asal waja

Asal Waja

اصل وجہ

”کیسے ہو بلال؟“ عاشر نے گلی میں بلال کو آتے دیکھ کر کہا۔ ”ٹھیک ہوں ۔“بلال نے اُداس لہجے میں جواب دیا۔ ”کیا بات ہے بلال! بہت اُداس نظر آرہے ہو؟

حفصہ فیصل
”کیسے ہو بلال؟“ عاشر نے گلی میں بلال کو آتے دیکھ کر کہا۔
”ٹھیک ہوں ۔“بلال نے اُداس لہجے میں جواب دیا۔
”کیا بات ہے بلال! بہت اُداس نظر آرہے ہو؟“عاشر،بلال کی اُداسی بھانپتے ہوئے بولا۔


”بس کیا بتاؤں دوست! کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ،میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔“بلال بھیگی آنکھوں سے بولا۔
”ارے یہ کیا؟تمھاری آنکھوں میں آنسو ،معاملہ بہت سنگین معلوم ہورہا ہے۔“
عاشر نے چونک کر کہا:”اچھا آؤ! میرے گھر چل کر بات کرتے ہیں ۔
“عاشر نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
گھر پہنچ کر عاشر نے نرمی سے کہا:”یہ لو،ٹھنڈا ٹھنڈا جوس پیو اور اب بتاؤ کہ کیا معاملہ پیش آگیا کہ تم اتنے پریشان ہو!“
”تم میرے چچاز اد بھائی نعمان کو تو جانتے ہو نا! “بلال نے کہنا شروع کیا۔

(جاری ہے)


”بالکل ! اسے میں کیسے نہیں جان سکتا ہوں ۔جب کبھی دوستوں کی فہرست بنانے کی بات ہوتی ہے تو تم اسی کانام سرِ فہرست رکھتے ہو۔بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار تو تم نے کہا تھا کہ کاش ،نعمان میرے ساتھ میرے گھر پر ہی رہتا تو کتنا مزہ آتا۔
“عاشر نے بلال کو سب باتیں یاددلادیں۔
”ہاں! وہ میری بھول تھی ۔اب وہ میرا دوست نہیں ،حریف بن چکا ہے ۔اس نے میرے ابو کو مجھ سے چھین لیا ہے ،بلکہ میرے گھر پر بھی قابض ہو گیا ہے ۔مجھے میرے ابو واپس چاہییں ہیں ۔میں نعمان سے سخت بیزار ہوں ۔
“بلال مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اگر نعمان ابھی اس کے سامنے ہوتا تو وہ اس کا گلا دبا دیتا۔
”بلال میرے دوست ! پُر سکون ہو جاؤ۔لو ،یہ ٹھنڈا جوس پیو اور پھر مجھے تفصیل سے ساری بات بتاؤ۔
اس طرح جوش سے بعض معاملات سلجھنے کے بجائے زیادہ اُلجھ جاتے ہیں ۔تم ہوش میں رہ کر سوچو گے تو ان شاء اللہ اس مسئلے کا حل پالو گے۔“عاشر نے سنجیدہ لہجے میں بلال کو سمجھایا۔
بلال نے جوس ختم کیا تو عاشر نے اس سے کہا :”اب مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ نعمان تمھارے گھر رہنے کیسے آیا؟جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ،وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے اور اس کے امی ابو اسے بے انتہا چاہتے ہیں اور اس کی امی تو اسے لمحہ بھر کے لیے اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتیں ،پھر کیا ماجرا ہو گیا؟“
دراصل پچھلے دنوں جب تم فیصل آباد اپنے دادا کے گھر گئے ہوئے تھے ،تب ایک حادثے میں چچا اور چچی جاں بحق ہو گئے ۔
نعمان امتحانات کی وجہ سے ان کے ساتھ نہیں تھا۔“
عاشر نے افسوس کا اظہار کیا۔
بلال نے کہا:”ابو جان نے چچا کا گھر کرائے پردے دیا اور نعمان کو اپنے ساتھ گھر لے آئے۔“
”تمھیں تو بہت خوشی ہوئی ہو گی ،نعمان کو اپنے گھر دیکھ کر ۔

”ہاں ،لیکن وہ میری بے وقوفی تھی ۔“بلال نے مایوس لہجے میں کہا۔
”اچھا آگے بتاؤ ؟“عاشر نے بات بدلی۔
”بس دوست ! جب سے نعمان ہمارے گھر آیا ہے ،ابو جان نے مجھے نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے ۔گھر میں آتے ہی پہلے نعمان سے ملتے ہیں اور جاتے وقت بھی نعمان کی ضرورت کے بارے میں ہی پوچھتے ہیں ۔
مجھے تو ایسا لگتا ہے نعمان کے بجائے میرے ابو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ۔“بلال رنج سے بولا۔
”ارے ارے ،اللہ نہ کرے ۔ایسے نہیں سوچتے دوست!“ عاشر نے بلال کو ٹوکا۔
”بلال ! یہ بھی تو سوچو،نعمان کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آگیا۔
اس کے عزیز جان امی ابو دونوں ایک ساتھ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔تمھارے ابو اسی لیے اس کی دل جوئی کررہے ہیں ۔“عاشر نے بلال کو سمجھایا۔
”اب تو اس کے امی ابو کے انتقال کو ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے ،اتنے دنوں میں تو صبر آہی جاتا ہے ۔

