Autograph

Autograph

آٹو گراف

آپی !ہفتے کوہماری یونیورسٹی میں الوداعی پارٹی ہے۔ شازیہ نے خوشی سے نازو کو بتایا۔ اچھا تو میں کیا کروں؟ نازو نے میگزین منھ کے سامنے سے ہٹاتے ہوئے کہا۔

سمعیہ غفار میمن:
آپی !ہفتے کوہماری یونیورسٹی میں الوداعی پارٹی ہے۔ شازیہ نے خوشی سے نازو کو بتایا۔
اچھا تو میں کیا کروں؟ نازو نے میگزین منھ کے سامنے سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
آپی! تمھیں پتا ہے پارٹی میں کون آرہاہے؟ شازیہ جستجوپیداکرنے کی کوشش کی۔

شازیہ بتانا ہے تو جلدی بتاؤ اور مجھے تنگ مت کرو۔ دیکھ رہی ہونا کہ میں کہانی پڑھ رہوں، جاؤ یہاں سے نازوہ کوکہانی کے دوران مداخلت برداشت نہیں تھی۔
وہی آپی! جس کی تم کہانی پڑھ رہی ہو۔ میرامطلب ہے تمھاراپسندیدہ ادیب اور شاعر۔
نازو اٹھتے ہوئے بولی۔
فاروقی صاحب آرہے ہیں! نازو خوشی سے اچھل پڑی، پھر شازیہ کوپکڑتے ہوئے بولی: میری پیاری بہن! تم مجھے پارٹی میں لے چلو گی نا؟
جی نہیں، یہ ہماری یونیورسٹی کی پارٹی ہے۔

(جاری ہے)

وہاں صرف طالب علم ہی آسکتے ہیں۔

شازیہ نے بہن کوستانا شروع کیا۔
شازیہ ! تم توانتطامیہ میں ہو، پلیز کسی طرح مجھے وہاں لے چلو۔ میں ان سے صرف آٹوگراف لوں گی۔ نازو نے التجا کی۔
ٹھیک ہے آپی! میں کوشش کرتی ہوں۔ شازیہ نے تسلی دی
ہفتے کے روز دونوں بہنیں تیار ہوکر پارٹی میں پہنچیں۔
شازیہ نے نازو کوہال میں بٹھایا اور بولی: آپی! تم یہاں بیٹھنا، مجھے کچھ کام ہے، میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔
لیکن میں فاروقی صاحب کو پہچانوں گی کیسے؟ میں نے توانھیں کبھی دیکھا ہی نہیں ہے۔ نازو نے کہا۔
آپی! میں آکر تمھیں بتادوں گی۔
شازیہ اپنے کاموں میں لگ گئی اور نازو فاروقی صاحب کا انتطار کرنے لگی۔ تمام مہمان آگئے اور تقریب کاآغاز بھی ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد شازیہ آئی اور ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ آپی! وہ رہے فاروقی صاحب۔
عام سی شلوار قمیص پہنے ادھیڑ عمرکے ایک آدمی کے ساتھ فاروقی صاحب تشریف فرماتھے۔
نازو انھیں دیکھ کر بہت خوش تھی اور حیران بھی، کیوں کہ فاروقی صاحب کے متعلق نازو نے جیسا سوچا تھا وہ اس کے بالکل برعکس تھے۔ یہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک خوب روا ور کم عمرنوجوان تھے۔ اتنی کم عمری میں اتنی زیادہ ترقی بس یہی بات نازو کو حیران کررہی تھی۔
نازو اوران کی تحریریں کافی عرصے سے پڑھ رہی تھی، اس لیے اس کے ذہن میں فاروقی صاحب کا کچھ اور خاکہ تھا۔ نازو بے چینی سے تقریب ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی، تاکہ فاروقی صاحب سے آٹو گراف لے سکے۔ تقریب ختم ہوئی تولوگوں نے فاروقی صاحب کو گھیرلیا لوگوں میں گھرے ہونے کی وجہ سے وہ یہ دیکھ سکی کہ آٹو گراف کون دے رہاہے۔
اب نازو ہجوم کم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ جوں ہی لوگ کم ہوئے، نازو بھاگ کر فاروقی صاحب کے پاس پہنچی اور بولی: سر! میرانام نازیہ ہے اور میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔
بہت شکریہ“ وہ حیرانی سے بولے۔
سر! آپ کی شخصیت ماشاء اللہ بہت پراثر ہے“ نازو نے کہا۔

