baap ki shafqat

Baap Ki Shafqat

باپ کی شفقت

ماسٹر جی کھیتوں میں لگے نیم کے گھنے درخت کی چھاؤں میں چارپائی لگائے حقہ پینے میں مصروف تھے ۔قریب ہی اُ ن کا گبھر و بیٹا شوکت کھیت کے خالی حصے کو فصل بونے کیلئے تیار کررہا تھا ۔گرمی کی شدت تھی ،سورج آگ برسارہاتھا

روبینہ ناز
ماسٹر جی کھیتوں میں لگے نیم کے گھنے درخت کی چھاؤں میں چارپائی لگائے حقہ پینے میں مصروف تھے ۔قریب ہی اُ ن کا گبھر و بیٹا شوکت کھیت کے خالی حصے کو فصل بونے کیلئے تیار کررہا تھا ۔گرمی کی شدت تھی ،سورج آگ برسارہاتھا ،اِس گرامی کی شدت میں بھی شوکت مسلسل زمین پرکام کررہا تھا۔

اس دوران وہ بار بار اپنے کندھے پر پڑے رومال سے چہرے سے بہنے والا پسینہ صاف کرتا ۔ماسٹر جی یہ سب کچھ خاصی دیر سے دیکھ رہے تھے ۔اُنہوں نے اپنے بیٹے شوکت کو آواز دی :”بیٹا بس کرو ،گھر جاؤ گرمی شدید ہے ،کہیں بیمار نہ ہوجانا “َشوکت مسکراتے ہوئے بولا؛”ابا جی میری ہڈیاں اتنی کمزور نہیں کہ گرمی کی شدت برداشت نہ کرسکیں “۔
”وہ تو ٹھیک ہے ،بیٹا لیکن اپنی صحت کا خیال بھی ضروری ہے ۔

(جاری ہے)

“ماسٹر جی نے کہا ۔بس ابا جی تھوڑا ہی کام رہ گیا ہے ،شوکت کام کرتے کرتے بولا۔بیٹا! باقی کام کل کرلینا ،اپنے جسم کو آرام بھی لینے دو ۔ماسٹر جی سنجیدگی سے بولے ۔

ابا جی آپ بھی ناں بس۔ شوکت اباجی کی تشویش پر مسکراتے ہوئے پھاوڑ اچلانے لگا ۔ماسٹر جی نے جب دیکھا کہ شوکت کام بندکرنے پر کسی طرح سے آمادہ نہیں ہے تو وہ اُٹھے ،حقہ ایک طرف کیا اور گھر کی طرف چل پڑے ۔واپسی پر اُن کا پوتا یعنی شوکت کا سات سالہ بیٹا محمد فیضان اُن کے ساتھ تھا ۔
ماسٹرجی نے اپنے پوتے کو تپتی دھوپ میں کھڑا کیا اور خود درخت کی چھاؤں میں بیٹھ گئے ۔کام کرتے کرتے شوکت کی نظرجوں ہی اپنے بیٹے پر پڑی تو وہ فوراََ کام چھوڑ کر بھاگتا ہو ا آیا اور فیضان کو گود میں اُٹھا کر درخت کی چھاؤں میں لے گیا ۔
جہاں اُس نے پہلے تو مٹکے میں سے اُسکے جسم پر ٹھنڈا پانی اُنڈیلا پھر اُس کا بدن پونجھتے ہوئے ابا جی سے بولا۔ابا جی آپ بھی کمال کرتے ہیں میرے بیٹے کو شدید گرمی میں لا کھڑ اکیا ،اگر اُسے کچھ ہو جاتا تو میرا ہوتا ۔آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ میں اِس سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔
شوکت نے شکایتی انداز میں کہا اور پھر بہت دیر تک فیضان کو پیار کرتا رہا ۔ یہ دیکھ کر شوکت نے کہا ؛دیکھا بیٹا تم اپنے بیٹے کو کچھ دیر تک تیز دھوپ میں کھڑا نہ دیکھ سکے اور اسکی صحت کے بارے میں تمہیں کتنی فکر لاحق ہو گئی تم بھی تو میرے بیٹے ہو میں بھی یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ تم کسی بیماری یااذیت کا شکار ہو جاؤ،تمہاری تندرستی اور خوشی ہی میں میری جان ہے ۔
یہ سُن کر شوکت کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی اور پھر وہ اباجی کے قدموں میں بیٹھ کر اُن کے پاؤں دبانے لگا ،پھر اُس نے اپنا سر اباجی کی گود میں رکھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔ماسٹر جی بھی اُ س کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔

Your Thoughts and Comments