Ajnabi Ka Tohfa

Ajnabi Ka Tohfa

اجنبی کا تحفہ

مزمل جب آٹھ سال کاتھا تو اس کے ابوکا انتقال ہوگیا۔ بوڑھی ماں اور ایک چھوٹی بہن کی ذمے داری اس کے کندھوں پر آگئی، ان کا کوئی قریبی رشتے دار بھی نہیں تھا، جو ان کی کفالت کرسکے۔

گلاب خان سولنگی:
مزمل جب آٹھ سال کاتھا تو اس کے ابوکا انتقال ہوگیا۔ بوڑھی ماں اور ایک چھوٹی بہن کی ذمے داری اس کے کندھوں پر آگئی، ان کا کوئی قریبی رشتے دار بھی نہیں تھا، جو ان کی کفالت کرسکے۔
اسی وجہ سے مزمل نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑدی اور چھوٹی سی عمر میں محنت مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچ چلانے لگا۔
مزمل ایک نہایت شریف اور نیک لڑکا تھا۔ وہ ہرمشکل وقت میں اپنے پڑوسیوں کے کام آتا ۔ گھر میں اپنی بوڑھی ماں کی خدمت کرتا رہتا تھا۔
دوسری طرف وہ اپنی تعلیم چھوٹ جانے کی وجہ سے بہت افسردہ اور حالات کے آگے مجبور تھا، پھر بھی وہ ہروقت صبروشکر سے کام لیتا تھا۔ ایسے سخت اور کٹھن حالات میں بھی وہ خدا کی رحمت سے مایوس نہیں تھا۔ اسے اُمید تھی کہ ایک دن خدا کے فضل وکرم سے ان کے حالات ضرور بدلیں گے۔

(جاری ہے)

مزمل نے محنت میں کبھی عار محسوس نہیں کی۔یہی وجہ تھی کہ وہ چھوٹا بڑا کام نہایت خوشی سے کرلیتا تھا۔ وہ صبح سویرے پالش کاچھوٹا سابکس اٹھائے شہر کے مشہور چوک پرجاتا اور پورا دن لوگوں کے بوٹ پالش کرتا۔ اس طرح وہ اتنے پیسے کمالیتا تھا، جس سے اس کے گھر کاخرچ پورا ہوجاتا تھا۔
شام کو جب تھکا ہارا واپس آتا تھا، تب وہ اپنی ماں کی دعائیں لیتا، جس سے اس کی پورے دن کی تھکن دور ہوجاتی تھی اور روکھی سوکھی کھاکر خدا کاشکر ادا کرتا تھا۔ غربت کے باوجود مزمل اپنی حیثیت کے مطابق غریب اور نادار لوگوں کی مدد کرتا رہتا تھا۔

آج مزمل کے پاس گاہکوں کا بڑا رش تھا کہ اچانک ایک کار اس کے پاس آکر رکی۔ ایک سیٹھ کار میں سے اُترا اور سیدھا مزمل کے پاس آیا: لڑکے! جلدی سے میرے بوٹ پالش کردو۔
مزمل نے بھی جلدی جلدی اس کے بوٹ چمکادیے تو سیٹھ نے بٹوے میں سے رقم نکال کرمزل کو ہاتھ میں دینے کے بجائے نیچے زمین پر پھینک دی اور بڑے غرور سے بولا: لڑکے ! اُٹھاؤ، اپنی مزدوری۔

مزمل نے بڑے اعتماد سے کہا: سیٹھ صاحب! میں نیچے پھینکی ہوئی چیزیں نہیں اُٹھاتا۔ اگر مزدوری دینی ہے تو وعزت سے ہاتھ میں کیوں نہیں دیتے؟ شاید آپ نے یہ حدیث نہیں سنی کہ مزدور خدا کادوست ہوتا ہے۔ سیٹھ صاحب! ہماری بھی عزت ہے۔
کیا ہوا، جو ہم غریب ہیں، کل اگر وقت اور حالات نے آپ کو بھی غریب بنادیا تو سوچیں آپ یہ رویہ برداشت کرسکیں گے!
مزمل کہتا گیا اور وہ سیٹھ خاموشی سے سنتا گیا۔ سیٹھ کو اپنی غلطی کااحساس ہوگیا تھا اس نے وہ رقم زمین سے اُٹھائی اور مزمل کو دیتے ہوئے کہا: بیٹا تم نے مجھے غلطی کا احساس دلایا، اس لیے میں تمھارا شکر گزار ہوں اور اپنے اس رویے کی معافی مانگتا ہوں۔
مجھے اُمید ہے کہ خدا بھی مجھے معاف کردے گا۔ میں اب کبھی غرور اور تکبر نہیں کروں گا۔
سیٹھ صاحب! غلطی کااحساس ہی اس کی سزا ہوتی ہے۔ اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ یہ کہہ کر مزمل نے اس سے پیسے لیے اور اپنے کام میں لگ گیا۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزمل کو اپنی بہن گڑیا کی تعلیم اور والدہ کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں کافی فکر ہونے لگی تھی۔
اب تو اس نے رات کو بھی کام پرجانا شروع کردیا تھا، لیکن ان کے حالات نہیں بدلے۔
ایک دن مزمل کے پاس ایک اجنبی شخص آیا۔ وہ کافی جلدی میں دکھائی دے رہا تھا، اس نے مزمل سے کہا: بیٹا جلدی سے میرے بوٹ پالش کردو۔
مزمل نے بھی دیر نہیں لگائی اور جلد سے بوٹ پالش کرکے اس کو دیے۔
اس اجنبی نے جب اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف کریڈٹ کارڈ نکلا۔ نوٹ بھی ہزار، پانچ سورپے کے تھے۔
بیٹا! اس وقت تو میرے پاس چھوٹے نوٹ نہیں ہیں اور میں جلدی میں ہوں۔ تم ایسا کرو، یہ پرانا پرائز بانڈ رکھ لو، میری تو قسمت میں شاید انعام نہیں ہے، البتہ اگر تمھارا نصیب اچھا ہوا تو یہ ضرور نکلے گا۔

