batakh aur murghi ke choze

Batakh Aur Murghi Ke Choze

بطخ اورمرغی کے چوزے

بی بطخ اور بی مرغی دونوں نے انڈے دیئے۔ انہیں اپنے انڈوں پر بڑا فخر تھا۔دونوں اپنے اپنے انڈوں پر بیٹھتیں انکے چہروں پر بیوقوف سی مسکراہٹ ہوتی۔

احمد عدنان طارق
بی بطخ اور بی مرغی دونوں نے انڈے دیئے۔ انہیں اپنے انڈوں پر بڑا فخر تھا۔دونوں اپنے اپنے انڈوں پر بیٹھتیں انکے چہروں پر بیوقوف سی مسکراہٹ ہوتی۔ بی مرغی نے کہا ”بہن بطخ! کیا ہم اپنے انڈے ساتھ ساتھ رکھ کر دیکھیں کہ کس کے انڈے زیادہ خوبصورت ہیں“۔

بی بطخ نے جواب دیا ”اگر تم چاہو تو ایسا کر لیتے ہیں مگر میں تو جانتی ہوں کہ میرے انڈے خوبصورت ہیں“۔ بی مرغی نے غصے سے کہا ”بی بطخ پہلے میرے انڈے دیکھو پھر فیصلہ کرنا“۔ بی بطخ اپنے انڈے لائی اور فرش پر بچے ہوئے بھوسے پرقطار میں رکھ دیئے پھر مرغی کو ایک انڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھا کر کہنے لگی ”دیکھو یہ انڈا کتنا گول مٹول ہے“اسی طرح بی مرغی نے بھی ایک انڈا اٹھایا اور کہنے لگی ”یہ انڈا دیکھو کتنا گول مٹول اورصاف شفاف ہے“۔

(جاری ہے)

انہوں نے دونوں انڈے نیچے رکھے اور مزید دوسرے دو انڈے اٹھا لئے۔ بی بطخ نے کہا ”یہ انڈا گول بھی ہے، شفاف بھی ہے اور اس کے اوپر باریک سی دھاریاں بھی ہیں“ اسی طرح انڈوں پر بحث کرتے کرتے جب انہوں نے آخری انڈہ نیچے رکھا تب تک دونوں ماﺅں کے انڈے گھل مل گئے تھے،مرغی بولی ”کیونکہ میں بہت موٹی تازی ہوں اس لئے میرے انڈے بھی بڑے ہیں“۔
یہ سن کر بطخ نے چھوٹے انڈے اٹھائے اور انہیں اپنا سمجھ کر اپنے گھونسلے میں رکھ لیا۔ اسی طرح مرغی نے بڑے انڈے اٹھائے اور انہیں سمیٹ کر اپنے قبضہ میں لے لیا۔دونوں اپنے اپنے انڈوں پر اتنی دیر بیٹھی رہیں جب تک کہ ان میں سے پیارے ننھے منے گول مٹول مرغی اور بطخ کے چوزے نہ نکلے آئے۔
ایک دن بطخ اور بی مرغی راستے میں ملیں دونوں کے چوزے ماﺅں کے پیچھے پیچھے تھے۔ بطخ بڑے فخر سے بولی ”کیا سب سے خوبصورت چوزے نہیں ہیں۔ کیا بی مرغی تم نے اتنے پیارے چوزے پہلے کبھی دیکھے ہیں“۔ بی مرغی نے جواب دیا ”واقعی بہت خوبصورت ہیں لیکن ادھر بھی تو دیکھو کیا تم نے کسی مرغی کے اتنے خوبصورت چوزے دیکھے ہیں“۔
جواب میں بطخ نے بھی مرغی کے چوزوں کی تعریف کی۔ اگلے دن بطخ اپنے چوزوں کو کہہ رہی تھی ”چلو ایک قطار بناﺅ اور ایک دوسرے کے پیچھے چلو۔ آج میں تمہیں تیرنے کا پہلا سبق دوں گی“ لیکن قطار نہیں بن رہی تھی۔ وہ بار بار قطار سے باہر نکل جاتے۔
وہ تو بس ماں کے ہر طرف دوڑے پھرتے تھے۔بطخ انہیں سمجھا کر تھک چکی تھی۔ جب وہ تالاب کے کنارے پر پہنچے تو چوزوں نے اپنے پاﺅں پانی میں ڈالے اور پانی میں اترنے سے انکار کر دیا۔ ادھر بی مرغی اپنے چوزوں کو مرغی کے چوزے بننا سکھا رہی تھی۔
وہ انہیں زمین کو کھروچ کر کیڑے مکوڑے پکڑنا سکھا رہی تھی لیکن چوزے ایسا کر نہیں پا رہے تھے ماں انہیں بتا رہی تھی کہ کھیت میں ادھر ادھر دوڑ کر اپنی خوراک تلاش کریں لیکن وہ ایک قطار بنا کر ماں کے پیچھے پیچھے تھے۔ جب بی مرغی کا منہ دوسری سمت ہوا تو چوزے فوراً داﺅ لگا کر موتی کتے کے پانی پینے والے برتن میں چلے گئے اورباہر آنے سے انکار کر دیا۔
موتی ساتھ ہی سو رہا تھا۔ اس نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا کہ کیسا شور ہے اس نے چوزوں کی اس حرکت کا برا نہیں منایا۔ بی مرغی اور بی بطخ نے ٹھنڈی آہیں بھریں اور گفتگو کرنے کے لئے ساتھ ساتھ بیٹھ گئیں۔ اب وہ سمجھ چکی تھیں کہ انہوں نے غلطی سے ایک دوسرے کے انڈے تبدیل کر لئے تھے۔
بی مرغی بولی ”کوئی بات نہیں ان چوزوں کو بطخ یا مرغی کے چوزے کہنے کی بجائے صرف چوزے ہی کہہ لیتے ہیں“۔ بی بطخ نے کہا ”میرے یا تمہارے سارے چوزے بہت ہی خوبصورت ہیں ورنہ ان میں سے کوئی بدصورت ہوتا تو بدلے جانے کے باوجود ہم انہیں پیار نہیں کرتے“۔
مرغی نے بھی تائید کی۔ وہ ساری دوپہر بیٹھی باتیں کرتے چوزوں کو خوشی خوشی دیکھتی رہی جو کھیل رہے تھے۔ بطخ کے بچے موتی کے پانی والے برتن میں کھیل رہے تھے اور مرغی کے بچے موتی کے اوپر چڑھے ہوئے کھیل رہے تھے۔

Your Thoughts and Comments