Bay Charah Lakar Hara

بے چارہ لکڑ ہارا

کسی گاؤں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا ۔جنگل بھی گاؤں کے قریب ہی تھا ۔وہ دن بھر جنگل سے لکڑیاں کا ٹتا اور انھیں بیچ کر اپنی روزی کماتا۔اس کے دن سکون سے گزر رہے تھے ۔ایک دن

جمعہ جنوری

bay charah lakar hara

کسی گاؤں میں ایک لکڑ ہارا رہتا تھا ۔جنگل بھی گاؤں کے قریب ہی تھا ۔وہ دن بھر جنگل سے لکڑیاں کا ٹتا اور انھیں بیچ کر اپنی روزی کماتا۔اس کے دن سکون سے گزر رہے تھے ۔ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا۔اس کی نظر ایک درخت پر پڑی ۔درخت خشک ہو چکا تھا ۔

چناں چہ وہ اپنے کلہاڑے سے اس درخت کو کاٹنے لگا۔ابھی اس نے درخت پر پہلی ہی ضرب لگائی تھی کہ اچانک درخت سے ایک بھیانک چیخ کی آواز آئی ۔لکڑہارا ڈرکر پیچھے ہٹ گیا۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سامنے درخت میں سے ایک جن نمودار ہوا۔
اس کی شکل اتنی خوف ناک تھی کہ اس کو دیکھ کر لکڑ ہارے کی چیخ نکل گئی ۔اس کی لال لال آنکھیں انگاروں کی طرح بھڑک رہی تھیں ۔
اس کے کندھے پر ایک چوٹ کا نشان تھا ،جس میں سے ایک عجیب سا مادہ نکل رہا تھا،جو شاید اس جن کا خون تھا ۔

(جاری ہے)

جن لکڑ ہارے کو دیکھ کر خوف ناک آواز میں بولا:”اے نادان انسان! یہ تُو نے کیا کردیا؟میں برسوں سے اس درخت میں سورہا تھا ۔آج تیری وجہ سے میری نیند ٹوٹ گئی ۔تیرے کلہاڑے سے میں زخمی بھی ہو گیا ہوں ،اب میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔

جن کی آواز ایسی تھی جیسے بادل آپس میں ٹکرارہے ہوں ۔
”مم․․․․․․مجھے معاف کردو ،میں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم یہاں سورہے ہو،
ورنہ میں یہاں کبھی نہ آتا۔مجھے معاف کردو ۔“لکڑ ہارا کپکپاتی آواز میں بولا۔

جن گرجا:”نہیں ،نیند سے اُٹھانے پر توشاید میں تجھے معاف بھی کردوں ،لیکن تیرے کلہاڑے سے میرے کندھے پر جو چوٹ آئی ہے ،اس کے لیے میں تجھے معاف نہیں کروں گا۔میں تجھے جلا کر بھسم کر ڈالوں گا۔“
نن․․․․․․نہیں ․․․․․مجھے معاف کردو ،مجھ سے ایسا لاعلمی میں ہوا ہے ۔
خدا کے واسطے ! مجھے معاف کردو ․․․․․“ لکڑہارا اس کی منت سماجت کرنے لگا۔
جن نے کہا:”ٹھیک ہے ،میں تجھے ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں ۔“
لکڑ ہارا فوراً بولا:”کون سی شرط ․․․․․؟“
”شرط یہ ہے کہ اگلے تین دن تک تجھے جھوٹ بولنا پڑے گا،ہر بات میں جھوٹ ۔
اگر غلطی سے بھی کوئی سچی بات تیرے منھ سے نکل گئی تو میں فوراً تجھے جلا کر بھسم کر دوں گا۔“
لکڑہارا یہ سن کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ اتنی آسان شرط ․․․․․یہ تو میں آسانی سے پوری کرلوں گا۔
یہ جن بھی بالکل نکما ہے ،شرط دی بھی تو کون سی کہ تین دنوں تک جھوٹ بولنا ہے ۔
ہاہاہا۔لکڑ ہارے نے مسکراکر کہا :”مجھے یہ شرط منظور ہے ۔“
جن نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور پھر غائب ہو گیا۔لکڑ ہارا اپنی کاٹی ہوئی لکڑیاں اُٹھا کر واپس گاؤں آگیا۔
اس کی دکان کی دیوار اس کے گھر سے ملی ہوئی تھی ۔
وہ اپنی دکان میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ ان تین دنوں میں نہ جانے اسے کتنے جھوٹ بولنے پڑیں گے ۔اچانک اس نے دور سے دیکھا کہ حافظ صاحب اس کی دکان کی طرف چلے آرہے تھے ۔حافظ صاحب بہت ہی شریف اور نفیس انسان تھے ۔وہ قریب آئے تو لکڑ ہارا اُٹھ کر ان سے گر م جوشی سے ملا۔

