Badshah Ka Anokha Libas

Badshah Ka Anokha Libas

بادشاہ کاانوکھالباس

بادشاہ کی ساٹھویں سالگرہ کی آمد تھی ۔ پورے ملک میں اعلان کردیاگیا کہ بادشاہ کی سالگرہ پر عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ بادشاہ نے اپنی سالگرہ پر یہ اعلان کرایا کہ ان کیلئے ایسی شاندار پوشاک تیار ہوجیسی کسی نے آج تک استعمال نہ کی ہو۔

فاطمہ ساجد :
بادشاہ کی ساٹھویں سالگرہ کی آمد تھی ۔ پورے ملک میں اعلان کردیاگیا کہ بادشاہ کی سالگرہ پر عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ بادشاہ نے اپنی سالگرہ پر یہ اعلان کرایا کہ ان کیلئے ایسی شاندار پوشاک تیار ہوجیسی کسی نے آج تک استعمال نہ کی ہو۔
جوبھی بادشاہ کیلئے ایسی انوکھی پوشاک تیارکرے گا اسے انعام واکرام سے نوازا جائے گا۔ چندوجولا ہے کے تین ذہین لڑکے تھے جو بادشاہ کے مظالم سے تنگ تھے ، یہ تینوں بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے اور بادشاہ سے کہنے لگے ہم آپ کیلئے ایسا لباس تیار کریں گے جو آج تک بڑے بڑے بادشاہوں کو نصیب نہ ہوا ہوگا لیکن ہماری ایک عرض سن لیں کہ یہ انوکھا لباس دیکھ کر ہر کوئی عش عش کراٹھے گا لیکن جھوٹے ، بے ایمان اور فریبی شخص کو یہ لباس نظر نہیں آئے گاالبتہ اخراجات بہت زیادہ ہونگے کیونکہ کپڑا سونے کی تاروں سے تیار ہوگا اور لباس پر ہیرے جواہرات سے کام ہوگا۔

(جاری ہے)

بادشاہ نے لڑکوں کومطلوبہ رقم فراہم کردی ۔
دس پندرہ دن کے بعد بادشاہ نے اپنے سپہ سالار سے کہا وہ جا کردیکھے کہ ان لڑکوں کا کام کہاں تک پہنچا ہے ۔ سپہ سالار نے دیکھا کہ لڑکے کپڑے بننے کے انداز میں خالی ہاتھ ہلارہے ہیں ۔
سپہ سالار چونک ایک قریبی اور بے ایمان شخص تھا اس لئے اس نے اپنا بھرم رکھنے کیلئے بادشاہ کو اطلاع دی کہ حضور لڑکوں نے آپ کیلئے لاجواب پوشاک تیار کی ہے ۔ تین چار دن بعد جھوٹے اور بے ایمان وزیرنے بھی بادشاہ کو یہی رپورٹ دی۔
بادشاہ بہت خوش تھا کہ کل شام جب وہ پوشاک پہن کردرباریوں کے ساتھ گشت کرے گا تو لوگ اسے مبارکباد دیں گے ۔ اگلی صبح لڑکے بڑے بڑے خالی تھان لیکر محل میں آئے ۔ بادشاہ خالی تھان دیکھ کر حیران ہوا۔ پھر اس کو اپنے جھوٹے اور بے ایمان وزیرکی داستانیں یاد آئیں اور لباس نہ نظر آنے کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی ۔
اس لئے اس نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہوئے کہا یہ لاجواب لباس ہے ۔ سب لوگ بادشاہ کو فقط ایک سرخ کی نیکر میں دیکھ کر قہقہے لگارہے تھے اور بادشاہ سمجھ رہاتھا کہ اس کی پوشاک کی تعریف ہورہی ہے ۔ اچانک بادشاہ کو ایک بچے کی آواز آئی جو اپنے باپ سے پوچھ رہا تھا ابو ! بادشاہ سلامت صرف ایک نیکر پہنے کیوں کھڑے ہیں ؟ خاموش بے ادب اگر بادشاہ نے سن لیا توسزا ہوجائے گی ۔ دیکھا بچو!تین ذہین لڑکوں نے بادشاہ کو کیسے بے وقوف بنایا۔

Your Thoughts and Comments