Anaya Ke Gurya

عنایہ کی گڑیا۔۔۔تحریر: مبشرہ خالد

دوستو آپ تو اپنی گڑیا کو ساتھ لے کر نہیں جاتے کیونکہ اگر وہ کھوجائے تو ایک دوست کھوجاتا ہے جس کا کوئی ردوبدل نہیں ہوتا اور اس کا احساس کم ہی ہوتا ہے

جمعہ اکتوبر

anaya ke gurya
اس کا نام عنایہ تھا جب کوئی اسے پیار سے عنو کہتا تو وہ کہتی میں عنو نہیں عنایہ ہوں بھوری رنگ کی آنکھوں کو مٹکا مٹکا کر وہ سب کو اپنا گرویدہ بنالیتی کوئی اس کی کسی ادا پر فدا ہوتا اور کوئی کسی، اپنے آپ میں مگن زندگی سے خوش اور مطمئن اپنے ماما ،بابا کے لیے اپنے نام کی طرح اللہ کی عنایت اسے کھلونوں سے کھیلنے کا بے حد شوق تھا کبھی اپنے پاس موجود گیندوں سے کھیلتی رہتی اور جب ان سے کھیلنا اچھا نہیں لگتا تو اپنے دیگر کھلونوں میں مصروف ہوجاتی۔
مگر آپ سب ہی کی طرح اس کا بھی ایک پسندیدہ کھلونا تھا اور وہ تھی اس کی گڑیا جو اس نے اپنے بابا کے ساتھ جاکر دُکان سے ضد کرکے خریدی تھی لال کپڑے پہنی ہوئی۔ اس گڑیا کو وہ خود سے بے حد قریب رکھتی اور اپنے کندھے پر ڈال کر ادھر سے ادھر گھومتی رہتی اور جب کبھی وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی تو ماما سے اس کا ایک ہی سوال ہوتا ماما بے بی کہاں ہے؟کیونکہ اس نے اپنی گڑیا کا نام بے بی رکھ لیا تھا سب اس سے کہتے یہ بے بی نہیں گڑیا ہے مگر اس کا جواب یہیں ہوتا نہیں یہ گڑیا نہیں میری بے بی ہے ۔

(جاری ہے)

آج اتوار کا دن تھا وہ اپنے ماما،بابا کے ساتھ اتوار کے دن فن لینڈ گھومنے جاتی تھی اس کا یہ اصرار ہوتا کہ وہ اپنی بے بی کو اپنے ساتھ لے کر جائے گی مگر اس کی ماما اسے یہیں سمجھاتی کہ وہ کسی جھولے پر اپنی بے بی کو بھول جائیگی اور پھر بہت روئے گی وہ ماما کی بات مان جاتی اور بے بی کو گھر میں رکھ دیتی مگر آج وہ کسی صورت ماننے کو تیار نہیں تھی ماما نے بھی اجازت دے دی اور وہ خوشی خوشی اپنی گڑیا (بے بی)کو فن لینڈ لے گئی فن لینڈ پہنچ کر وہ اپنے پسندیدہ رائیڈنگ ہارس کی طرف گئی اور اپنی بے بی کے ساتھ اس پر بیٹھ گئی ماما ،بابا اس کے ساتھ ساتھ تھے ۔
جب رائیڈنگ ہارس رکا تو اس کو آئسکریم کی دکان نظر آگئی اور وہ آئسکریم کے لیے دکان کی طرف بھاگی اور اپنی بے بی کو جھولے پر ہی بھول گئی ماما،بابا بھی اس کے پیچھے بھاگے تاکہ اسے چوٹ لگنے سے بچا سکے ایسے میں انھیں بھی گڑیا کا خیال نہیں رہا ۔
بابا نے عنایہ کے لیے آئسکریم خریدی جو اس نے بے حد شوق سے کھائی آئسکریم کھانے کے بعد اسے اپنی بے بی کا خیال آیا اور وہ اسے ڈھونڈنے رائیڈنگ ہارس کی طرف بھاگی مگر اس کی پسندیدہ گڑیا جسے وہ بے بی کہتی تھی کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں تھا کوئی اس کی بے بی کو لے کر جاچکا تھا اور اب وہ رورہی تھی ماما،بابا نے اسے بامشکل چپ کرایا بابا نے اسے یقین دہانی کروائی کہ بابا اسے نئی گڑیا لادینگے مگر وہ چپ ہی نہیں ہورہی تھی کیونکہ کوئی بھی نئی گڑیا اس کی بے بی کی جگہ نہیں لے سکتی تھی ۔
کیوں کرنہیں دوستو آپ تو اپنی گڑیا کو ساتھ لے کر نہیں جاتے کیونکہ اگر وہ کھوجائے تو ایک دوست کھوجاتا ہے جس کا کوئی ردوبدل نہیں ہوتا اور اس کا احساس کم ہی ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments