاب کا ایک ورق ہوا سے پلٹا۔
چاروں نے دیکھا ۔کتاب میں ایک بڑا سادروازہ نمودار ہوا۔

(جاری ہے)

تینوں اس پُر اسرار دروازے کو دیکھ رہے تھے کہ کتاب نہایت محبت سے بولی :”مجھ سے ڈر کیوں رہے ہو،آجاؤ ،میرا دروازہ کھلا ہے ،گھبراؤ مت ،آجاؤ۔


پہلے کتاب کی جسامت بڑی ہونے ،پھر دروازہ نظر آنے اور اب کتاب کے بولنے سے چاروں گھبرا گئے تھے ۔حسنات نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے تو ثاقب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔اب دونوں دروازے سے گزر کر دانش اور عبداللہ کی نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے ۔
دانش اور عبداللہ ابھی اسی کش مکش میں تھے کہ دروازے کی طرف بڑھیں یانہ بڑھیں۔حسنات نے دروازے کے قریب آکر ان سے کہا:”انتظار کیا کررہے ہو ،جلدی سے اندر آجاؤ ،واہ کیا خوب صورت باغ ہے ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی ہے،یہاں ہر طرح کا پھل ہے ،مزے مزے کے آم ،بہترین کھجوریں ،انگوروں کی تو کیا بات ہے ،جگہ جگہ انگوروں کی بیلیں ہیں ،بس اب آجاؤ ،جلدی کرو۔

حسنات کی باتوں سے عبداللہ کا خوف تو جاتا رہا،مگر دانش ابھی تک خوف زدہ تھا۔عبداللہ نے مضبوطی سے دانش کا ہاتھ پکڑا اور اسے دروازے تک لے آیا۔
”پہلے تم اندر جاؤ،میں تمھارے پیچھے آؤں گا۔“دانش نے دروازے کے قریب کھڑے ہو کر کہا۔

عبداللہ نے دروازے سے گزر کر باغ میں قدم رکھا تو اس نے بلند آواز میں دانش کو پکارا:”آجاؤ دانش ! بہت خوب صورت باغ ہے ۔“
دانش نے ڈرتے ڈرتے دروازہ عبور کیا تو باغ کا منظر اس کے سامنے تھا۔اس کے تینوں دوست ایک درخت کے نیچے کھڑے تھے ۔
دانش نے بائیں طرف دیکھا ۔پکے ہوئے آم درختوں پر دکھائی دے رہے تھے ۔آموں کو دیکھ کر اس کے منھ میں پانی بھر آیا تھا ۔وہ تیزی سے آموں کے پیڑوں کی طر ف بڑھا۔وہیں کچھ نوجوان گھاس پر بیٹھے آم کھانے میں مصروف تھے۔وہ سبھی بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔

دانش کے ساتھ اس کے دوست بھی کھڑے تھے ۔تینوں نے آم کے درخت پر چڑھنے کی بہت کوشش کی ،مگر وہ اس کوشش میں ہر بار ناکام رہے ۔وہاں موجود نوجوانوں نے ان سے کہا:”پہلی بار جب ہم ہاں آئے تو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا،تب ناکام ہی یہاں سے واپس گئے تھے۔

ان میں سے اس ایک لڑکے اسد نے ایک کاغذ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:”یہاں وقت ضائع مت کرو،اس کاغذ پر ان درختوں کے پھل کھانے کا نسخہ لکھا ہے ،یہ نسخہ لے جاؤ اور اس پر سختی سے عمل کرو،جب دوبارہ آؤ گے تو تمھیں ہر پھل کھانے کو ملے گا۔

”میں آپ کی بات کو غلط نہیں کہتا ،پھر بھی ہمیں ایک اور کوشش تو کرنے دیں ۔“حسنات ہارماننے کے لیے تیار نہ تھا۔
”چلو ٹھیک ہے ،دوبارہ کوشش کرلو۔“اسد نے انگور کھاتے ہوئے کہا۔
حسنات گھاس پر گھوڑا بنا،عبداللہ اس کے اوپر کھڑا ہوا۔
دانش چھلانگ لگا کر اس کے کندھوں پر سوار ہو گیا۔اب درخت کا تناقریب ہی تھا۔ثاقب سب کی حوصلہ افزائی کررہا تھا۔دانش نے آم کے درخت پر پہنچ کر فاتحانہ انداز میں نوجوانوں اور اپنے دوستوں کو دیکھا۔وہ بہت خوش دکھائی دے رہا تھا۔