اس اجنبی شخص نے جب وہ انعامی بانڈ مزمل کے حوالے کرنا چاہا تومزمل نے وہ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا: کوئی بات نہیں صاحب جی! آپ اگلی مرتبہ پیسے دے دیجیے گا۔
و ہ اجنبی بولا: بیٹا میں اس شہر میں اجنبی ہوں اور اپنا ضروری کام نمٹاکے واپس اپنے شہر چلا جاؤں گا، اس لیے یہ انعامی بانڈ میں اپنی رضا مندی سے آپ کو دے رہا ہوں۔
آپ اسے میری طرف سے تحفہ سمجھ کر رکھ لو۔
اس اجنبی کے بے حداصرار مزمل نے وہ پرائز بانڈ اپنے پاس رکھ لیا اور تھوڑی دیر بعد وہ اجنبی بھیڑ میں کہیں غائب ہوگیا۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا۔ ایک دن مزمل حسب معمول اپنے کام میں مصروف تھا کہ ایک اخبار فروش کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی: انعامی بانڈ کارزلٹ آگیا۔

تب مزمل کو خیال آیا کہ اس کے پاس بھی تو ایک انعامی بانڈ پڑا ہے۔اس نے وہ انعامی بانڈ اپنے پالش والے بکس سے نکالا اور اخبار فروش سے کہا: بھائی! مہربانی کرکے یہ میرا نمبر چیک کرکے دو۔
اخبار فروش نے اس سے انعامی بانڈلیا اور اس کا نمبر اخبار میں تلاش کرنے لگا اور پھر وہ زور سے چلایا: مبارک ہو، مبارک ہو، تمھارا پچاس لاکھ روپے کا انعام نکلا ہے۔

یہ سنتے ہی مزمل کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اس نے خدا کا شکرادا کیا۔ وہ سیدھا اپنے گھر آگیا۔ جب اپنی امی اور بہن کو یہ خوش خبری سنائی تو وہ بھی بہت خوش ہوئیں۔
آج مزمل کا شمار شہر کے چند مال دار لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس نے جوتے بنانے کی فیکٹری قائم کرلی تھی، جہاں سے پورے ملک میں مال بھیجا جاتا تھا۔
اس کی والدہ کاعلاج شہر کے ایک اچھے اہسپتال میں ہورہا تھا۔ اس کی بہن گڑیا اعلا تعلیم حاصل کرکے ایک فلاحی اسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کررہی تھی۔
مزمل نے بھی گریجویشن کرلیا تھا۔ گاڑی، بنگلا، نوکر چاکر غرض خدانے اسے ہر نعمت سے نوازا تھا۔
مزمل نے شادی بھی کرلی اور اب اپنی زندگی فلاحی کاموں کے لیے وقف کررکھی تھی۔ اس نے یتیم اور غریب بچوں کے لیے اسکول اور ہاسٹل بھی کھول رکھے تھے، جہاں انھیں مفت تعلیم وتربیت کے ساتھ رہنے کی جگہ بھی دی جاتی تھی۔
اتنی ساری دولت کے باوجود بھی مزمل اپنا پرانا وقت کبھی نہیں بھولا تھا۔
وہ رات کو روزانہ اپنا پرانا پالش والا بکس کھول کے دیکھتا تھا، جوا بھی تک اس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، پھر کسی سوچ میں ڈوب جاتا تھا اور آبدیدہ ہو کر خدا کاشکر ادا کرتا تھا۔
ایک دن اس کی بیوی نے پوچھ ہی لیا تو اس نے جواب دیا: بیگم انسان کو اپنی حیثیت کبھی نہیں بھولنی چاہیے میں اس پالش کے بکس میں اپنی غربت یاد کرتا ہوں، تاکہ دولت کے نشے میں کہیں مغرورنہ ہوجاؤں۔ اس طرح مجھے سکون ملتا ہے اور میں اپنے خدا کاشکرا دا کرتا ہوں۔

Your Thoughts and Comments