Aik Tofani Raat - Article No. 1450

ایک طوفانی رات

رات تاریک اور سرد تھی۔صبح سویرے بارش ہونے لگی اور مسلسل دو بجے تک برستی رہی تھی۔شہر کے نشیبی علاقوں میں جابہ جاپانی جمع ہو گیا تھا ،جس سے لوگوں کو آنے جانے میں خاصی دقت پیش آرہی تھی۔

جمعہ جون

Aik tofani raat

میرزاادیب
رات تاریک اور سرد تھی۔صبح سویرے بارش ہونے لگی اور مسلسل دو بجے تک برستی رہی تھی۔شہر کے نشیبی علاقوں میں جابہ جاپانی جمع ہو گیا تھا ،جس سے لوگوں کو آنے جانے میں خاصی دقت پیش آرہی تھی۔چوں کہ بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چلی تھیں ،اس لیے قریب قریب آدھے شہر کی بجلی بند ہو گئی تھی،گھروں میں لالٹینیں اور موم بتیاں جل رہی تھیں جن کی ہلکی اور مدھم روشنی میں گھر والے اپنے ضروری کام نمٹارہے تھے۔


اُ س رات ایک محلے کے ایک چھوٹے سے مکان کے اندر راشد دروازے کے پاس کرسی پر بیٹھا ہوا کسی سوچ میں گم تھا۔اوپر دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی لالٹین کی روشنی کمرے کے ایک چھوٹے سے حصے پر پڑرہی تھی۔
راشد نویں جماعت کا طالب علم تھا اور اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا ۔

(جاری ہے)

