Baktar Band Jism Ka Malik Gainda - Article No. 1670

بکتر بند جسم کا مالک گینڈا

بڑا جسم ،کھڑا ہونے اور چلنے کا مخصوص انداز ،اور تھوتھنی پر ایک یا دو سینگ گینڈوں کی پہچان ہیں۔

پیر فروری

Baktar Band Jism Ka Malik Gainda
ہماء غفار
گینڈوں کی پانچ اقسام ہیں اور زیادہ تر یہ ایک دوسرے سے مختلف علاقوں میں رہتی ہیں۔بڑا جسم ،کھڑا ہونے اور چلنے کا مخصوص انداز ،اور تھوتھنی پر ایک یا دو سینگ گینڈوں کی پہچان ہیں۔گینڈے بڑے جسم کے ہوتے ہیں لیکن ان کا دماغ غیر معمولی چھوٹا ہوتاہے ۔
بڑے گینڈوں میں بھی دماغ کا وزن ڈیڑھ پاونڈ سے زیادہ نہیں ہوتا۔یہ اتنے بڑے ہاتھی کی نسبت پانچ گنا چھوٹا ہوتاہے ۔چھوٹا دماغ ان جانوروں میں عام ہے جن میں شکاری حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی جسمانی استعداد ہوتی ہے مثلاً ان کا جسم بکتر بند ہوتاہے۔

گینڈوں کی پانچ اقسام تا حال باقی ہیں ۔یہ سفید گینڈا،سیاہ گینڈا، انڈین گینڈا،جاوی گینڈا اور سماٹری گینڈا ہیں۔سب سے بڑی قسم سفید گینڈا ہے جس کی دو ذیلی قسمیں جنوبی سفید گینڈا اور شمالی سفید گینڈا ہیں۔

(جاری ہے)

جنوبی سفید گینڈا افریقہ کے انتہائی مقبول علاقوں میں رہتا ہے اور شمالی سفید گینڈا وسطی افریقہ میں ۔

جنگل میں جنوبی سفید گینڈوں کی تعداد 20ہزار کے لگ بھگ ہے ۔شمالی سفید گینڈا معدوم ہونے کے قریب ہے ۔یہ گینڈے اب چڑیا گھروں اور محفوظ قدرتی علاقوں میں رہتے ہیں۔
کوئی نہیں جانتا کہ اس گینڈے کو سفید (وائٹ)کیوں کہتے ہیں۔شاید یہ ولندیزی لفظ”Wijd“کی ایک شکل ہے جس کے معنی چوڑے یا ”wide“ کے ہیں۔
یا پھر اس کے سینگ کے رنگ کی بدولت یہ نام پکارا جاتاہے ،جو گینڈوں کی دوسری اقسام کی نسبت ہلکا ہوتاہے۔سیاہ گینڈے دراصل بھورے یا سر مئی رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ جنوبی اور وسطی افریقہ میں کثرت سے ہوا کرتے تھے ۔لیکن اب ان کی تعداد جنوبی سفید گینڈوں کی نسبت آدھی رہ گئی ہے ۔
ان کا وزن دوٹن سے خال خال ہی بڑھتاہے ،اور سفید رشتہ داروں کے برعکس یہ گھاس نہیں ،جھاڑیاں کھاتے ہیں۔ان کی متعدد ذیلی اقسام بھی ہوا کرتی تھیں لیکن اب انٹر نیشنل یونین آف دی کنزرویشن آف نیچر کے مطابق صرف تین رہ گئی ہیں ،اور یہ تمام معدوم ہونے کے شدید خطرے سے دو چار ہیں۔

اگر دنیا میں کوئی ایسا مقام ہے جہاں انسان چاہے گا کہ اسے نہیں ہونا چاہیے تو وہ ہے ہڑ بڑا کر دوڑتے ہوئے گینڈے کا راستہ۔یہ جانور خوف محسوس کرنے پر 30میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکڑا سکتاہے ۔گینڈوں کی نظر دوسرے جانوروں کی نسبت کمزور ہوتی ہے، اس لئے بھی ان کے راستے میں آنا برا ثابت ہوسکتاہے ۔گینڈے تنہائی پسند ہوتے ہیں اور ان میں سب سے قریبی رشتہ ماں اور بچے ہی کا ہوتاہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Kanjoos Ki Billi

کنجوس کی بلی

Kanjoos Ki Billi

Meri Kitab

میری کتاب

Meri Kitab

Khud Pe Bhrosaa

خود پے بھروسہ

Khud Pe Bhrosaa

Akalmand Bakri

عقل مند بکری

Akalmand Bakri

Soone Ka Dewana Badshah

سونے کا دیوانہ بادشاہ

Soone Ka Dewana Badshah

Azaadi Inhain Bhi Chahiye

آزادی انہیں بھی چاہیے

Azaadi Inhain Bhi Chahiye

Khudgharz Loomri

خود غرض لومڑی

Khudgharz Loomri

Salgrah

سالگرہ

Salgrah

Nanhay Miyan Ki Tauba

ننھے میاں کی توبہ

Nanhay Miyan Ki Tauba

Anaaj

اناج

Anaaj

Usool Ki Kamyabi

اصول کی کامیابی

Usool Ki Kamyabi

Muqadar Ka Likha

مقدر کا لکھا

Muqadar Ka Likha

Your Thoughts and Comments