Allah Par Bharosa - Article No. 1357

اللہ پر بھروسہ

والدہ سے آخری بار بلند آواز سے بات کئے کئی برس بیت گئے۔ تب ابا جی نے ایک جملہ کہا تھا جس کے بعد میری آواز گلے میں ہی کہیں دب گئی۔ کہنے لگے

جمعہ اپریل

Allah par bharosa

والدہ سے آخری بار بلند آواز سے بات کئے کئی برس بیت گئے۔ تب ابا جی نے ایک جملہ کہا تھا جس کے بعد میری آواز گلے میں ہی کہیں دب گئی۔ کہنے لگے۔ بیٹا اگر اتنا پڑھ لکھ کر بھی یہ نہ سیکھ پائے کہ بزرگوں سے بات کیسے کرنی ہے تو کل سے کالج نہ جانا۔

جو تعلیم اچھا انسان نہ بنا پائے اس کا مقصد ہی کیا ہے۔ کمائی تو سنیارے کی دکان کے باہر گندی نالی سے کیچڑ چھاننے والا ان پڑھ بھی کئی پڑھے لکھوں سے زیادہ کر لیتا ہے۔
اسی طرح پہلی اور آخری بار روزگار کا خوف تب ختم ہو گیا تھا جب ہم انتہائی سخت حالات کا شکار تھے۔
چند ہزار کی ایک ملازمت کے دوران کسی نے ایسی بات کر دی جو برداشت نہ کر پایا۔ دفتر سے ہی ابا جی کو مشورہ کے لئے فون کیا تو کہنے لگے۔ ملازمت چھوڑنے کے لئے مجھے فون تب کرنا جب خدا پر اعتبار نہ ہو۔

(جاری ہے)

اس مالک نے رزق کا وعدہ کیا ہے نا تو پھر اس کے وعدے پر یقین بھی رکھو یا پھر اسے مالک تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہو؟ یہاں ملازمت کے لئے دل نہیں مانتا تو ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہ کرنا۔

میں نے فون بند کیا اور اسی وقت استعفی لکھ دیا ۔ چار دن میں بے روزگار رہا۔ ان چار دنوں میں جتنا فکر مند رہا ابا جی اتنے ہی مطمئن نظر آئے اور پانچویں دن مجھے ایک ایسے ادارے سے فون کال آ گئی جہاں میں نے ایک سال قبل ایک دوست کے کہنے پر مذاق مذاق میں سی وی بھیجی تھی اور مجھے اب یاد تک نہ تھا ۔
تنخواہ پیکج پہلی ملازمت سے تین گنا تھا ۔ اس کے بعد سے یہی ہوتا آیا ہے ۔ جب بھی خدا کے بھروسے کسی ملازمت سے استعفی دیا ، اللہ نے پہلے سے بڑھ کر نواز دیا۔ رب کی مہربانیوں کی طویل داستانیں ہین جن کا عینی شاہد ہوں ۔ ایک بار صورت حال یہ تھی کہ جب ابا جی اپنا گھر تعمیر کر رہے تھے تو ٹائلوں کے لئے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کم پڑ گئے۔
ہم سب قدرے پریشان تھے تو ایک دن ابا جی کہنے لگے ۔ بیٹا میں ساری عمر حرام سے بچا ہوں اور تم سب کو بچایا ہے،
مجھ سمیت میرے خاندان کے کسی فرد نے کسی کا حق نہیں کھایا تو یہ کیسے ممکن ہے مجھے ضرورت ہو اور رب عطا نہ کرے۔ تب عجیب سا لگا نہ کوئی وسیلہ ، نہ کہیں سے امید ۔
ابا جی کی ملازمت کے آخری ماہ تھے ۔ اچانک خبر ملی ،ابا جی کو پنجاب کا بیسٹ آفسر قرار دیا گیا ہے ۔ وزیراعلی کی جانب سے ایوارڈ کے ساتھ ساتھ کیش انعام بھی تھا ۔ اس انعام کے باوجود ابھی بھی پچاس ہزار کم تھے ۔ ابا جی کہنے لگے میں مقابلے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا صرف اپنافرض ادا کرتا رہا ہوں ۔

خدا نے اس انعام کا حق دار قرار دلا کر یہ رقم دلوا دی ہے تو باقی رقم کا انتظام بھی وہی کر دے گا ، میں اس کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائوں گا۔ اسی ہفتے اگلی خبر یہ ملی کہ محکمہ کی جانب سے بھی بہترین آفیسر قرار دیتے ہوئے کیش انعام دیا جا رہا ہے ۔
ہمیں جتنی رقم کی ضرورت تھی اس سے زیادہ رقم عزت کے ساتھ آ گئی تھی ۔ اس دن سے ایمان پختہ ہو گیا ۔ ہم کسی کا حق نہ ماریں تو خدا ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ ابا جی کی زندگی ایسے ہی معجزوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ان بظاہر عام سی باتوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے سو اب ڈر نہیں لگتا۔ نہ کسی سے ہارنے کا ، اور نہ ہی رزق کی کمی کا ۔ میں گھر میں سب سے زیادہ نکما ہوں ۔ جب سب تہجد کے لیے اٹھتے ہیں تب سوتا ہوں لیکن رب مجھے بھی میری سوچ سے زیادہ نواز دیتا ھے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Bola Our Mara Gaya

بولا اور مارا گیا

Bola Our Mara Gaya

Munna Mera Dost

مُنّا میرا دوست

Munna Mera Dost

Burai Ka Jawab

برائی کا جواب

Burai Ka Jawab

Gumnaam Dost

گمنام دوست

Gumnaam Dost

Pahaile

پہیلی

Pahaile

Jhoot Sach Adha Adha

جھوٹ سچ آدھا آدھا

Jhoot Sach Adha Adha

Billi Sher Ki Khala

بلی شیر کی خالہ

Billi Sher Ki Khala

Moti Ki Aqalmandi

موتی کی عقل مندی

Moti Ki Aqalmandi

Gumshuda Sherwani

گم شدہ شیروانی

Gumshuda Sherwani

Tashkent Ka Lakarhara

تاشقند کا لکڑ ہارا

Tashkent Ka Lakarhara

Zyada Acha Kon?

زیادہ اچھا کون؟۔۔تحریر:مختاراحمد

Zyada Acha Kon?

Shahid Ki Billi Kaise Mari

شاہد کی بلی کیسے مری

Shahid Ki Billi Kaise Mari

Your Thoughts and Comments