اس کی امی محلے کے لوگوں کو کپڑے سی کر گھر کے اخراجات پورے کر لیتی تھی۔راشد کے ابا جی اس وقت فوت ہو گئے تھے،جب راشد کی عمر سات سال تھی اور وہ دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔
رات کے نوبج گئے تھے ۔اس کی امی عام طور پر دس بجے کے بعد سوجاتی تھیں،مگر اس رات ان کی طبیعت قدرے خراب تھی ،اس لیے تقریباً آٹھ بجے ہی سوگئی تھیں۔
اگر گھر میں بجلی کی روشنی ہوتی تو راشد اپنی عادت کے مطابق کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتا اور کتاب پڑھتے پڑھتے سوجاتا،لیکن خاطر خواہ روشنی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی پڑھنا اس کے لیے مشکل تھا اور چوں کہ اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی ،اس لیے کرسی پر بیٹھا بیٹھا کتابوں کے بارے میں یا دوستوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔
سوچتے سوچتے اسے اچانک ایک واقعہ یاد آگیا،جو کئی سال پہلے اسے اس کی امی نے اسے سنایا تھا۔
امی نے بتایا تھا کہ بہت پہلے بھی ایک سرد اور طوفانی رات کو آج ہی کی طرح بجلی بند ہو گئی تھی ۔گھر میں کوئی لالٹین بھی نہیں تھی کہ اُسے جلا کر روٹی وغیرہ تیار کر لیتی۔
اندھیرا بہت زیادہ تھا۔ہاتھ کو ہاتھ دیکھائی نہ دیتا تھا۔ تم اپنی خالہ کے گھر گئے ہوئے تھے ۔گھر میں کھانے کے لیے روٹی کا ایک سوکھا ٹکڑا تک نہ تھا،ایسے میں مجھے کھانے سے زیادہ تمھاری فکر ستارہی تھی کہ کہیں مجھے اپنے پاس نہ پا کر تم رونہ رہے ہو۔
ایک مرتبہ میں نے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش بھی کی کہ خود تمھاری خالہ کے ہاں جا کر تمھیں دیکھ آؤں یا اپنے ساتھ لے آؤں ،مگر جیسے ہی پاؤں دروازے سے باہر رکھا ،میرا پاؤں گھٹنے تک پانی کے اندر چلاگیا۔اس حالت میں باہر جانا میرے لیے ممکن ہی نہ تھا۔
میں پریشان بیٹھی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔میں اس طرف گئی تو آواز آئی:”بہن جی!آپ کو کوئی مشکل تو نہیں۔کوئی کام ہوتا بتائیے،میں حاضر ہوں۔“
میں سخت پریشان تھی اس لیے اسے بتادیا کہ میرا بیٹا اپنی خالہ کے ہاں نہ جانے کس حال میں ہے ،اس کی بڑی فکر ہے ۔
اس شخص نے میری بہن کا پتا پوچھا اور چلا گیا۔میں اس کی شکل نہ دیکھ سکی۔لالٹین تو اس کے ہاتھ میں ضرورتھی،مگر اس کی روشنی صرف زمین پر پڑرہی تھی۔
وہ اجنبی شخص چلا گیا۔آدھے گھنٹے بعد دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی۔دروازے پر گئی تو وہی آواز پھر سے آئی:”بہن جی!آپ کا بیٹا آپ کی بہن کے ہاں گہری نیند سورہا ہے ۔
آپ اس کی فکر بالکل نہ کریں۔لگتا ہے کہ آپ کھانے پینے کا انتظام نہیں کر سکیں،اس لیے میں کچھ کھانے کے لیے لے آیا ہوں اور یہ لالٹین بھی اپنے پاس ہی رکھ لیں ۔میں آسانی سے چلا جاؤں گا۔“
یہ کہہ کر اس نے لالٹین دروازے پر رکھ دی اور اس کے ساتھ ہی رومال میں لپٹی ہوئی کوئی شے بھی ۔
اب کے بھی میں نہ تو اس کی صورت دیکھ سکی اور نہ ہی پوچھ سکی کہ اچھے بھائی!آپ کون ہیں؟کہاں رہتے ہیں؟آپ کی لالٹین کہاں واپس کی جائے؟“
یہ واقعہ جو راشد کی امی نے اسے کبھی سنایا تھا جانے کیسے اس رات اسے یاد آگیا۔
دروازے کے پاس لالٹین جل رہی تھی اور بادل زور سے گرج رہے تھے۔
بجلی چمکتی تو کمرے کے سامنے والی دیوار ایک لمحے کے لیے روشن ہو جاتی۔راشد نے سوچا یقینا وہ رات بھی ایسی ہی طوفانی رات ہو گی اور جس طرح میں جاگ رہا ہوں اس رات امی بھی اسی طرح جاگ رہی ہوں گی۔
”کیا آج رات بھی دروازے پر دستک ہوگی؟“اس نے سوچا،”نہیں اب ایسا نہیں ہو گا،کیوں کہ نہ تو امی بھوکی سوئی ہیں اور نہ میں بھوکارہ کر جاگ رہا ہوں ۔
ہمیں کوئی فکر بھی نہیں ہے۔ “
اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دے دیا۔
اسی وقت اس کی نظر اوپر اُٹھی اور پھر ایک اور سوال نے اس کے ذہن میں سر اُٹھانا شروع کر دیا ۔کیا یہی وہ لالٹین ہے جو اس رات اجنبی شخص نے امی کو دی تھی؟ہو سکتا ہے وہی ،کیوں کہ امی اس کی بڑی حفاظت کرتی ہیں۔
بجلی چلی بھی جائے تو موم بتی جلا کر کام چلا لیتی ہیں۔یہ لالٹین عام طور پر نہیں جلاتیں۔
”تو آج کیوں جلائی ہے ؟“راشد نے خود سے سوال کیا۔
”ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ رات بھی اس رات جیسی ہی طوفانی ہے اور امی کو خیال ہو کہ شاید وہ اجنبی اپنی لالٹین لینے کے لیے آجائے۔

رات آہستہ آہستہ بیت رہی تھی اور راشد کے ذہن میں اُٹھنے والے کئی سوالات اسے بے چین کر رہے تھے ۔ایسے میں وہ کرسی سے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں یہ لالٹین یو نہی بے کار تو نہیں جل رہی ۔ہو سکتا ہے ،جس طرح اس رات میری امی میری طرف سے فکر مند تھیں اور بھوکی بیٹھی ہوئی تھیں،میرے محلے میں بھی کہیں کوئی ایسا گھر ہو ،جس میں کوئی ضرورت مند پریشان ہو ا ور اس وقت اس کی ضرورت کے پورا ہونے کا امکان بھی نہ ہو۔

