Banu Or Ranu - Article No. 1806

بانو اور رانو

بانو اور رانو دونوں ایک ہی محلے میں رہتی تھیں لیکن بانو سکول اور گھر کے ہر کام میں دلچسپی لیتی تھی وہ تھی بھی بہت ذہین اور عقل مند،جب کہ رانو آرام پسند اور تھوڑا بے وقوف اور کم عقل تھی

ہفتہ ستمبر

Banu Or Ranu
شمع ناز
بانو اور رانو نام کی دو لڑکیاں تھیں۔ وہ دونوں اچھی سہیلیاں تھیں۔ بانو اور رانو دونوں ایک ہی محلے میں رہتی تھیں لیکن بانو سکول اور گھر کے ہر کام میں دلچسپی لیتی تھی وہ تھی بھی بہت ذہین اور عقل مند،جب کہ رانو آرام پسند اور تھوڑا بے وقوف اور کم عقل تھی۔

ایک مرتبہ بانو نے گرمیوں کے دنوں میں اپنی نانی جان کے گھر جانے کا ارادہ کیا اور نانی جان کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگی۔ راستے میں اُسے ایک گائے ملی، گائے نے کہا:”بیٹی! میرے آس پاس جو گوبر ہے اُسے صاف کر دو تاکہ میں آرام سے بیٹھ سکوں۔
“رانو نے گوبر صاف کر دیا اور آگے بڑھنے کے بعد ایک برگد کا پیڑ ملا،پیڑ نے کہا:”بیٹی !میرے پاس جو سوکھے پتے پڑے ہیں اُنھیں صاف کر دو،لوگ میرے سائے میں بیٹھ کر گندگی پھیلا جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

“ بانو نے سوکھے پتے صاف کر دیئے۔ اب وہ آگے بڑھنے لگی تب ہی اُسے ایک پتھر ملا،اُس نے کہا:” ’بیٹی!یہاں میرے چاروں طرف جو ٹکڑے پڑے ہیں اُنھیں صاف کر دو۔

“ بانو نے اُسے صاف کر دیا اور وہ اپنی نانی جان کے گھر پہنچ گئی۔ وہاں جا کر اُس نے اپنی بوڑھی نانی جان کے کاموں میں ہاتھ بٹایا،جب بانو اپنے گھر واپس آنے لگی تو اُس کی نانی جان نے اُسے بہت سارے تحفے دیے۔
واپس آتے وقت اُسے وہی پتھر ملا جس کے چاروں طرف ٹکڑوں کے بجائے سونے کی اینٹ پڑی ہوئی تھی۔
پتھر نے کہا:”بیٹی!تم جتنی چاہو اینٹ لے لو۔بانو نے کچھ اینٹیں لے لیں اور آگے بڑھنے گئی۔ پھر اُسے برگد کا وہی پیڑ ملا،رانو نے پیڑ کے کہنے پر اس کی شاخوں سے لٹکے ہوئے قیمتی کپڑوں میں سے کچھ کپڑے لے لیے۔ اب بانو آگے بڑھی اُسے وہی گائے ملی ،گائے نے کہا:”بیٹی تم جتنا چاہو اُتنا دودھ پی لو اور یہ میٹھا بھی ساتھ لے جاؤ۔
بانو اس طرح اپنے گھر واپس آگئی۔ اور سبھی باتیں اُس نے اپنی سہیلی رانو کو بتائیں۔
رانو نے بھی اُس کی باتیں سن کر اپنی نانی جان کے گھر جانے کا ارادہ کر لیا اور وہ جانے کی تیاری کرنے لگی۔راستے میں جاتے وقت اُسے وہی گائے ملی ۔
گائے نے کہا:”بیٹی!تم یہ گوبر صاف کر دو۔ اس پر رانو نے کہا میں بانو نہیں ہوں جو آپ کی بات مانوں۔“آگے بڑھنے پر اُسے وہی برگد کا پیڑ اور پتھر ملے اور ان دونوں نے جب رانو سے صفائی کرنے کو کہا تو اس نے انھیں بہت ٹکا سا جواب دے دیا۔
اب وہ اپنی نانی جان کے گھر پہنچ گئی نانی جان کے گھر جا کر اُس نے کوئی کام نہیں کیا بلکہ خوب کھایا پیا اور نئی نئی چیزوں کی بے جاضد بھی کی۔
جب رانو اپنے گھر لوٹنے لگی تو اُس کی نانی نے اپنی کام چور نواسی کو کچھ بھی تحفہ نہیں دیا۔
راستے میں واپس آتے وقت وہی پتھر اور برگد کے پیڑ ملے۔ ان دونوں نے رانو پر چھوٹے چھوٹے پتھروں اور سوکھے پتوں کی برسات کر دی،رانو وہاں سے بچ بچا کر نکلی کہ وہی گائے مل گئی گائے نے ایسے ایسی زور کی لات ماری کہ وہ دور جا گری اس طرح اُسے بہت زخم آئے اور وہ زخمی حالت میں اپنے گھر پہنچ گئی۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ دوسروں کے کام آنا اچھی بات ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Kisan Aur Pari

کسان اور پری

Kisan Aur Pari

Aao BachooN! Ramzan Kareem Ko Dost Banain

آؤبچو!رمضان کریم کودوست بنائیں

Aao BachooN! Ramzan Kareem Ko Dost Banain

Bila Unwan Inaami Kahani

بلاعنوان انعامی کہانی

Bila Unwan Inaami Kahani

Hadsa

حادثہ

Hadsa

Billi Sher Ki Khala

بلی شیر کی خالہ

Billi Sher Ki Khala

Haqeeqi Khazana

حقیقی خزانہ

Haqeeqi Khazana

Sahhi Chor

شاہی چور

Sahhi Chor

Veran Kunway Ka Raaz

ویران کنویں کا راز

Veran Kunway Ka Raaz

Chirya Ka Inteqam

چڑیا کا انتقام۔۔۔تحریر:ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

Chirya Ka Inteqam

Ghareeb Shahzada

غریب شہزادہ۔۔۔تحریر: مختار احمد

Ghareeb Shahzada

Qudrat Ka Nizam

قدرت کا نظام

Qudrat Ka Nizam

Insaan Dost

انسان دوست

Insaan Dost

Your Thoughts and Comments