دانش نے ایک شاخ سے لٹکتے آم کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ شاخ دائیں سے بائیں سمت جھول گئی ۔
دانش بائیں طرف جھکا تو شاخ تیزی سے دوبارہ دائیں طرف جھک گئی ۔اس نے شاخ کو ایک طرف کرکے اوپر والی شاخ پر لگے آم توڑنے کی کوشش کی تو وہ شاخ مزیداوپر اُٹھ گئی۔
دانش جس آم کی طرف بھی ہاتھ بڑھاتا وہ آم دوسری جانب چلا جاتا۔اسد اور اس کے دوست بھی ماضی میں ایسی صورت حال سے دو چار ہو چکے تھے۔
”میاں! وقت ضائع مت کرو،پیڑ سے نیچے اُتر و اور جو نسخہ دیا ہے ،اس پر عمل کرو،پھر آؤ اور جو پھل بھی چاہو جی بھر کر کھاؤ۔

اسد چوں کہ ان تجربات سے گزر چکا تھا،اس لیے بار بار دانش اور اس کے دوستوں کو سمجھا رہا تھا ۔دانش مایوس ہو کر نیچے آگیا۔اب چاروں کے پاس دروازے سے باہر نکلتے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔اسد کا دیا نسخہ دانش کی جیب میں تھا۔
پھل کھانے کی جستجو میں وہ اس نسخے کو پڑھ بھی نہ پائے تھے۔دروازے سے باہر آکر کتاب ایک جھٹکے سے دوبارہ اپنی پہلے والی جسامت میں آگئی اور دروازہ بھی غائب ہو گیا۔
”دیکھو نوجوان کے دیے ہوئے نسخے پرکیا لکھا ہے ؟“حسنات نسخے پر لکھی عبارت پڑھنے کے لیے بے چین تھا۔
دانش نے کاغذ جیب سے نکالاتو اس پر لکھا تھا:”کتاب سے محبت کرو ،کامیابی کا ہر راستہ کھلتا چلا جائے گا۔“
یہ جملہ پڑھ کر چاروں نے نظریں ملائیں اور پھر جھکا دیں ۔چاروں کتاب سے دور نہیں،بلکہ بہت دور تھے ۔اسکول میں ہر وقت باتیں کرنا،دوسروں کو تنگ کرنا اور شرارتیں کرنا ہی انھیں آتا تھا۔
امتحان میں چاروں کی کار کردگی قابل ذکر نہ ہوتی ۔گھر والوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور اساتذہ کی سختی چند دن ہی ان پر اثر کرتی ،وہ دوبارہ پہلے والی ڈگر پر آجاتے۔
کتاب کے دروازے سے گزر کر انھوں نے ایک الگ ہی دنیا دیکھی تھی ۔خوب صورت باغ والی دنیا ،
مزے دار پھلوں اور ٹھنڈی ،صاف ستھری ہوا کی دنیا ،کتنا سکون تھا اس میں ۔
چاروں کے سامنے نوجوان کا دیا ہوا نسخہ تھا۔ان کے دیکھتے ہی دیکھتے کتاب ایک جھٹکے سے بڑی ہوتی گئی۔
اب کتاب ان کے قد سے بھی بڑی ہو گئی ۔پھر اس میں بھی ایک دروازہ دکھائی دینے لگا ۔اس کتاب نے بھی انھیں دروازے سے اندر آنے کی دعوت دی ۔
چاروں کا خوف جاتا رہا تھا،اس لیے وہ فوراً ہی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی گردو غبار دھوئیں اور دھول مٹی نے ان کا استقبال کیا۔حدِ نگاہ تک گرم ہوا چل رہی تھی ۔نوجوان اور بچے سر جھکائے مایوس انداز میں بیٹھے تھے۔چاروں حیرت میں گم انھیں دیکھ رہے تھے ۔
ایک نوجوان ان کی طرف بڑھا۔اس کے ہاتھ میں ویسا ہی کا غذ تھا،جو اسد نے انھیں دیا تھا۔وہ نوجوان کاغذ کو لہراتے ہوئے بولا:”بھاگ جاؤ،یہاں سے ،یہاں مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔یہ جگہ ان لوگوں کے لیے ہے،جو پڑھائی سے بھاگتے اور کتاب سے دور رہتے ہیں ۔