”مجھے بہادر سے کچھ کام تھا ،کیا وہ گھر پر ہے ؟“حافظ صاحب نے پوچھا۔
بہادر ،لکڑ ہارے کا چھوٹا بھائی تھا ۔ابھی لکڑ ہارا ،ہاں کہنے ہی والا تھا ،کیوں کہ بہادر گھر پر ہی تھا ،لیکن پھر اسے یاد آیا کہ اس نے تو جن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جھوٹ بولے گا۔
چناں چہ وہ بولا:”نہیں،حافظ صاحب ! وہ گھر پر نہیں ہے ۔“
حافظ صاحب نے کہا:”اچھا وہ تھوڑی دیر پہلے مجھے ملا تھا اور کہہ رہا تھا کہ گھر پر جارہاہوں ۔پتا نہیں کہاں چلا گیا۔اچھا خیر ،جب وہ آئے تو اسے بتا دینا کہ میں آیا تھا۔

”ٹھیک ہے میں اسے بتادوں گا۔وہ کسی کام سے دریا کے کنارے گیا تھا۔“
لکڑہارے نے بہانہ بنا دیا ۔
” اچھا میں چلتا ہوں ۔“حافظ صاحب نے کہا اور ابھی جانے ہی والے تھے کہ اچانک بہادر کھڑکی میں نظر آیا ۔حافظ صاحب کی نظر اس پر پڑی تو وہ چونک گئے ،پھر حیرت سے لکڑ ہارے کو دیکھنے گے ۔
لکڑ ہارا گڑ بڑا گیا:”وہ ․․․․․․․وہ ․․․․․․․․“لکڑ ہارے کی زبان پر الفاظ نہیں آرہے تھے ۔
”آپ تو کہہ رہے تھے کہ بہادر دریا پر گیا ہے اور گھر میں نہیں ہے،جب کہ وہ تو گھر میں ہی ہے ۔آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا؟“حافظ صاحب کے لہجے میں خفگی تھی ۔

”وہ ․․․․․وہ ․․․․․وہ مجھے بہادر نے ہی کہا تھا کہ حافظ صاحب سے کہنا کہ وہ گھر پر نہیں ہے ۔“لکڑ ہارے کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے کہہ دیا۔
”کیا کہا؟بہادر نے ایسا کہا تھا ۔مجھے آپ دونوں سے یہ اُمید نہیں تھی ۔
میں اتنی دور سے پیدل آیا ہوں ۔کم از کم میرے بڑھاپے کا تو خیال کر لیا ہوتا ۔“حافظ صاحب ناراض ہو گئے ۔حافظ صاحب نے مزید کوئی بات نہ سنی اور ناراض ہو کر چلے گئے ۔بہادر گھر سے نکل کر آیا اور پوچھا:”یہ حافظ صاحب کیوں چلے گئے ؟انھیں میں نے بلایا تھا ۔

لکڑ ہارا گھبرا گیا:”وہ ․․․․․․وہ کہہ رہے تھے کہ وہ شام کر آکر ملیں گے ۔“
”اچھا ․․․․․“بہادر نے کہا اور پھر واپس گھر میں چلا گیا۔
لکڑ ہارے کو اپنے آپ پر بہت غصہ آرہا تھا کہ اس نے یہ سب باتیں کیوں کیں ۔
جب شام گزرنے پر بھی حافظ صاحب نہ آئے تو بہادر خود ان کے گھر چلا گیا۔پھر جب وہ واپس آیا تو آتے ہی لکڑ ہارے پر برس پڑا :”آپ نے انھیں میرے بارے میں جھوٹ کیوں بتایا۔آپ کو پتا ہے کہ آپ کی اس شرارت کی وجہ سے وہ مجھ سے کتنا خفا ہیں ۔
مجھے آپ سے ایسی توقع نہ تھی ۔“
لکڑ ہارا شر مندہ سارہ گیا ۔حافظ صاحب اور بھائی دونوں ناراض ہو گئے تھے ۔لکڑ ہارا اس بات پر بہت پریشا ن تھا ۔ساری رات اسی پریشانی میں گزر گئی۔
اگلے دن جب لکڑ ہارا لکڑیاں بازار میں بیچ کر واپس آرہا تھا تو اس نے کمائے ہوئے رپوں والی تھیلی جیب میں ڈال لی ،لیکن ابھی وہ تھوڑی ہی آگے چلا تھا کہ اسے محسوس ہوا ،تھیلی جیب میں نہیں ہے ۔
اس نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا تو یہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے کہ جیب اندر سے پھٹی ہوئی تھی ۔اس کے منھ سے نکلا:”اوہ ،وہ تھیلی گر تو نہیں گئی․․․․“
وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے واپس ہو ا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص ہاتھ میں تھیلی اُٹھائے آواز لگا رہا تھا:”یہ تھیلی کس کی ہے ،مجھے یہ راستے میں پڑی ہوئی ملی ہے ،یہ جس کی ہے ،وہ اسے واپس لے سکتا ہے ۔

لکڑ ہارا یہ دیکھ کر خوش ہوا اور آگے بڑھا ،لیکن پھر اسے فوراً ہی خیال آیا کہ وہ تو سچ نہیں بول سکتا ۔لکڑ ہارے کو آگے بڑھتا دیکھ کر وہ شخص اس کے پاس آیا اور پوچھا:”کیا یہ تھیلی آپ کی ہے ؟“
لکڑ ہارے نے نہ چاہتے ہوئے بھی کہا:”نہیں،تھیلی میری نہیں ،میں تو پہلی بار اسے دیکھ رہا ہوں ۔

وہ شخص پھر آواز لگانے لگا ۔ایک اور شخص نے وہ تھیلی اپنی بتا کر اس سے لی اور چلتا بنا۔لکڑ ہارے کو دل ہی دل میں اس شخص پر غصہ آرہا تھا ،جو جھوٹ بول کر اس کی تھیلی لے کر گیا تھا اور غصہ اپنے جھوٹے پر بھی آرہا تھا کہ جس کی وجہ سے اسے اچھا خاصا نقصان اُٹھا نا پڑگیا تھا ۔
وہ دل ہی دل میں کڑھ گیا۔
پھر اسے یاد آیا کہ اسے تو آج قاضی کی عدالت میں جانا تھا ۔کیوں کہ اس کا ایک رشتے دار چوری کے الزام میں گرفتار ہوا تھا اور وہ بالکل بے قصور تھا ۔اسے اپنے رشتے دار کے حق میں گواہی دینے جانا تھا ۔وہ جلدی جلدی عدالت میں پہنچا ۔
سب پہلے ہی سے موجود تھے ،بس اس کا انتظار ہورہا تھا۔ پھر اسے گواہی دینے کے لیے بلایا گیا۔
ابھی وہ سچ بولنے ہی والا تھا کہ اسے خیال آیا کہ وہ سچ تو بول ہی نہیں سکتا ،ورنہ وہ جن اسے بھسم کر دے گا۔اس خیال کے آتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔
قاضی صاحب اس کے بولنے کا انتظار کررہے تھے ،لیکن جب وہ کچھ نہ بولا تو قاضی صاحب گرج کر بولے :”تم بیان کیوں نہیں دے رہے ہو؟“
لکڑ ہارا سہم گیا اور بوکھلا ئے ہوئے لہجے میں بولا:”حضور ! مجھے یہاں جھوٹی گواہی دینے کے لیے بلایا گیا ہے ۔
اصل میں چوری میرے عزیز نے ہی کی ہے ،وہی قصور وار اور مجرم ہے ۔اس نے ہی ڈاکاڈالا تھا اور اس کے وارثوں نے مجھے پیسے دے کر جھوٹی گواہی دینے پر آمادہ کیا ہے ۔“
یہ سننا تھا کہ اس کے رشتے دار آگ بگولا ہو گئے ۔خود ملزم کارنگ بھی سفید پڑ گیا۔
وہ لکڑ ہارے کی جھوٹی گواہی پر حیرت زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ سخت غصے میں بھی تھا۔
آخر قاضی صاحب نے لڑکے کو سزا سنادی ۔سپاہی لڑکے کولے گئے ۔لکڑ ہارا خود بھی گھبرایاہوا تھا ۔ملزم کے جانے کے دیر تھی کہ لکڑ ہارے کے عزیز اس پر برس پڑے ۔
اسے بہت بُرا بھلا کہا اور آخر میں سب رشتے ناتے ہمیشہ کے لیے توڑ کر چلے گئے ۔
اگلے دن وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ وہاں سے بادشاہ کا گزر ہوا ۔بادشاہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ تھا ۔وہ جنگل میں شکار کھیلنے آیا ہوا تھا۔ لکڑ ہارے کو دیکھ کر بادشاہ نے ایک سپاہی کو اشارہ کیا تو وہ
لکر ہارے کے پاس آیا اور بولا:”اے لکڑ ہارے ! ہمارا پانی والا برتن کہیں کھو گیا ہے ۔
بادشاہ بہت پیا سے ہیں ،اگر تمھارے پاس پانی ہے تو بادشاہ کے لیے پیش کرو۔وہ ضرور تمھیں انعام دیں گے ۔“
انعام کا سن کر لکڑ ہارا بہت خوش ہو ا،کیوں کہ اس کے پاس پانی موجود تھا ،لیکن پھر اسے جن کا خیال آیا تو ساری خوشی غائب ہو گئی ۔
وہ بولا:”نہیں ،میرے پاس پانی نہیں ہے ۔میں جنگل میں پانی ساتھ نہیں لاتا ۔“
اتنے میں بادشاہ اور اس کے سپاہی اس کے نزدیک آچکے تھے ۔
”لیکن تمھارے اس برتن میں کیا ہے ؟“سپاہی نے اس کے پانی والے برتن کی طرف اشارہ کیا تو اس کے رنگ اُڑ گئے ۔
سپاہی نے فوراً لپک کروہ برتن اُٹھایا اور بادشاہ کو پیش کیا۔بادشاہ نے پانی پیا اور پھر کہا:”اے لکڑ ہارے ! تم نے ہم سے جھوٹ بولا۔جانتے ہو،اس کی سزا کیا ہے ․․․․․لیکن تمھاری وجہ سے ہماری پیاس بجھی ،اس لیے ہم تمھیں معاف کرتے ہیں ،لیکن اب تمھیں ہماری تعریف میں کچھ اچھی بات سنانی ہو گی ،یہ ہمارا حکم ہے ۔

لکڑ ہارے نے سن رکھا تھا کہ بادشاہ کو اپنی تعریف سننے کا بہت شوق ہے ۔مزاجاً بادشاہ صاف دل اور نیک تھا ،لیکن لکڑ ہارا اس وقت کچھ سچ نہیں بول سکتا تھا ۔وہ کپکپاتی آواز میں بولا:”حض ․․․․․․حضورِ والا․․․․․! آج آپ کے بارے میں کچھ اچھا کہوں گا تو میری جان چلی جائے گی اور یہ بات کسی کو بتا بھی نہیں سکتا ۔
آپ میں کیا خوبی ہے ،جو آپ کو اچھا کہوں ۔آپ کی شکل اتنی بھیانک ہے کہ چڑیلوں کے بچے بھی آپ کو دیکھ کر ڈرجائیں ۔آپ بالکل نکمے اور بے وقوف ہیں ۔آ پ میں شعور نام کی کوئی چیز ہی نہیں ۔“
یہ سننا تھا کہ بادشاہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا ۔
بادشاہ کے حکم پر سپاہیوں نے لکڑ ہارے کو اتنا مارا کہ اس کی طبیعت صا ف ہو گئی۔اسے ایسا لگا ،جیسے اس کی ہڈیاں جوڑوں سے الگ ہو گئی ہوں ۔بادشاہ سپاہیوں سمیت وہاں سے چلا گیا۔لکڑ ہارا غصے سے اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔اسے اس جھوٹ کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھانا پڑے اور اب اس کو اتنی مار بھی پڑ گئی تھی ۔

ابھی تین دن گزرنے میں کچھ ہی وقت باقی تھا کہ اچانک اس کے سامنے وہی جن نمودار ہوا ۔جن پہلے تو ان کی حالت دیکھ کر چونکا، پھر اس نے لکڑ ہارے سے کہا:”اے لکڑ ہارے! بتا کیا تُو نے پورے تین دنوں تک جھوٹ بولا․․․․․؟اور اگر نہیں تو مرنے کے لیے تیار ہو جا۔

لکڑ ہار ا اُٹھ کھڑا ہوا اور فوراً بولا:”ہاں ،ہاں میں نے پورے تین دن تک جھوٹ بولا ہے اور اس کی وجہ سے مجھے بہت سے نقصان بھی اُٹھانے پڑے ہیں ۔میں نے بہت مشکلیں جھیلی ہیں ۔“لیکن پھر فوراً ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ،کیوں کہ ابھی تین دن مکمل ہونے میں کچھ وقت باقی تھا اور اس نے غلطی سے سچ بول دیا ۔
اس پر جن نے ایک زور دار قہقہہ لگا یا اور بولا:”اے نادان انسان ! تُو نے تین دنوں تک مشکلیں جھیلیں ،نقصان اُٹھائے ،لیکن آخر میں آکر تُو اپنی کم عقلی کے باعث سچ بول بیٹھا ۔اگر تُو ذرا عقل سے کام لیتا تو کوئی نقصان اُٹھا تا اور نہ ا ب میرے ہاتھوں مارا جاتا ۔“
یہ سن کر لکڑ ہارے کا رنگ پھیکا پڑ گیا ،لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا ،جن نے اس پر ایک پھونک ماری اور بے چارہ لکڑ ہارا راکھ بن کر اُڑ گیا۔

Your Thoughts and Comments