Badal Ki Nasehat

Badal Ki Nasehat

بادل کی نصیحت!

دل اتنے گہرے تھے کہ دن میں بھی رات کا گماں ہورہا تھا ذیشان تیزی سے اپنے کھیتوں کی طرف جارہا تھا

جاوید اقبال:
آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے بادل اتنے گہرے تھے کہ دن میں بھی رات کا گماں ہورہا تھا ذیشان تیزی سے اپنے کھیتوں کی طرف جارہا تھا تاکہ اگر بارش آجائے تو وہ گندم کے گٹھوں کو پلاسٹک کی چادر سے ڈھانپ دے کچی سڑک پر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا چلا جارہا تھا گھنگور گھٹاؤں سے ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی موسلا دھار بارش شروع ہوجائے گی پھر چند ہلکی ہلکی بوندیں برسیں تو ذیشان نے بھاگنا شروع کردیا اچانک اس نے ایک آواز سنی آواز ایسی تھی جیسے کوئی کسی ویران کنویں کے اندر سے بولا ہو ذیشان کے قدم رک گئے اس نے ادھر اُدھر دیکھا کوئی بھی نظر نہ آیا،یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے پھر یہ آواز کہاں سے آئی اس نے زیرِلب کہا یہ میں ہوں سر اُٹھا کر اوپر آسمان پر دیکھو وہی آواز پھر آئی۔

(جاری ہے)

ذیشان نے آسمان کی طرف دیکھا آسمان پہ اسے بادل کا بڑا سا ٹکڑا نظر آیا پھر اسے بادل کی آنکھیں اور ہونٹ بھی نظر آئے۔تم کون ہوں ذیشان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا میں بادل ہوں آواز آئی ۔لیکن میں نے اس شکل میں تمہیں پہلے کبھی نہیں دیکھاذیشان نے کہا ۔
میں قطب شمالی کے برف پوش پہاڑوں کے اوپر رہتا ہوں اب دنیا دیکھنے نکلا ہوں ہوائیں مجھے ملک ملک لیے پھر رہی ہیں اب تک آدھی دنیا دیکھ چکا ہوں یہ ملک کون سا ہے؟یہ میرا پیارا وطن پاکستان ہے ذیشان نے فخر سے کہا۔باد ل نے کہا مجھے اپنے وطن کے بارے میں کچھ بتاؤ!“کیوں نہیں۔
ذیشان بولا میرا ملک ہرے بھرے میدانوں گھنے جنگلوں میٹھے پانی کے چشموں بل کھاتی ندی نالوں شور مچاتے آبشاروں اور ملک بوس پہاڑوں کا دیس ہے اس کے چار موسم ہیں گرمی سردی،بہاڑ اور خزاں،ہر موسم کا الگ مزہ ہے یہاں مٹی کو سونا بنانے والے مزدور اور کسان ہیں سمندروں کا سینہ چیرتے ملاح فضا میں اُڑنے والے شاہین صفت ہوا باز ہیں ہمارے ملک میں درس گاہیں ہیں تخلیق و جستجو کے سمندر سے آگہی کے موتی چننے والے سائنس داں ہیں ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہیں ہمارا ملک اقوامِ عالم میں بھائی چارے اور امن کے فروغ کاخواہش مند ہے ہم یہ پیار ا وطن بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے اور اس کی حفاظت اور حرمت کی خاطر سر پر کفن باندھے ہر وقت کٹ مرنے کے لیے تیار ہیں ذیشان بڑے جذبے سے یہ سب کہہ رہا تھا اور بادل کے ہونٹوں ہر مسکراہٹ تھی ۔
بادل نے کہا اپنے وطن کے بارے میں تمہارے جذبات کی میں بے حد قدر کرتا ہوں مگر یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہاں کے اکثر لوگ وطن کی بہتری پر توجہ نہیں د ے رہے ہیں سر سبز درختوں کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں یہ درخت فضا کو آلودگیوں سے پاک رکھتے ہیں لوگوں میں شجر کاری کا رجحان نہیں ہے کارخانوں اور گاڑیوں ک دھویں سے بھی فضائی آلودگی پیدا ہورہی ہے اس زہریلے دھویں میں سیسہ ہوتا ہے جو انسان کی ذہنی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے شور بھی انسان کے مزاج پر اثر ڈالتا ہے شور کا شمار بھی آلودگی میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ مختلف ذہنی امراض میں تیزی سے مبتلا ہورہے ہیں ان سب خرابیوں کی وجہ تعلیم کی کمی بھی ہے تم لوگوں کو چاہیے کہ جگہ جگہ درخت لگاؤ تاکہ ماحول بہتر ہوں اور ذہنی اور جسمانی صحت اچھی رہے میری نصیحت یاد رکھنا اور یہ بھی نہ بولنا کہ آج جو مفت کی نصیحت قبول نہیں کریں گا کل وہ مہنگے داموں افسوس خریدئے گا ۔
اس وقت تیز ہوائیں چلنے لگیں درختوں کی شاخیں شائیں شائیں کرتی ہلنے لگیں بادل نے کہااچھا دوست خدا حافظ پھر ہوائیں اسے اپنے دوش پر لئے دور اُفق کی طرف بڑھ گئیں اچانک بارش کی بوچھار سے جیسے ذیشان کو ہوش آگیا اس نے چونک کراپنے آس پاس دیکھا اسے ایسا لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا پھر وہ اپنی گندم کو بارش سے بچانے کے لیے تیزی سے کھیتوں کی جانب دوڑا۔

Your Thoughts and Comments