baite b Allah ki remat hai

Baite B Allah Ki Remat Hai

بیٹی اللہ کی رحمت ہے․․․․․!

وہ اپنی بیٹی کو ہر وقت ڈانٹتی رہتی تھی لیکن

میمونہ صدیقہ
ایک ننھی آٹھ سال کی بچی اپنے دو بھائیوں اور والدہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی ۔بچپن ہی سے والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔والدہ گھروں میں کام کاج کرکے ان کا پیٹ پالتی تھی۔بیٹی کا نام اصغری اور بیٹوں کا نام اکرم اور احمد تھا۔


اصغری کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔اس کے بھائی سکول جاتے تھے تو وہ کبھی کبھی ان کی کتابیں کھول کر دیکھتی تو والدہ سے ڈانٹ پڑ جاتی کیونکہ اس کی والدہ کا خیال تھا کہ پڑھائی لڑکوں کیلئے ہوتی ہے لڑکیوں کیلئے نہیں ،لڑکیاں پڑھ کر بگڑ جاتی ہیں ۔
اصغری نے کئی بار پڑھنے کیلئے ماں سے درخواست کی لیکن ماں نہ مانی اور ہمیشہ یہی کہتی کہ بیٹیوں کا کام پڑھائی نہیں ،وہ صرف گھر کے کام کرتی ہیں۔
اصغری چھوٹی سی عمر میں ہی ماں کے ساتھ گھر کے کاموں میں سارا دن ہاتھ بٹاتی ۔

(جاری ہے)

اگر کوئی چھوٹی سی غلطی ہو جاتی بجائے سمجھانے کے اسے بہت زیادہ باتیں سننی پڑتیں ۔اکرم اور احمد بہت شرارتی اور نالائق تھے۔ان کا پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا تھا ۔وہ ہر کام بگاڑ دیتے،جس کی ڈانٹ اصغری کو پڑتی۔ماں بیٹوں سے بہت لاڈ کرتی ۔
ان کی پڑھائی کی خاطر وہ ان کی ہر خواہش ،ہر درخواست پوری کرتی اور انہیں بڑے پیار اور لاڈ سے بلاتی ۔اس کے برعکس اصغری کو نام سے پکارنے کے بجائے جنم جلی کہہ کر بلاتی ۔اصغری پھر وہ خاموشی اختیار کرلیتی اور کبھی کبھی تنہائی میں روتی اور آنسو بہاتی کہ کاش میں اس دنیا میں ہی نہ ہوتی ۔
کیا ماں کا پیار صرف بیٹوں کے لئے ہے اور میرے لیے نہیں شاید اس دنیا میں بیٹیوں کی اہمیت نہیں ہوتی،صرف لڑکوں کی اہمیت ہوتی ہے ۔
جب تھوڑی بڑی ہوئی تو ماں کے ساتھ دوسروں کے گھروں میں کام کرنے جانے لگی۔اس کی ماں سیٹھ شاہد کے گھر کا کام کرتی تھی ۔
سیٹھ شاہد کی ایک ہی بیٹی سعدیہ تھی جو سکول میں آٹھویں کلاس میں تھی ۔آہستہ آہستہ سعدیہ کی دوستی اصغری کے ساتھ ہو گئی ۔سعدیہ کو اصغری بہت اچھی اور پیاری لگتی تھی ۔فارغ وقت میں وہ اصغری کے ساتھ کھیلتی اور خوب گپ شپ ہوتی ۔اسی طرح ایک دن اصغری کو سعدیہ نے پڑھنے کو کہا تو اصغری کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور روتے ہوئے کہا کہ ”مجھے بھی پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن میری ماں کے نزدیک بیٹیوں کو پڑھانا اچھی بات نہیں کیونکہ وہ بگڑ جاتی ہیں“۔
سعدیہ کو بہت افسوس ہوا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک بیٹیوں کی اہمیت نہیں ہے ،صرف ان کے لیے بیٹے اہم ہوتے ہیں ۔سعدیہ نے چھپ کر اصغری کو پڑھانا شروع کردیا۔اب وہ روزانہ آدھا گھنٹہ اس کے لیے پڑھائی کا نکالتی،اسی طرح سعدیہ کی محنت سے اصغری نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔
آج اصغر ی بہت خوش تھی اور سعدیہ کے امی ابو بھی بہت خوش تھے اصغری کی اس کا میابی پر ۔سیٹھ شاہد نے بھی اصغری کو انعام دیا اور مبارکباددی اور کہا کہ آج آپ کی ماں کو بھی مبارکباددینی چاہئے تو اصغری کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور روتے ہوئے کہا کہ میری ماں کو کچھ نہ بتانا وہ مجھے آپ کے گھر آنے سے بھی روک دے گی۔
وہ بہت حیران ہو ئے کہ ایسی بھی مائیں ہوتی ہیں ۔سعدیہ نے ساری بات اپنے والد کو بتائی اور کہا کہ اسے آگے بھی پڑھائیں گے۔سعدیہ کے گھروالوں نے آگے پڑھانے کا سارا حرچ اٹھالیا اور اصغری کی ماں کو کہا کہ اصغری کو ہمارے گھر ہی رہنے دیں کام بہت زیادہ ہوتا ہے رات کو بھی ضرورت ہوتی ہے اس کی تنخواہ گھر بھیج دی جائے گی۔