نوجوان کی حالت بہت خراب تھی ۔وہ ہاتھ میں پکڑے کا غذکو بار بار دیکھ رہا تھا۔عبداللہ نے اس سے پوچھا:”اس کا غذ پر کیا لکھا ہے؟“
”خود دیکھ لو کہ اس پر کیا لکھا ہے ،پڑھ لو،غور سے دیکھ لو،کتاب سے محبت کرو،کامیابی کا ہر راستہ کھلتا چلاجائے گا ،افسوس میں اس بات پر عمل نہ کر سکا۔
پڑھائی سے دور بھاگتا رہا۔کتاب کوکوئی اہمیت نہ دیتا تھا۔اب یہی جگہ میرا مقدر ہے ،ہر طرف مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔“یہ کہہ کرنوجوان رودیا۔
اُڑتی دھول اور گرمی نے تھوڑی ہی دیر میں ان کا حال بُراکردیا تھا۔چاروں تیزی سے باہر نکلنے کے لیے دروازے کی طرف بڑھے۔
جیسے ہی وہ باہر آئے کتاب ایک جھٹکے سے بند ہو کر اپنی اصل صورت میں آگئی۔دونوں مناظر وہ دیکھ چکے تھے۔کتابیں ان کے اردگرد بکھری ہوئی تھیں ۔وہ کتابیں جنھیں انھوں نے کبھی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔دانش نے ایک کتاب کو اُٹھا کر اسے چوما۔
اسے محسوس ہوا کہ کتاب اس کے اس عمل سے خوش ہو گئی ہے ۔دانش کے ایسا کرنے کی دیر تھی کہ اس کے دوست بھی کتابوں کو ہاتھوں میں لے کر اپنی محبت کا اظہار کرنے لگے ۔پھر کتابوں سے محبت کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ انھیں کتابیں پڑھنے میں لطف آنے لگا۔
اب تو ان کا ہر پرچہ ہی شان دار ہونے لگا۔وہ اسکول سے کالج اور پھر یونی ورسٹی جا پہنچے۔تعلیم مکمل کرکے انھوں نے عملی میدان میں قدم رکھا ،تب بھی کتاب سے ان کی دوستی برقرار رہی۔
ایک دن چاروں دوست ایک لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے ،ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک کتاب کی جسامت بڑھ گئی ۔
پھر ایک دروازہ نظر آنے لگا۔کتاب کی دعوت پر چاروں دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔اندر وہی شان دار ،خوب صورت باغ تھا۔پھلوں سے لدے ہوئے درخت تھے ۔وہ درخت کی طرف بڑھے ہی تھے کہ شاخ خود بہ خود جھک گئی ۔چاروں نے مزے دار آم توڑے اور گھاس پر بیٹھ کر مزے لے لے کر کھائے ۔
اب ہر پھل وہ آسانی سے کھا سکتے تھے ۔وہ ابھی آم کھا ہی رہے تھے کہ چند لڑکے باغ میں داخل ہوئے ۔وہ اُچھل اُچھل کر درختوں سے پھل توڑ کر کھانے کی کوششوں میں مصروف تھے ۔دانش نے ان لڑکوں کو ایک کاغذ دیتے ہوئے کہا:”ان پھلوں تک پہنچنے کا نسخہ اس کا غذ پر لکھا ہے ،اس پر عمل کر و اور ان مزے دار پھلوں کو حاصل کرو۔“
یہ نسخہ اب آپ کے ہاتھوں میں بھی آگیا ہے ۔اس پر عمل کرکے آپ بھی زندگی کے باغ کا ہر مزے دار پھل آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں ۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Inaami Token

انعامی ٹوکن۔۔تحریر:مختار احمد

Inaami Token

Zakhmi Dushman

زخمی دشمن

Zakhmi Dushman

Ghurbt Ka Shikkar

غربت کا شکار

Ghurbt Ka Shikkar

Kashti

کشتی

Kashti

Hosla Mand Hamid

حوصلہ مند حامد

Hosla Mand Hamid

Ap Ko Dekha Ja Raha Hai

آپ کو دیکھا جارہاہے

Ap Ko Dekha Ja Raha Hai

Afwah Sazi

افواہ سازی

Afwah Sazi

Yadish Bakhair

یادش بخیر

Yadish Bakhair

Gaon Ka Khawab

گاؤں کا خواب

Gaon Ka Khawab

Africa Bare Ju Ap Nahi Jante

افریقہ بارے جو آپ نہیں جانتے

Africa Bare Ju Ap Nahi Jante

Bhalu

بھالو

Bhalu

Kuala

کوالا

Kuala

Your Thoughts and Comments