Baap Ki Shafqat - Article No. 1179

باپ کی شفقت

ماسٹر جی کھیتوں میں لگے نیم کے گھنے درخت کی چھاؤں میں چارپائی لگائے حقہ پینے میں مصروف تھے ۔قریب ہی اُ ن کا گبھر و بیٹا شوکت کھیت کے خالی حصے کو فصل بونے کیلئے تیار کررہا تھا ۔گرمی کی شدت تھی ،سورج آگ برسارہاتھا

ہفتہ ستمبر

baap ki shafqat

روبینہ ناز
ماسٹر جی کھیتوں میں لگے نیم کے گھنے درخت کی چھاؤں میں چارپائی لگائے حقہ پینے میں مصروف تھے ۔قریب ہی اُ ن کا گبھر و بیٹا شوکت کھیت کے خالی حصے کو فصل بونے کیلئے تیار کررہا تھا ۔گرمی کی شدت تھی ،سورج آگ برسارہاتھا ،اِس گرامی کی شدت میں بھی شوکت مسلسل زمین پرکام کررہا تھا۔

اس دوران وہ بار بار اپنے کندھے پر پڑے رومال سے چہرے سے بہنے والا پسینہ صاف کرتا ۔ماسٹر جی یہ سب کچھ خاصی دیر سے دیکھ رہے تھے ۔اُنہوں نے اپنے بیٹے شوکت کو آواز دی :”بیٹا بس کرو ،گھر جاؤ گرمی شدید ہے ،کہیں بیمار نہ ہوجانا “َشوکت مسکراتے ہوئے بولا؛”ابا جی میری ہڈیاں اتنی کمزور نہیں کہ گرمی کی شدت برداشت نہ کرسکیں “۔
”وہ تو ٹھیک ہے ،بیٹا لیکن اپنی صحت کا خیال بھی ضروری ہے ۔

(جاری ہے)

“ماسٹر جی نے کہا ۔بس ابا جی تھوڑا ہی کام رہ گیا ہے ،شوکت کام کرتے کرتے بولا۔بیٹا! باقی کام کل کرلینا ،اپنے جسم کو آرام بھی لینے دو ۔ماسٹر جی سنجیدگی سے بولے ۔

ابا جی آپ بھی ناں بس۔ شوکت اباجی کی تشویش پر مسکراتے ہوئے پھاوڑ اچلانے لگا ۔ماسٹر جی نے جب دیکھا کہ شوکت کام بندکرنے پر کسی طرح سے آمادہ نہیں ہے تو وہ اُٹھے ،حقہ ایک طرف کیا اور گھر کی طرف چل پڑے ۔واپسی پر اُن کا پوتا یعنی شوکت کا سات سالہ بیٹا محمد فیضان اُن کے ساتھ تھا ۔
ماسٹرجی نے اپنے پوتے کو تپتی دھوپ میں کھڑا کیا اور خود درخت کی چھاؤں میں بیٹھ گئے ۔کام کرتے کرتے شوکت کی نظرجوں ہی اپنے بیٹے پر پڑی تو وہ فوراََ کام چھوڑ کر بھاگتا ہو ا آیا اور فیضان کو گود میں اُٹھا کر درخت کی چھاؤں میں لے گیا ۔
جہاں اُس نے پہلے تو مٹکے میں سے اُسکے جسم پر ٹھنڈا پانی اُنڈیلا پھر اُس کا بدن پونجھتے ہوئے ابا جی سے بولا۔ابا جی آپ بھی کمال کرتے ہیں میرے بیٹے کو شدید گرمی میں لا کھڑ اکیا ،اگر اُسے کچھ ہو جاتا تو میرا ہوتا ۔آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ میں اِس سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔
شوکت نے شکایتی انداز میں کہا اور پھر بہت دیر تک فیضان کو پیار کرتا رہا ۔ یہ دیکھ کر شوکت نے کہا ؛دیکھا بیٹا تم اپنے بیٹے کو کچھ دیر تک تیز دھوپ میں کھڑا نہ دیکھ سکے اور اسکی صحت کے بارے میں تمہیں کتنی فکر لاحق ہو گئی تم بھی تو میرے بیٹے ہو میں بھی یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ تم کسی بیماری یااذیت کا شکار ہو جاؤ،تمہاری تندرستی اور خوشی ہی میں میری جان ہے ۔
یہ سُن کر شوکت کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی اور پھر وہ اباجی کے قدموں میں بیٹھ کر اُن کے پاؤں دبانے لگا ،پھر اُس نے اپنا سر اباجی کی گود میں رکھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔ماسٹر جی بھی اُ س کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Akalmand Bakri

عقل مند بکری

Akalmand Bakri

Hunar Mand Larki

ہنر مند لڑکی۔۔۔تحریر: مختار احمد

Hunar Mand Larki

Aasman Se Gira Khajoor Main Atka

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

Aasman Se Gira Khajoor Main Atka

Gaoon Ka Doctor

گاوٴں کا ڈاکٹر

Gaoon Ka Doctor

Pencil Ki Chori

پینسل کی چوری

Pencil Ki Chori

Dou Chuhey

دو چوہے

Dou Chuhey

Dard Samjhain

درد سمجھیں

Dard Samjhain

Doodh Ka Doodh Paani Ka Paani Kaise Hota Hai

دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیسے ہوتا ہے

Doodh Ka Doodh Paani Ka Paani Kaise Hota Hai

Tairhvin Kursi

تیرھویں کرسی

Tairhvin Kursi

Biryani Nahi Bki Hai Bhai

بریانی نہیں پکی ہے بھائی۔۔تحریر:مختار احمد

Biryani Nahi Bki Hai Bhai

Hawari Malomaat Hi Maloomaat

حَواری

Hawari Malomaat Hi Maloomaat

Lomri Ki Akhri Chalaki

لومڑی کی آخری چالاکی

Lomri Ki Akhri Chalaki

Your Thoughts and Comments