اصغری کی ماں بوڑھی ہونے کی وجہ سے گھر ہی رہتی تھی ۔اکرم اور احمد نے سکول چھوڑ دیا۔وہ سکول سے فیل ہو گئے ۔فضول خرچی کرنا،برے دوستوں کے ساتھ بیٹھنا ان کا معمول بن گیا ۔ماں کی ایک نہ سنتے اپنی مَن مانی کرنے لگے۔
اِدھر اصغری نے سعدیہ اور اس کے گھر والوں کی محنت سے بی اے اچھے نمبروں سے پاس کر لیا اور سیٹھ شاہد نے اسے ایک سکول میں ٹیچر کی ملازمت دلوا دی۔
جب بیٹوں کی نافر مانیاں حد سے بڑھ گئی توماں پچھتا رہی تھی کہ کاش میں اصغری کی خواہش کوپورا کر دیتی اور اسے برابر پیار دیتی ۔وہ ڈانٹ کے باوجود بھی ہر کام کرتی اور خاموشی اختیار کرتی تھی۔آج اس کی محنت کی کمائی سے گھر چل رہا ہے ۔
جن سے بہت لاڈاور پیا ر کیا تھا آج وہی نافرمان ہو گئے اور بری صحبت کی وجہ سے آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے ہیں ۔ان کے لیے بہت کوشش کی لیکن پھر بھی وہ پڑھائی سے دور ہو گئے ۔مجھے اصغری کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔اسے بھی بھائیوں کے برابر پیار کا درجہ دیتی تو آج کبھی ایسا نہ ہوتا ۔
اتنے میں اصغری گھر میں داخل ہوئی ۔گھر کے چاروں طرف دیکھا ہر جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور گھر ویران پڑا تھا۔اس کی ماں سر جھکا ئے اپنے پچھتا وے پر افسوس کررہی تھی اور آنسو بہار ہی تھی ۔اصغری نے ماں کا ہاتھ تھام لیا تو ماں نے اس کی طرف دیکھا اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اصغری ہے ۔
اتنی خوبصورت لگ رہی ہے ۔ماں نے اصغری کو سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے کہا بیٹی مجھے معاف کردو میں نے آج تک تمہیں پیار نہیں دیا ور تمہارے ہر خواہش رد کردی تمہیں نہ پڑھنے دیا اور نہ آگے بڑھنے دیا اور نہ ہی پیار سے بلایا۔ہمیشہ میری نفرت کی نگاہ صرف اور صرف تم پررہی۔

اصغری نے کہا ایسا مت کہیں آج آپ کی بیٹی پڑھائی کرنے کے بعد ایک سرکاری عہدے پر فائز ہے ۔یہ ساری کی ساری محنت سعدیہ اور اس کے گھر والوں خصوصاً سیٹھ شاہد کی ہے جن کی وجہ سے آج میں اس مقام پر ہوں ۔اصغری نے ماں کے آنسو صاف کیے۔
ماں نے کہا آج مجھے سمجھ میں آیا کہ بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی اتنا ہی برابر درجہ دیں ۔ہمیشہ ایک جیساپیار دیں ۔بیٹیاں ہی ہمیشہ ساتھ دیتی ہیں ۔میں نے جن سے بہت لاڈکیا وہی نافرمان ہو گئے۔
میری والدین سے گزارش ہے کہ لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بھی برابر پیار اور لاڈ کیا جائے۔
لڑکیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے دیں کیونکہ بیٹیاں اللہ کی رحمت اور بیٹے نعمت ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کو اس وقت زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کسی گھر میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت یعنی بیٹی عطا کرتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments