bara nuqsan

Bara Nuqsan

بڑا نقصان

اعجاز اپنے دوست کا مران کے ساتھ گاڑی میں سوار اردو بازار کی طرف جار ہا تھا ۔مرکزی سڑک کے قریب ٹریفک جام تھا۔

نذیر انبالوی
اعجاز اپنے دوست کا مران کے ساتھ گاڑی میں سوار اردو بازار کی طرف جار ہا تھا ۔مرکزی سڑک کے قریب ٹریفک جام تھا ۔کامران کی کوشش تھی کہ سورج غروب ہونے سے پہلے اردو بازار پہنچ جائے ۔جب موسم خراب ہوتا تھا ،وہ اپنے دوست اعجاز کو اپنی کار میں بٹھا لیتا تھا۔

اعجاز گھر میں اردو اور انگلش کمپوزنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اب کتابوں کے سرورق بھی بنا تا تھا ۔جب کام زیادہ ہوا تو اس نے ایک نوجوان کو ملازم رکھ لیا۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کا کام بڑھتا گیا ۔ کام بڑھنے سے یہ ہوا کہ اب وہ اشاعتی اداروں کا کام بروقت نہیں کر پاتا تھا۔

ایک دن اعجاز اور کامران کتابیں چھاپنے والے ایک بڑے ادارے کے دفتر میں بیٹھے تھے ۔ادارے کے مالک مقبول نے ایک مسودہ اعجاز کے حوالے کرتے ہوئے کہا:”آپ یہ مسودہ لے جائیے۔

(جاری ہے)

میں یہ کتاب جلد شائع کرنا چا ہتا ہوں ۔کمپوزنگ جلد مکمل ہونی چا ہیے۔


”ایک ہفتے میں اس کتاب کی کمپوزنگ کر دو ں گا ۔“اعجاز نے مسودہ اُلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
اعجاز اب جہاں بھی جاتا ،یہی جملہ دہرا تا ہے کہ آپ کو کام بروقت ملے گا ۔کبھی کبھی کامران بھی اس کے ساتھ ہوتا ۔
وہ جب یہ جملہ سنتا تو اعجاز کو گھورتا ۔جب وہ کار میں آکر بیٹھتے تو کامران کہتا:”اتنا زیادہ کام کس طرح کر پا ؤ گے ،بہتر یہی ہے کہ اتنا ہی کام لو ،جتنا آسانی سے کر سکو ۔“
”ہو جائے گا کام ،تم فکر کیوں کرتے ہو،مارکیٹ میں تو اسی طرح کام ہوتا ہے ۔
“اعجاز کو تو گویا کوئی فکر ہی نہ تھی ۔
آج وہ دوبارہ مقبول صاحب سے ملنے جا رہا تھا ،کیوں کہ کئی بار ان کا فون آچکا تھا اور ان کا کام مکمل نہیں ہوا تھا ۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں مقبول صاحب کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔انھوں نے جب کمپوزنگ کے بارے میں سوال کیا توا عجاز نے غم زدہ لہجے میں کہا:”سر! ․․․․․․․وہ ․․․․․․․دراصل میری بیٹی تین دن سے شدید بخار میں تپ رہی ہے ۔
بخار ہے کہ کم ہی ہونے میں نہیں آرہا۔پریشانی کے باعث اپ کا کام نہیں کر سکا ،میں جلد آپ کا کام مکمل کر دوں گا ۔“
اعجاز کی باتیں سن کر کامران حیران ہو رہا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اعجاز جھوٹ بول رہا ہے ۔اعجاز کی بیٹی بیمار ہو اور اسے علم نہ ہو ،ایسا کیسے ہو سکتا تھا ۔
مقبول صاحب نے انسانی ہمدردی کے تحت کام نہ کرنے کے باوجود اعجاز کو بیٹی کے علاج کے لیے کچھ پیسے پیشگی دے دیے۔
انھیں گاڑی میں بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ اعجاز کا موبائل فو ن بج اُٹھا تھا ۔اعجاز نے موبائل کی اسکرین پر نام دیکھ کر خود کلامی کی :”شیخ ارشد۔

کامران نے کہا :”ان سے بھی کوئی جھوٹ بول دو۔تمھارا تو کام ہی جھوٹ پر چلتا ہے ۔بیٹی کی بیماری کا کہہ کر تم نے اچھا نہیں کیا ۔ایسا مت کرو ۔“
”ایسا نہیں کروں گا تو کاروبار کیسے چلے گا ۔ایسا کرنا کاربار کا حصہ ہے ۔
سب جگہ ایسا ہی چلتا ہے ۔اب دیکھ لو،کام بھی نہیں کیا اور پیسے بھی مل گئے ہیں ۔اتنے چھوٹے موٹے جھوٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
اعجاز اپنے دوست کی کسی بات کو سننے اور عمل کرنے کے لیے تیار نہ تھا ۔وہ کئی جگہ رکا اور سب کو جھوٹی تسلیاں دے کر واپس کار میں بیٹھ گیا۔

