Aqalmand Kisaan - Article No. 1754

عقلمند کسان

غریب کسان اپنی عقلمندی سے نہ صرف ظالم سردار کے ظلم سے بچ گیا،بلکہ اپنا خزانہ بھی بچا لیا۔

جمعرات جون

Aqalmand Kisaan
محمد مقبول الٰہی
ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتا تھا۔کھیتوں کی مکمل پہرے داری کرتا تھا،مگر جب فصل پک کر تیار ہو جاتی تو گاؤں کا سردار اس کی ساری فصل زبردستی لے لیتا اور اسے تھوڑا سا حصہ دے دیتا۔
کسان اور اس کی بیوی کی بڑی مشکل سے گزر اوقات ہوتی تھی۔ایک دن کسان کھیت میں کھدائی کر رہا تھا۔بے خیالی میں وہ زیادہ زمین کھود گیا۔اچانک ہی اسے محسوس ہوا کہ زمین کے اندر کچھ ہے۔اس نے بڑی مشکل سے وہاں سے ایک صندوق نکالا۔وہ بڑا حیران ہوا۔
اس نے صندوق کھولا۔اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔صندوق ہیرے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا۔اس نے سوچا کہ اس بات کا علم گاؤں کے سردار کو نہ ہونا چاہیے ورنہ وہ اس کو زبردستی چھین لے گا۔

(جاری ہے)


وہ خزانے کو چھپتے چھپا کر گھر لے آگیا۔

اس نے اپنی بیوی سے پوچھا،”اس دولت کو کہاں چھپایا جائے؟“
بیوی نے جواب دیا،”اس کو ہم صحن میں دفن کر دیتے ہیں۔“
کسان نے ایسا ہی کیا۔کچھ دیر بعد اس کی بیوی کہنے لگی،”میں پانی بھرنے جا رہی ہوں۔“
بیوی کے جانے کے بعد کسان سوچ میں پڑ گیا۔
وہ اپنے دل میں کہنے لگاکہ میری بیوی اس دولت کا ذکر دوسری عورتوں سے ضرور کرے گی اور پھر اس راز کا علم سردار کو بھی ہو جائے گا۔یہ خیال آتے ہی کسان اٹھا اور ہیروں سے بھرا صندوق صحن سے نکالا اور گھر سے باہر ایک خفیہ جگہ میں دفن کر دیا اور واپس آگیا۔
جب اس کی بیوی گھر آئی تو اس نے سنجیدگی سے کہا،”کل ہم جنگل سے مچھلیاں پکڑ کر لائیں گے۔“
بیوی نے حیران ہو کر کہا،”مچھلیاں اور جنگل سے؟خوشی سے تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟“
کسان مسکرا کر بولا،”کل جب تم جنگل جاؤ گی تو خود دیکھ لینا۔

اگلے دن کسان سورج نکلنے سے پہلے گھر سے نکلا اور گاؤں کے مچھیرے سے بہت ساری تازہ مچھلیاں خرید لایا۔اس نے تندور کی روٹیاں بھی خریدیں اور جنگل کی طرف چل پڑا۔وہاں ایک جگہ دیکھ کر اس نے مچھلیاں زمین پر پھیلا دیں اور کچھ آگے جا کر درختوں پر روٹیاں لٹکا دیں۔
یہ سب کام کرکے وہ گھر واپس آگیا۔اس کی بیوی ابھی تک سو رہی تھی۔
جب سورج نکلا تو کسان اپنی بیوی کو لے کر جنگل کی طرف چل پڑا۔اس کی بیوی نے زمین پر مچھلیاں دیکھیں تو حیران رہ گئی۔پھر اس نے سب مچھلیوں کو اپنی ٹوکری میں رکھ لیا ۔
آگے جا کر درختوں پر روٹیاں دیکھیں تو کسان سے کہنے لگی،”درختوں پر روٹیاں لگی ہوئی ہیں۔“
کسان نے کہا،”یہاں روٹیوں کی بارش ہوتی ہے۔کچھ روٹیاں درختوں پر اٹک جاتی ہیں۔“اس کی بیوی بڑی حیران ہو رہی تھی۔
کسان اور اس کی بیوی کے دن پھر گئے۔
اب وہ پہلے سے زیادہ اچھا کھاتے تھے۔تھوڑے دن بعد ہر طرف یہ بات پھیل گئی کہ کسان کو کوئی خزانہ مل گیا ہے۔اب یہ راز بھی نہیں رہا تھا ۔ہر کوئی جانتا تھا کہ خزانہ اس نے گھر کے صحن میں چھپا رکھا ہے۔پھر بھلا یہ بات سردار سے کیسے چھپی رہ سکتی تھی ۔
پہلے اس نے کسان کی بیوی کو اور پھر کسان کو اپنے ہاں بلوایا۔کسان جب سردار کے پاس گیا تو سردار نے کہا،”کیا یہ سچ ہے کہ تمہیں ہیرے جواہرات سے بھرا صندوق ملا ہے؟“
کسان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا،”یہ بالکل جھوٹ ہے۔