بلال خود غرضی سے بولا۔
عاشر اس کی سوچ پر افسوس سے سر ہلانے لگا۔
”اچھا سنو ! اگر تم اتنا ہی ان باتوں کو محسوس کررہے ہو تو میرا مشورہ ہے کہ اپنے ابو سے اکیلے میں ساری بات کرو۔مجھے اُمید ہے ،تمھارے ابو اس سلسلے میں اپنے رویے کی تبدیلی کے متعلق تمھیں زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھا سکیں گے ۔
“عاشر نے مشورہ دیا۔
پھر بلال نے ابو سے اس سلسلے میں روبرو بات کرنے کا فیصلہ کر لیا،کیوں کہ اس طرح گھٹ گھٹ کر وہ نہیں رہ سکتا تھا۔
اگلے ہی دن کچھ ایسا ہو گیا کہ سب بد مزہ ہو گئے ۔رات کے وقت سب لوگ کھانے کی میز پر جمع تھے۔

”بلال بیٹا! ٹھیک سے بیٹھ کر کھاؤ۔“امی نے کھانا کھاتے ہوئے بلال کو ٹوکا،جو کھانا کھاتے ہوئے اِدھر اُدھر ہاتھ ماررہا تھا۔
”نعمان کو دیکھو ،کتنے موٴدب طریقے سے بیٹھ کر کھارہا ہے ۔“ابو نے تعریفی نگا ہوں سے نعمان کو دیکھا۔

”ہاں ! نعمان کا تو ہر کام اچھا ہے ۔“بلال چلاّتے ہوئے چمچ پٹخ کر دستر خوان سے کھڑا ہو گیا۔
امی،ابو اس کی حرکت پر اسے دیکھتے رہ گئے۔
”سنیں ! جب سے نعمان ہمارے ہاں آیا ہے ،میں بلال میں بہت زیادہ تبدیلی محسوس کررہی ہوں اور آج تو حد ہی ہو گئی ۔
“رات کو امی فکر مندی سے بلال کو اِدھر ہی بُلالاؤ ،نعمان کے سامنے بات کرنا ،مناسب نہ ہو گا۔“ابو کچھ سوچتے ہوئے بولے۔
امی ،بلال کو بلا لائیں ۔
ابو نے پوچھا:”بیٹا! کیا ہوا ہے تمھیں ؟“
بلال کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ سارے شکوے جو اس کے دل میں نعمان کے آنے کے بعدا بو کے لیے پیدا ہو گئے تھے ،وہ رندھی آواز کے ساتھ بیان کرنے لگا۔
ابو فکر مندی سے اپنے ہونہار اور اکلوتے بیٹے کے خیالات سن رہے تھے ۔
”اچھا بیٹا! تم کو شکایت ہے کہ نعمان کے آنے کے بعد تمھارے ساتھ میرا رویہ ٹھیک نہیں ہے اور تمھاری ضرورت اور پریشانی کے متعلق بھی تم سے نہیں پوچھتا؟“ابو نے تائیدی نگا ہوں سے بلال کو دیکھا۔

”جی ابو جان!“ بلال نم آنکھوں سے سر ہلانے لگا۔
”تو سنو بیٹا! ایسا میں رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کررہا ہوں ۔“امی اور بلال ایک ساتھ چونکے۔
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک صحابی پریشانی سے بولے:”میرا بچہ گم ہو گیا ہے ،بہت پریشان ہوں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب دینے سے پہلے ہی ایک اور صحابی بولے کہ تمھارا بچہ تو فلاں باغ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔
اتنا سننا تھا کہ وہ پریشان صحابی خوشی سے نہال ہو گئے اور دروازے کے طرف لپکے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آوا ز لگائی :”رکو ۔

” جی جی ! یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟“ان صحابی نے حیرانی سے پلٹ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا۔ ”دیکھو ،بچے کو دور سے ”میرا بیٹا ،میرا لال “کہہ کہ مت پکارنا۔“
صحابی حیرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھنے لگے۔

”میرے بھائی! اس باغ میں کھیلتے ہوئے بچوں میں کوئی یتیم بچہ بھی ہو سکتا ہے اور جب تم والہانہ انداز میں ،میرا بچہ ،کہہ کر اسے گلے لگاؤ گے تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی۔“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم کی وضاحت کی ۔
”تو بیٹا ! یہ وجہ ہے کہ نعمان کی دل جوئی کے لیے تم سے یہ رویہ اختیار کیا ہے ۔
بیٹا! نہ میری محبت میں کمی آئی ہے نہ تو جہ میں ۔“ابو محبت سے بلال کو دیکھتے ہوئے بولے۔
بلال کا سر ندامت سے جھکا ہوا تھا ۔جب کہ دروازے کے باہر کھڑے نعمان کے دل سے اپنے تایا کے لیے دعا ئے خیر نکل رہی تھی۔

Your Thoughts and Comments