Bakri Or Mein Mein - Article No. 1817

بکری اور میں میں

بکری ایک خود پسند اور مغرور جانور ہے

پیر اکتوبر

Bakri or Mein Mein
مسعود ذکی
بکری ایک خود پسند اور مغرور جانور ہے ۔ہر وقت اپنی بڑائی کے گن گاتی اور ”میں میں“کرتی رہتی ہے ۔لوگ عام طور پر خود پسندوں کو پسند نہیں کرتے،مگر بکری کو پسند کرتے ہیں،کیونکہ وہ دودھ دیتی ہے ۔
کبھی کبھار دودھ کے ساتھ مینگنیاں بھی دے دیتی ہے،مگر گوالا ہوشیاری سے دودھ میں سے مینگنیاں نکال لیتا ہے ۔
بکری کا دودھ ایک جلد ہضم ہونے والی خوراک ہے،اس لئے یہ شیر خوار بچوں کے لئے مفید غذا ہے(پیارے بچو!ذرا دھیان رہے ش پر زبر نہیں زیر پڑھیے گا ۔
اگر غلطی سے زبر پڑھ دیا تو ممکن ہے بکری خوف زدہ ہو کر بھاگ کھڑی ہو)بکریوں کے عموماً دو ہی سینگ ہوتے ہیں ۔ عموماً اس لئے کہ کچھ بکریوں کے سینگ لڑائی جھگڑے میں ٹوٹ جاتے ہیں ۔
لڑائی جھگڑا ویسے تو بُری عادت ہے ،مگر بکریوں کو بڑا فائدہ یہ پہنچتا ہے کہ وہ بقر عید پر قربانی کا جانور بننے سے بچ جاتی ہیں،مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی،کبھی نہ کبھی تو چھری کے نیچے آئے گی،لہٰذا یہ قصائی کے ہتھے چڑھ جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

وہ اس کا گوشت الگ کرتا ہے اور چھیچھڑے الگ ۔کبھی کبھی آنکھ بچا کر چھیچھڑے بھی گوشت کے ساتھ تول دیتا ہے ۔
ہاں چھیچھڑے تو بلیوں کی پسندیدہ خوراک ہیں ۔بلیاں اس کے سہانے خواب دیکھتی ہیں اور اس خواب کی تعبیر کے لئے قصائی کی دوکان کے اردگرد منڈلاتی رہتی ہیں اور دانت نکال کر ایک دوسرے سے لڑتی ہیں ۔

بکریاں جی جان سے خالص دودھ دینا چاہتی ہیں،مگر گوالا اُن کے منصوبے پر پانی پھیر دیتا ہے ۔دودھ میں ملاوٹ معلوم کرنے کے لئے ایک آلہ استعمال کیا جاتا ہے جسے شیرپیما(لیکٹو میٹر)کہتے ہیں اُس سے پتا چلتا ہے کہ دودھ کا معیار بنانے میں بکری اور گوالے کا کتنا کتنا حصہ ہے ،یعنی اس آلے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے ۔
گوالے اس آلے کو سخت نا پسند کرتے ہیں ۔اس سے یہ بات پتا چلی کہ جب کوئی چیز ایجاد کی جائے تو یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ اس سے کسی کا نقصان تو نہیں ہو گا،ورنہ خواہ مخواہ لڑائی جھگڑے کا اندیشہ رہتا ہے ۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیا کرتے تھے ۔
ہمیں تو یقین نہیں،مگر کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے ۔ہمارا تو خیال ہے کہ شیر اور بکری صرف ایک ہی صورت میں اکٹھے ہو سکتے ہیں جب بکری شیر کے پیٹ میں ہو ۔جیسا کہ ہم نے کہا کہ جب بکری زیادہ ہی ترنگ میں آتی ہے تو میں میں کی رٹ لگائے رکھتی ہے ۔
اس صورت میں قصائی کو بلا کر اس کے گلے پر چھری پھروا لی جاتی ہے ۔یہ ہے خود پسندی اور اپنے آپ کو سب سے اعلیٰ سمجھنے کا انجام ۔ہر وقت ” میں ہی میں“نہیں کرنا چاہیے ۔کبھی کبھی دوسروں کی بات بھی سن لینی چاہیے ۔اس میں بڑا فائدہ ہے،ورنہ پھر بکری جیسے انجام کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔باقی رہے نام اللہ کا ۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Zobariya Ki Salgirah

زوباریہ کی سالگرہ

Zobariya Ki Salgirah

Roone Wala Darakht

رونے والا درخت

Roone Wala Darakht

Ghareeb Shahzada

غریب شہزادہ۔۔۔تحریر: مختار احمد

Ghareeb Shahzada

Baba Berro

بابا بیرو:

Baba Berro

Hisab E Dostaan

حسابِ دوستاں

Hisab E Dostaan

Khud Aitmad

خود اعتماد

Khud Aitmad

Lalach Ki Saza

لالچ کی سزا

Lalach Ki Saza

Neki Wala Daba

نیکی والا ڈبا

Neki Wala Daba

Gulabi Farak

گلابی فراک

Gulabi Farak

Phool Ka Jawab

پھول کا جواب

Phool Ka Jawab

Ab Bala Nehin Aye Gi

اب بلا نہیں آئے گا

Ab Bala Nehin Aye Gi

Jo Huwa Acha Huwa

جوہوا اچھا ہوا

Jo Huwa Acha Huwa

Your Thoughts and Comments