بہت دیر تک ٹہلنے کے بعد وہ کچھ سوچ کر امی کے پاس گیا۔اس کا خیال تھا کہ امی گہری نیند سورہی ہیں،مگر اس وقت اسے حیرت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ امی کی آنکھ کھلی ہوئی ہے اور وہ اسے دیکھ رہی ہیں۔
”کیوں راشد بیٹا!کیا بات ہے ،سوئے نہیں ابھی تک؟“
”نہیں امی !نیند نہیں آرہی۔

امی اُٹھ کر بیٹھ گئیں۔
”نیند کیوں نہیں آرہی؟“انھوں نے فکر مند انہ انداز میں پوچھا۔
راشد نے بتایا:”امی !مجھے اس رات کا واقعہ یاد آگیا ،وہ واقعہ امی!جس میں ایک اجنبی شخص نے آپ کی مدد کی تھی۔آپ کو کھانا لا کر دیا تھا اور یہ لالٹین بھی آپ کے لیے چھوڑ گیا تھا۔

”ہاں بیٹا!دنیا میں ایسے نیک لوگ بھی ہوتے ہیں ۔کوئی فرشتہ تھا اللہ کا۔میں جان ہی نہ سکی کہ کون ہے اور کون نہیں۔“
راشد چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا:”امی!یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہمارے آس پاس بھی کوئی ایسا ہی گھر ہو ،جسے اس وقت کسی مدد کی ضرورت ہو؟“
امی نے راشد کو بازوپھیلا کر گود میں لے لیا:”ہو سکتا ہے بیٹا!“
”مجھے اجازت دیں امی !میں لالٹین لے کر باہر جاؤں اور کسی کو میری ضرورت ہوتو اس کی مدد کروں۔

امی سوچ میں پڑگئیں۔
”امی سوچیے نہیں۔آپ ہی نے تو کہا تھا کہ دنیا میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں ۔تو کیا آپ کا بیٹا ان نیک لوگوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔“
امی نے اس کے جواب میں بیٹے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:”جاؤ بیٹا!لالٹین لے جاؤ۔
اللہ تمھاری حفاظت کرے۔“
راشد لالٹین کی مدھم روشنی میں ایک کچے راستے پر آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔اس وقت تک وہ جہاں جہاں سے گزراتھا ،اس نے تقریباً سبھی گھروں میں روشنی دیکھی تھی۔گھروں کے اندر سے آنے والی آوازیں بھی سنی تھیں۔
اپنے محلے سے نکل کر وہ دوسرے محلے میں چلا گیا۔ایک گلی سے گزرتے ہوئے وہ ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں روشنی بالکل نہ تھی۔
”ان مکالموں کے اندر کیا لوگ نہیں رہتے!“
یہ سوال اس کے ذہن میں آیا اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی لالٹین کی روشنی میں ایک دروازے پر دستک دی۔

”کون ہے؟“یہ آواز کسی بوڑھے آدمی کی معلوم ہوتی ہے !!راشد نے سوچا۔
”جی میں ہوں۔“
”میں کون ؟“
”جی راشد۔“
پھر کئی منٹ یوں ہی گزر گئے۔آخر کار دروازہ کھلا۔راشد نے اپنے سامنے ایک کمزور اور نحیف بوڑھے کو دیکھا۔

”کون ہوتم اور کیا چاہتے ہو؟“بوڑھے نے پوچھا۔
”جناب ،رات طوفانی ہے ،ایسی رات میں گھر سے باہر نکلنا ذرا مشکل ہے ۔آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہوتو بتائیے۔“
اس لمحے بوڑھے نے جھک کر راشد کو دیکھا کچھ توقف کیا اور کہا:”اگر ایسا ہے تو مجھے بازار سے کچھ کھانے کے لیے لادو۔
اللہ تمھارا بھلا کرے گا۔“
”ضرور لادوں گا جناب!مجھے ایک دکان کا علم ہے جو رات بھر کھلی رہتی ہے۔“
”بڑی مہربانی۔یہ لو پیسے۔میرے لیے ایک بن کافی ہو گا۔بوڑھے نے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔
”نہیں ،باباجی!میرے پاس اتنے پیسے ہیں کہ آپ کے لیے بن خرید سکوں۔
“یہ کہہ کر راشد چل پڑا۔راشد نے سُن رکھا تھا کہ اسپتال کے پاس چند ایسی دکانیں ہیں جو رات بھر کھلی رہتی ہیں ۔ایک دکان پر بسکٹ وغیرہ بھی فروخت ہوتے ہیں ۔یہ دکانیں وہاں سے کافی دور تھیں۔کیچڑ میں چلنا ویسے بھی مشکل تھا اور اندھیری رات میں تو یہ کام اور بھی مشکل تھا۔
راشد ایک بار گربھی پڑا،مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی منزل پر پہنچ گیا۔وہاں ایک دکان سے اس نے ایک بن ،مکھن اور کچھ بسکٹ خریدے اور واپس چلنے لگا۔آدھے پونے گھنٹے کے بعد وہ دوبارہ بوڑھے کے دروازے پر آگیا۔
”لیجیے باباجی!“
”شکر یہ میرے بیٹے!اللہ تیرابھلا کرے۔

بوڑھا ،راشد کو اپنے کمرے میں لے گیا۔راشد کو چار پائی پر بٹھایا اور خود کھانا شروع کیا۔جب پیٹ بھر گیا تو وہ بولے:”بیٹا!یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔“
”کون سی بات باباجی!“
”بیٹا!آج سے کئی برس پہلے میں نے بھی ایسی ہی ایک طوفانی رات میں ایک عورت کے لیے کھانے کا انتظام کیا تھا۔

”تو آپ․․․․؟“راشد فقرہ بھی مکمل نہ کر سکا۔یہ سن کر اسے سخت حیرت ہوئی اور وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
”باباجی!کوئی اور خدمت؟“
”نہیں بیٹا!بہت بہت شکریہ۔“
راشد دروازے سے نکلنے لگا۔
”ارے بیٹا!لالٹین تولیتے جاؤ۔
“بوڑھے نے راشد کو لالٹین کے بغیر جاتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
”باباجی!یہ لالٹین آپ ہی کی ہے۔“اور راشد نے ساری بات سنادی۔
بوڑھے نے لالٹین اُٹھالی۔
”بیٹا!میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔بیمار بھی رہتا ہوں۔مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں۔یہ لالٹین تم جیسے نوجوانوں کے لیے ہے ۔ہاں اگر ممکن ہوتو روشنی کی اس علامت کو ایک کے بعد دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے رہنا۔“

مزید اخلاقی کہانیاں

Karoon Ka Khazana

قارون کا خزانہ

Karoon Ka Khazana

Naik Andesh

نیک اندیش

Naik Andesh

Jaisa Kro Gay

جیسا کرو گے

Jaisa Kro Gay

Kawe Ki Kambakhti

کوے کی کمبختی

Kawe Ki Kambakhti

کچے سوت کی انٹی

Kachay Sot Ki Anti

Shehzadi Ki Teen Shartain

شہزادی کی تین شرطیں۔۔۔تحریر: مختار احمد

Shehzadi Ki Teen Shartain

Ghareeb Hona Jurm Nehin

غریب ہونا جرم نہیں

Ghareeb Hona Jurm Nehin

Khawab Aur Naseehat

خواب اور نصیحت

Khawab Aur Naseehat

Zalim Badshah Ka Injaam

ظالم بادشاہ کا انجام

Zalim Badshah Ka Injaam

Maimnay Ka Bhai

میمنے کا بھائی

Maimnay Ka Bhai

Mehnat Karen Kamyabi Payen

محنت کریں کامیابی پائیں

Mehnat Karen Kamyabi Payen

Sachi Khabar

سچی خبر

Sachi Khabar

Your Thoughts and Comments