اب ان کا رُخ شیخ ارشد کے ادارے کی طرف تھا ۔گاڑی میں آکر اعجاز نے بیگ کھولا اور روئی نکال لی ۔پھر اس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے بائیں بازو پر روئی رکھی اور اس پر مضبوطی سے پٹی باندھ لی۔ایسا لگ رہا تھا ،جیسے اسے چوٹ لگی ہو۔
پٹی لمبا کرکے اسے گلے میں بھی ڈال لیا تھا ۔اب بازو کاوزن اس پٹی پر تھا ۔
”آیندہ میں تمھارے ساتھ نہیں آؤں گا ۔میں اس غلط کام میں تمھارا ساتھ نہیں دے سکتا ۔تم شیخ ارشد کے پاس جاؤ ،میں گاڑی میں بیٹھا ہوں ۔“
کامران کو بازو پر پٹی باندھنے کی حرکت بالکل بھی اچھی نہیں لگی تھی ۔
وہ اعجاز کے اصرار کے باوجود اس کے ساتھ نہ گیا ۔وہ گاڑی ہی میں بیٹھا رہا ۔کچھ دیر بعد اعجاز ہنستا مسکراتا گاڑی میں واپس آیا ۔وہ ہمیشہ کی طرح کام یاب لوٹا تھا ۔اس کی جیب میں روپے تھے ۔اعجاز کا بازو ابھی تک گلے میں لٹک رہاتھا ۔
کامران کے غصے کی شدت اعجاز نے محسوس کرلی تھی۔وہ جان گیاتھا کہ معاملہ کچھ زیادہ ہی خراب ہو گیا ہے ۔
”لو بھئی! یہ پٹی اُتار دیتا ہوں ،اب اس پٹی کا کام ختم ہو گیا ہے ۔اس پٹی نے بگڑا کام سنواردیا ہے ۔بازو کو گلے میں لٹکتے دیکھ کر شیخ ارشد کا غصہ جاتا رہا ،انھوں نے ہمدردی کے دو بول بولے اور روپے مجھے تھما دیے۔

کامران کو اعجاز کی باتوں میں کوئی دل چسپی نہیں تھی ۔اگر دوستی کا خیال نہ ہوتا تو وہ کب کا وہاں سے چلا گیا ہوتا ۔
”میرا دوست مجھ سے ناراض ہے ۔ابھی تمھیں کسی اچھی جگہ لسی پلا کر تمھاری ناراضی دور کرتاہوں ۔“اعجاز نے شوخ انداز سے کہا ۔

ابھی وہ اردو بازار کے چوک میں کھڑے تھے کہ شیخ ارشد اُدھر آنکلے۔اعجاز اپنا بایاں بازو باہر نکال کر پیچھے آنے والے موٹر سائیکل کو خبر دار کر رہا تھا کہ شیخ ارشد کی نظر اعجاز پر پڑی تھی ۔وہ دائیں طرف سے ہو کر گاڑی کے سامنے آگئے تھے ۔
اعجاز تو شیخ ارشد کود یکھ کر گھبرا سا گیا تھا ۔۔اگلے لمحے شیخ ارشد نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا ۔پٹی اور روئی اعجاز کی سیٹ پر دیکھ کر شیخ ارشد آگ بگولا ہو گئے اور چِلّا ئے :”دھو کے باز ،مکار ،جھوٹے ․․․․اب میں تمھیں اردو بازار میں کام نہیں کرنے دوں گا ۔

”مجھے معاف کر دیں ۔میں نے جو کہا غلط ہے،میں آیندہ ایسا نہیں کروں گا ۔“
شور سن کر آس پاس کے دکان دار بھی وہا ں آگئے تھے ۔ان کے درمیان اعجاز سر جھکا ئے کھڑا تھا۔
گھر آکر بھی وہ کافی دیر تک اپنے کمرے میں سر جھکائے بیٹھا رہا ۔
میز پر رکھے مسودات پر اعجاز بار بار نگاہ ڈال رہا تھا ۔شیخ ارشد اردو بازار کا بااثر آدمی تھا ۔شام کے وقت تقریباََ سارے ہی ناشر ایک جگہ اِکٹھا ہو کر گپ شپ کرتے تھے ۔شیخ ارشد کی زبانی سبھی کو اعجاز کی اصلیت کا علم ہو گیا تھا ۔
اشاعتی ادارے اپنے مسودات کی واپسی کے لیے اس سے رابطہ کرنے لگے۔ اس نے لاکھ اپنی صفائی پیش کی،مگر کوئی اس کی بات کا اعتبار کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا ہے کہ اس کے پاس کام بالکل ہی ختم ہو گیا ۔ایسی صورت میں اب ملازم کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی ۔
اعجاز نے اپنے کار بار کو جہاں سے شروع کیا تھا ،اب وہ وہیں آکر کھڑا ہو گیا تھا ۔جھوٹ نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑ ا تھا ۔اس نے زمانہ طالب علمی میں شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید کا ایک قول پڑھا تھا کہ جھوٹ بول کر معمولی فائدہ اُٹھانے والے ایک دن بڑا نقصان اُٹھاتے ہیں ۔آج اس نے اس قول کی عملی صورت دیکھ لی تھی۔وہ جھوٹ بول بول کر جو معمولی فائدے حاصل کرتا رہا تھا ،آج اسے اچانک بہت بڑا نقصان اُٹھانا پڑا تھا ۔

Your Thoughts and Comments