Aqalmand Ki Talash

عقل مند کی تلاش

بہت دنوں کی بات ہے کہ کسی ملک کے ایک انصاف پسند بادشاہ کا وزیر مر گیا۔وہ وزیر بہت عقل مند اور نیک انسان تھا

بدھ مئی

Aqalmand Ki Talash

ندیم علیگ
بہت دنوں کی بات ہے کہ کسی ملک کے ایک انصاف پسند بادشاہ کا وزیر مر گیا۔وہ وزیر بہت عقل مند اور نیک انسان تھا،جو بادشاہ کو رعایا کی بھلائی کے لیے اچھے مشورے دیتا تھا۔بادشاہ اس کو بہت عزیز رکھتا تھا اور اس پر مکمل بھروسا کرتا تھا۔

بادشاہ کو اس کی موت کا بہت افسوس تھا۔بادشاہ کو ہی نہیں اس ملک کے عوام کو بھی وزیر کی موت کا غم تھا۔بادشاہ اپنے درباریوں میں سے کسی کو بھی اپنا وزیر بنا سکتا تھا ،لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کے ہی کسی عقل مند آدمی کو وزیر بنائے گا۔

بادشاہ اپنے ایک وفادار ملازم کے ساتھ رات کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حالات جاننے کے لیے نکلتا تھا۔اس طرح وہ خود ملک کے حالات سے واقفیت حاصل کرتا تھا کہ اس کی رعایا اپنے ملک اور بادشاہ کے بارے میں کیا سوچتی ہے ۔

(جاری ہے)

ایک بار آدھی رات کے وقت وہ شہر کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اندھیرے کی وجہ سے ایک آدمی سے ٹکڑا گیا۔

بادشاہ نے پوچھا:تم کون ہو اور رات کے وقت یہاں کیا کررہے ہو؟
اس شخص نے جواب دیا:میں اس شہر کا ایک شریف انسان ہوں اور بے وقوفوں کو عقل مند بنانے کے گر سکھلاتا ہوں۔مجھے چوروں کا خوف نہیں ہے ،کیوں کہ میرے پاس چوروں کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔

بادشاہ گھوم پھر کر اپنے محل پہنچا اور دوسرے دن اس نے حکم جاری کیا کہ شہر میں رات کے وقت ہر شخص ہاتھ میں چراغ لے کر نکلا کرے۔جو شخص ایسا نہیں کرے گا ،اس کو سخت سزادی جائے گی۔
کچھ دنوں بعد بادشاہ رات کے وقت شہر کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ وہ ایک آدمی سے ٹکڑا گیا۔
بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے پوچھا تم کون ہو اور اس وقت یہاں کیا کررہے ہو؟
جناب!میں اس شہر کا ایک معزز آدمی ہوں اور بے وقوفوں کو عقل سکھلاتا ہوں۔بادشاہ نے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے ،جو چند دن قبل اس سے ٹکڑا یا تھا۔

کیا تم نے بادشاہ سلامت کا حکم نہیں سنا کہ رات کے وقت ہر آدمی ہاتھ میں چراغ لے کر نکلا کرے۔تم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی،اس لیے تم کو سخت سزاملے گی۔بادشاہ نے غصے میں کہا۔
جنا ب والا!میرے ہاتھ میں چراغ ہے ،آپ دیکھ سکتے ہیں ۔
اس آدمی نے جواب دیا۔
مگر یہ روشن کیوں نہیں ہے ؟جناب والا! بادشاہ سلامت کے حکم میں صرف اتنا ہے کہ ہر آدمی ہاتھ میں چراغ لے کر چلے۔یہ حکم نہیں دیا کہ اس میں تیل بھی ہو اور وہ روشن بھی ہو۔
بادشاہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اس آدمی نے پھر کہا:میرا خیال ہے کہ بادشاہ کے دربار میں عقل مند وزیروں کا قحط ہے ،ورنہ ایسا حکم صادر کرنے سے پہلے وہ بادشاہ سلامت کی توجہ دلاتے۔میری دعا ہے کہ خداہمارے بادشاہ سلامت کو ایک عقل مندوزیر باتدبیر عطا فرمائے۔

بادشاہ یہ بات سن کر دل ہی دل میں بہت شرمندہ ہوا۔وہ اس آدمی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور باتوں میں اس کے بارے میں ذاتی معلومات اس سے حاصل کرلیں۔
بادشاہ نے پوچھا:تمھار اپیشہ کیا ہے ۔اس نے جواب دیا:جناب والا!میں ایک مدر سے میں استاد ہوں اور عقل مند بنانے والی وہ عظیم کتابوں کا حافظ ہوں۔
اس کے علاوہ بہت ساری ایسی کتابیں پڑھاتا ہوں جو انسان کو عقل مند بنا کر ان کو کامیاب انسان بنا سکتی ہیں۔میرے استاد نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر کوئی آدمی گلستان اور بوستان کی حکاتیوں کو سمجھ کر پڑھے اور غور کرے تو ایک دن وہ عقل مند ترین انسان بن کر کسی بادشاہ کے دربار میں جگہ پا سکتا ہے ۔
باتیں کرتے کرتے اس عقل مند انسان کا گھر آگیا اور وہ رخصت ہو گیا۔بادشاہ نے اس کے مکان اور محلے کو ذہن نشین کرلیا اور اپنے محل میں واپس چلاگیا۔
دوسرے دن بادشاہ نے اپنے شاہیوں کو حکم دیا کہ اس عقل مند انسان کو عزت کے ساتھ ہمارے حضور پیش کیا جائے۔

بادشاہ اس کی گفتگو اور عالمانہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا اور اس کو اپنا وزیر بنا لیا۔اس وزیر نے بادشاہ کو بہت اچھے اور مفید مشورے دیے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ شہر کے سارے باشندوں کو مفت چراغ اور تیل فراہم کیا جائے اور گلی کو چوں میں رات کو روشنی کرنے کے لیے چراغ تھا مے نوکر رکھے جائیں۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ استادوں کے علاوہ بھی شہر کے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ شیخ سعدی شیرازی کی کتابیں گلستان وبوستان ضرور پڑھے ۔یہ تو ایک حکایت تھی ،لیکن سچ ہے کہ دنیا کہ عقل مند بنانے والی کتابوں میں گلستان بوستان بہت مشہور کتابیں ہیں اور ان کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ہو چکا ہے ۔ان کو پڑھ کر آ پ اپنی عقل ودانش میں اضافہ ضرور کر سکتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments