Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

عقلمند وزیر کے حاسد دشمن

پیارے بچوں ! حسد ایک بیماری ہے مگر حاسدوں کا حال ہمیشہ براہی ہوتا ہے ۔

فاطمہ :
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ملک میں امن وامان تھا ، رعایا پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں تھا، ہر طرف خوشحالی تھی ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر بادشاہ کو الٹی سیدھی باتیں بتاتے رہتے تھے ، ان سب کا ٹارگٹ اکثر وزیر ہوتا، اس طرح کئی وزیر سوا ہوئے اور کئی ایک کوبادشاہ نے مروادیا ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے ۔

ایک دن بادشاہ نے ایک نیاوزیر مقرر کیا ، اس وزیر کو چند دنوں میں پتہ چل گیا کہ دربار میں حاسدی ٹولہ بہت خطرناک ہے وزیر ان کی طرف سے محتاط ہو گیا، وہ انہیں اہمیت نہ دیتا جس کی وجہ سے وہ اس کے خلاف ہوگئے ۔ ایک دن ایک درباری نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہابادشاہ نے ایک بکری منگوائی اور وزیر سے کہا ۔

(جاری ہے)

کہ یہ بکری لے جاؤ ایک ماہ بعد اس کا وزن اتناہی ہوناچاہئے اسے خوراک ہماری طرف سے دی جائے گی یہ سن کر وزیر پریشان ہوگیااور حاسدی ٹولہ بغلیں بجانے لگا ۔
وزیر بکری لے کر اپنے گھر گیااور سوچ بچار کرنے لگاآخر ایک ترکیب اس کے ذہن میں آگئی اس پر عمل کرنے لگا، ایک ماہ بعد بادشاہ نے بکری منگوائی اس کا وزن کیاتقریباََ اتنا ہی تھا جتنا پہلے تھا ۔
بادشاہ اور حاسدی ٹولہ حیران رہ گیا کہ وزیر ان کے کاری وار سے بچ گیا ہے ۔ بادشاہ نے حیرانگی سے پوچھا ۔ کہ اس نے کیاترکیب کی کہ بکری کاوزن نہ بڑھااور نہ کم ہوا ۔
وزیر نے عرض کیا : عالی جاہ ! اچھی خوراک کی وجہ سے اس کاموٹا ہونا فطری تھا، میں خوراک کے بعد اسے شیر کے سامنے باندھ دیتا تھا جس کے خوف سے اس کا خون خشک رہتا اور موٹی نہ ہوتی اور اچھی خوراک کی وجہ سے کمزور بھی نہ ہوتی ، بادشاہ یہ ترکیب سن کر بہت خوش ہوا سے انعام وکرام سے نوازا اور حاسدوں کوڈانٹ پلائی اب حاسد اور بھی دشمن ہوگئے وہ کسی موقع کی تاک میں تھے تاکہ وزیر سے بدلہ لیا جاسکے اور یہ موقع نہیں جلد ہی مل گیا ۔

بدقسمتی سے کچھ عرصہ بعد ملک میں سیلاب آگیا ہزاروں مکانات اور فصلیں تباہ ہوگئیں ، بادشاہ نے وزیر کی ڈیوٹی لگائی کہ عوام کی داد رسی کی جائے ، وزیر نے فی کس دیناروں کے علاوہ قرضے بھی دیئے ، قرضہ دیتے وقت وہ ان کے کان میں کچھ کہتا تھا، حاسدوں نے پتہ لگوایا کہ وزیر کیا کہہ رہا تھا ، کچھ سادہ لوح افراد نے بتایا کہ وزیر کہہ رہا تھا کہ قرض بادشاہ کی وفات کے بعد وصول کرلے گا ۔
بس اتنا سننا تھا کہ حاسد بادشاہ کے پاس جاپہنچے اور بڑھا چڑھا کہ بیان کیا یہ سن کر بادشاہ کو سخت غصہ آیا اس نے فوراََ وزیر کو حاضر ہونے کا حکم دیااور کہا میں نے ایسے سنا ہے تم میرے مرنے کاانتظار کررہے ہواور اس کے بعد دولت اکٹھی کرو ؟
اس پر وزیر نے سرجھکاتے ہوئے کہا: عالیجاہ ! آپ نے ٹھیک سنا ہے میں نے یہی کہا ہے مگر میری نیت یہ نہ تھی ۔
پھر تمہاری نیت کیا تھی ؟ ایک حاسد جلدی سے بولا۔ میری نیت یہ تھی کہ جن غریب لوگوں کے مکانات اور فصلیں تباہ ہوئی ہیں وہ عرصہ دراز تک قرض واپس کرسکت وہ لمحہ بادشاہ سلامت کی زندگی کیلئے دعائیں مانگتے رہیں گے کہ خدانخواستہ اگر بادشاہ سلامت وفات پاگئے تو انہیں قرضہ واپس کرنا پڑے گا۔
اتنا سننا تھا کہ بادشاہ بہت خوش ہو اس نے فوراََ حاسدوں کو دربار سے نکل جانے کا حکم دے دیااور وزیر کو انعام واکرام سے نوازا۔
پھر درباریوں کی طرف دیکھتے ہوئے بادشاہ نے کہا۔ ان حاسدوں کے کہنے پر اگر وزیر کو سزادے دیتا تو زندگی بھرافسوس رہتا ۔
مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنا اچھا وزیر دیا ہے مجھے اس کا شکر گزار رہناچاہئے ۔
دیکھا بچو ! حسد کتنا برا ہے ۔ اگر وہ حسد نہ کرتے بادشاہ کے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر رہتے اور زندگی بھر عیش کرتے ۔ حسد ایک بیماری ہے جو انسان کو جلادیتی ہے اور حاصل بھی کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بھی سچ ہے کہ حاسد اپنی ہی آگ میں جل کر راکھ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ہمیں کسی سے حسد نہیں کرنا چاہئے ۔

Your Thoughts and Comments