سردار نے گرج کر کہا،”تمہاری بیوی مجھے سب کچھ بتا چکی ہے۔“
کسان نے ہاتھ جوڑ کر کہا،”میری بیوی کا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔یہ تو آج کل الٹی سیدھی باتیں کرنے لگی ہے۔“
جب کسان کی بیوی نے یہ سنا کہ اس کا شوہر اسے پاگل کہہ رہا ہے تو وہ غصے سے بولی،”حضور!جو کچھ میں نے بتایا ہے وہ حقیقت ہے ۔
یہ صندوق ہمارے صحن میں دفن ہے۔“
سردار نے خوش ہو کر پوچھا،”یہ ہیرے جواہرات کا صندوق کس دن ملا تھا؟“
کسان کی بیوی نے کہا،”اس دن صبح کو جس کے ایک دن بعد ہم جنگل سے مچھلیاں پکڑنے گئے تھے۔یہ سچ ہے ۔یہ وہ دن تھا جب آسمان سے پکی پکائی روٹیوں کی بارش ہوئی تھی۔

یہ عورت تو واقعی پاگل ہے۔”سردار نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا۔
سردار کے ایک خادم نے سردار کے کان میں کچھ کہا۔سردار نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ کسان کے گھر جاؤ اور صحن کھود کر خزانے کا پتا لگاؤ۔خادموں نے سارا صحن کھود ڈالا ،مگر وہاں انہیں کوئی خزانہ نظر نہ آیا۔وہ سب واپس چلے گئے ۔یوں غریب کسان اپنی عقلمندی سے نہ صرف ظالم سردار کے ظلم سے بچ گیا،بلکہ اپنا خزانہ بھی بچا لیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Khzany Ki Talash

خزانے کی تلاش

Khzany Ki Talash

Kiraye Ke Library

کرائے کی لائبریری۔۔۔تحریر: مختار احمد

Kiraye Ke Library

Zarorat Buri Bala Hai

ضر ورت بُری بلا ہے

Zarorat Buri Bala Hai

Hamdardi

ہمدردی

Hamdardi

Asim Ki Kahani

عاصم کی کہانی

Asim Ki Kahani

Lakar Harray Ka Beta

لکڑ ہارے کا بیٹا۔۔۔۔ تحریر: مختار احمد

Lakar Harray Ka Beta

Jaib Katra

جیب کترا

Jaib Katra

Urdu Akhabarat Ki Tareekh

اردو اخبارات کی تاریخ

Urdu Akhabarat Ki Tareekh

Aazmaish

آزمائش

Aazmaish

Rikshey Wala Saith

رکشے والا سیٹھ

Rikshey Wala Saith

Kawwa Aur Sami Ullah

کوااور سمیع اللہ

Kawwa Aur Sami Ullah

Bara Mujrim

بڑا مجرم

Bara Mujrim

Your Thoughts and Comments