Badshah Aur Engineer Ka Dilchasp Qissa - Article No. 1309

بادشاہ اور انجینئر کا دلچسپ قصہ

سلطان مراد ترکستان کا بادشاہ اور اسلامی دنیا کا حکمران تھا۔ عیسائیوں کی بڑی بڑی حکومتیں اس کے نام سے لرزہ تھیں۔ یوں تو ہر مسلمان حکمران کو عمارتیں بنوانے کا شوق رہا

جمعہ مارچ

badshah aur engineer ka dilchasp qissa


سلطان مراد ترکستان کا بادشاہ اور اسلامی دنیا کا حکمران تھا۔ عیسائیوں کی بڑی بڑی حکومتیں اس کے نام سے لرزہ تھیں۔ یوں تو ہر مسلمان حکمران کو عمارتیں بنوانے کا شوق رہا
مگر سلطان مراد مسجدوں کی تعمیر میں خاص دلچسپی لیتا تھا۔

ایک دفعہ اس نے اپنے دل میں مسجد کا ایک نقشہ بنایا۔ مسجد اس کے تخیل کا حسین مرقع تھی۔ اس زمانے میں ایک انجینئر کی بڑی شہرت تھی۔ بادشاہ نے اسے بلایا‘ اپنا نقشہ اسے دکھایا اور مسجد کی تعمیرپرلگا دیا۔آخرکار مسجد تیار ہو گئی جو فی الواقع ایک شاندار مسجدتھی۔
بادشاہ اگلی صبح مسجد دیکھنے کیلئے چلا گیا۔ ہر طرف سے مسجد کو دیکھا مگر بادشاہ کو یہ عمارت مطلق پسند نہ آئی۔

اس نے حکم دیا کہ انجینئر کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔

(جاری ہے)

حکم کی دیر تھی۔ جلاد نے حکم پایا تو ایک ہاٹھ کاٹ دیا۔

انجینئر کو یہ سزا بلاوجہ ملی تھی۔ وہ سیدھا قاضی کی عدالت میں جا پہنچا اور دعویٰ دائر کر دیا۔ قاضی نے بادشاہ کوحاضر ہونے کا حکم دیا۔ بادشاہ حاضر ہوا تو انجینئر کو کھڑے پایا۔ اس کے ایک ہاتھ سے خون کے سرخ قطرے گر رہے تھے۔
بادشاہ یہ دیکھ کر گھبرا گیا۔ قاضی نے بادشاہ کے بیانات لئے اور حکم دیا کہ بادشاہ کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔

بادشاہ نے قاضی کا حکم سنا تو اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔ یکدم انجینئر بولا ’’میں نے اپنا انصاف پا لیا‘ میں بادشاہ کو بغیر کسی دبائو کے بخشتا ہوں۔

‘‘ یہ سن کر بادشاہ کی جان میں جان آئی اور اس نے انجینئر کو بہت سا مال و زر دیکر رخصت کیا۔یہ تھا اسلام میں انصاف کا معیار جس کیلئے عظیم الشان عمارتیں ضروری نہیں ایک شہر کیلئے بس ایک قاضی کافی تھا۔ نہ کسی وکیل کی ضرورت اور نہ ہی یہ دیکھا جاتا کہ مجرم کون ہے؟ بادشاہ ہو یا فقیر‘ سب کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا تھا انصاف بھی فوری ملتا تھا۔
یہی وہ ستون تھا جس پر اسلامک سپر پاور کی عمارت کھڑی تھی۔

لہٰذا جیسے ہی اس ستون میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیںتو اسلامک سپر پاور کی عمارت بھی کمزور ہونا شروع ہو گئی اور بالآخر اسلامک سپر پاور کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ قومیں کے بے انصافی ساتھ زندہ نہیںرہ سکتیں ۔ہم میں ایمان تو ہے‘لیکن ہماری حکومتیں لوگوں کے درمیان انصاف قائم کرنے میں ناکام رہیں..!!

مزید اخلاقی کہانیاں

Naik Dil Shehzada

نیک دل شہزادہ

Naik Dil Shehzada

Camera

کیمرہ

Camera

Phool Naraz Nahi HooN Ge

پھول ناراض نہیں ہوں گے

Phool Naraz Nahi HooN Ge

Jhooti Khabar

جھوٹی خبر

Jhooti Khabar

Hisab E Dostaan

حسابِ دوستاں

Hisab E Dostaan

Badal Ki Nasehat

بادل کی نصیحت!

Badal Ki Nasehat

Bojh Utar Gaya

بوجھ اتر گیا

Bojh Utar Gaya

Birbal Ki Danishmandi

بیربل کی دانشمندی

Birbal Ki Danishmandi

Jashn E Azadi Mubarak Ho

جشن آزادی مبارک ہو۔۔۔تحریر: مختار احمد

Jashn E Azadi Mubarak Ho

Aam K Aam

آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔۔۔تحریر:مختار احمد

Aam K Aam

Khirki K Paar

کھڑکی کے پار

Khirki K Paar

Tohfy

تحفے

Tohfy

Your Thoughts and Comments