جی بہت شکریہ۔ انھوں نے کہا۔
سر! آپ کا طرز تحریر بہت عمدہ اور اسلوب بیان اعلا ہے۔ میں نے آپ کی ہر نظم اور ہر کہانی پڑھی ہے۔ جس طرح آپ کی تحریریں رسالے میں باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں بالکل اسی طرح میں بھی باقعدگی سے آپ کو پڑھتی ہوں۔
آپ میرے پسندیدہ ادیب ہیں۔ آپ کی اکثر شاعری مجھے زبانی یاد ہے۔ نازو نے تعریف کے پل باندھے۔
لیکن میں تو․․․․ انھوں نے کچھ کہنا چاہا۔
مجھے آپ سے ملنے کا بہت شوق تھا۔ شکرہے آج آپ سے ملاقات ہوگئی۔ آج میں بہت خوش ہوں۔
نازو پُرجوش ہوکر بولی۔
بہت شکریہ۔ وہ بولے۔
سر! آٹوگراف پلیز۔ نازو نے آٹوگراف بک دیتے ہوئے کہا۔
ضرور۔ انھوں نے کچھ لکھ کر بک نازو کو واپس کردی۔
آپ کی لکھائی بہت صاف ہے۔ نازو نے آٹو گراف پڑھتے ہوئے کہا۔

شکریہ۔ انھوں نے عاجزع برقرار رکھی۔
یہ کیا! نازو کی نظر آٹو گراف کے آکری میں لکھے نام پرپڑی” آپ سلیم فاروقی نہیں ہیں۔
جی نہیں۔ انھوں نے انکار میں سرہلایا۔
پھر؟ نازو نے پوچھا۔
حامد انصاری ! میں بھی سلیم فاروقی صاحب کا بہت بڑا مداح ہوں اور ان سے آٹو گراف لینے آیاتھا۔
حامد نے کہا۔
تو پھر سلیم فاروقی کون ہیں؟ نازو نے پوچھا۔
وہ جومیرے ساتھ تشریف فرماتھے شلوار قمیص پہنے ہوئے۔ حامد بولا۔
شلوار قمیص والے! نازو حیران ہوئی۔
میں اسی بات پر توحیران تھا کہ میں نے اب تک صرف ایک ہی کہانی لکھی ہے، جو ابھی شائع نہیں ہوئی ہے توآپ میری مداح کیسے بن گئی ہیں۔
دراصل میں نے فاروقی صاحب سے متاثر ہوکر یہ کہانی لکھی ہے، لیکن میں شاعر نہیں ہو۔ کہانی کی اصلاح اورآٹوگراف لینے فاروقی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ حامد نے پوری بات تفصیل سے بتائی۔
آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔
نازو کو غصہ آگیا۔
آپ نے پہلے پوچھا ہی نہیں۔ حامد نے کہا: ویسے میں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی تھی، لیکن آپ نے موقع ہی نہیں دیا۔
اب فاروقی صاحب کہا ہیں؟ نازو نے پوچھا۔
وہ توچلے گئے۔ حامد بولا۔
نازو نے پوچھا: چلے گئے؟ لیکن کہاں؟ ابھی تو مجھے ان سے آٹو گراف بھی لینا ہے۔

وہ باہر کی طرف گئے ہیں۔ حامد نے باہر کی طرف اشارہ کیا۔
نازوکو اپنے آپ پر اور حامد انصاری پر بہت غصہ آرہا تھا۔ وہ باہر کی طرف لپکی، تاکہ سلیم فاروقی کوروک کر آٹو گراف لے سکے۔ جب وہ باہر پہنچی تواس نے دیکھا کہ فاروقی صاحب رکشے کود ور جاتا دیکھتی رہی، پھر وہ بوجھل قدموں سے ہال میں واپس آئی اور شازیہ کا انتظار کرنے لگی۔

Your Thoughts and Comments