Bemaar Shehzadi

بیمار شہزادی

شہزادی کو اچانک صفائی پسندی کا خبط ہو گیا۔شاہی محل میں کسی کنیز کا ہاتھ غلطی سے شہزای کے ہاتھ سے چھوجاتا تو وہ اپنے ہاتھوں کو گھنٹوں دھوتی رہتی تھی ۔

بدھ دسمبر

bemaar shehzadi

خلیل جبار
شہزادی کو اچانک صفائی پسندی کا خبط ہو گیا۔شاہی محل میں کسی کنیز کا ہاتھ غلطی سے شہزای کے ہاتھ سے چھوجاتا تو وہ اپنے ہاتھوں کو گھنٹوں دھوتی رہتی تھی ۔کھانے پینے کے صاف برتن شہزادی اپنے سامنے دوبارہ صاف پانی سے دھلواتی تھی ۔

کھانا بھی بہت کم کھانے لگی،جس کی وجہ سے وہ بہت کم زور ہو گئی تھی ۔
بادشاہ کو اس کی بہت فکر تھی ۔اس نے شاہی حکیموں سے شہزادی کا بہت علاج کرایا،مگر کوئی حکیم بھی شہزادی کا مرض نہ سمجھ سکا۔
بادشاہ نے شاہی حکیموں سے مایوس ہو کر اعلان کرادیا کہ جو شہزادی کا علاج کرکے تن درست کرے گا، اسے مالامال کردیا جائے گا۔
کئی حکیم آئے،مگر وہ شہزادی کے علاج میں کام یاب نہ ہوسکے۔
ایک دن ایک بوڑھا حکیم دربار میں حاضر ہوا اور اس نے شہزادی کے علاج کی خواہش ظاہر کی ۔

(جاری ہے)

بادشاہ نے اسے اجازت دے دی ۔حکیم صاحب نے سب سے پہلے وہ نسخے مانگے ،جن کی مدد سے دوائیاں تیار کرکے کھلائی گئی تھیں ۔

وہ نسخے دیکھنے کے بعد حکیم صاحب نے شہزادی کے شاہی محل میں معمولات کے بارے میں تفصیل سے پوچھا اور انھیں ایک کا غذ پر درج کر لیا۔حکیم صاحب نے شہزادی کا طبی معائنہ کیا اور پھر بادشاہ سے کہا:”شہزادی کا علاج ہوجائے گا ،لیکن علاج کے لیے میں جو طریقہ اختیار کروں گا ،مجھے اس کی آزادی ہو گئی۔

بادشاہ نے ہامی بھرلی ۔حکیم صاحب کے حکم پر شہزادی کو ایک کرسی پر بٹھا کراس کے ہاتھ پاؤں کرسی سے باندھ دیے گئے ۔کمرے میں بادشاہ اور ملکہ کے علاوہ ایک کنیز بھی موجود تھی ۔وہ حیرت سے حکیم صاحب کو دیکھ رہے تھے کہ یہ شہزادی کا علاج کرنے کا یہ کون سے طریقہ ہے ۔
وہ دوسرے حکیموں سے مایوس نہ ہوئے ہوتے تو اس حکیم کو رخصت کردیتے ۔حکیم صاحب نے دہی منگواکر اس میں بیسن ملا کر آمیزہ بنایا اور شہزادی کے چہرے پر لگانے کا حکم دیا۔
”میں جب تک اس آمیزے کو چہرے سے اُتار نے کا نہ کہوں ،مت اُتارنا ۔
“حکیم صاحب نے حکم دیا۔
یہ آمیزہ جیسے ہی شہزادی کے چہرے پر لگایا گیا ،شہزادی نے بے اختیار چیخنا چِلّا نا شروع کردیا ۔اس کے بعد حکیم نے ایک گلاس پانی منگوایا اور اس میں سے دو گھونٹ بادشاہ سلامت کو پینے کو دیا ۔اس کے بعد قریب کھڑی کنیز کو اس میں سے دو گھونٹ پینے کو کہا۔
پھر حکیم صاحب نے بچا ہوا مشروب شہزادی کو پلانا چاہا ۔شہزادی نے وہ پانی پینے سے انکار کردیا ۔حکیم صاحب،شہزادی کو زبردستی وہ پانی پلانے لگے۔
شہزادی نے انکار کیا ،سر ہلاتی رہی ،لاکھ کوشش کی کہ وہ پانی نہ پیے،،لیکن تھوڑا ساپانی اسے پینا ہی پڑا۔

پانی پیتے ہی شہزادی نے شور کرنا شروع کردیا:”میں اب مر جاؤں گی ،میں اب مرجاؤں گی ۔“یہ کہتے ہوئے شہزادی بے ہوش ہو گئی ۔
”شہزادی کی رسیاں کھول کر اسے کمرے میں پہنچادیا جائے۔“حکیم صاحب نے کہا:”جب تک شہزادی خود بیدار نہ ہو ،کوئی اسے نہ جگائے۔

شہزادی جب نیند سے بیدار ہوئی تو وہ خود کوتن درست محسوس کرکے حیران رہ گئی ۔اب حکیم صاحب روزانہ شہزادی کو مختلف دوائیں کھلاتے ،تا کہ اس کی طاقت بحال ہو جائے ۔
دو ہفتے گزر گئے ۔شہزادی بالکل ٹھیک ہو گئی ۔بادشاہ اور ملکہ حیران تھے ۔

بادشاہ کے پوچھنے پر حکیم صاحب نے بتایا:”شہزادی صاحبہ کو کوئی جسمانی بیماری نہیں تھی ۔شہزادی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ذرا سی بے احتیاطی سے بھی وہ بیمار ہو جائیں گی ،اس لیے یہ صفائی کا بھر پور خیال رکھتی تھیں ۔
حدیہ کہ کسی سہیلی یا کنیز کا ہاتھ لگنے پر شہزادی صاحبہ خوف زد ہ ہو جاتیں اور گھنٹوں اپنے ہاتھ دھوتیں کہ ان کے ہاتھ پر جو گندگی لگ گئی ہے ،اسے صاف کرنا ہے ،ورنہ یہ چیز انھیں مار بھی سکتی ہے ۔نفاست پسندی کے سبب یہ ذہنی اُلجھن کا شکار ہو گئی تھیں ۔
میں نے شہزادی صاحبہ کو زبانی طور پر سمجھایا کہ صفائی اچھی بات ہے ،لیکن حد سے زیادہ نفاست پسندی نقصان دہ ہے اور یہ بات میں شہزادی صاحبہ کو سمجھانے میں کافی حد تک کام یاب رہا ہوں ۔میں نے شہزادی صاحبہ کو ایسی دوا بھی دی ،جس سے انھیں تیز بھوک لگے اور وہ کھانا کھانے پر مجبور ہوجائیں ۔
اب شہزادی صاحبہ ذہنی طور پر صحت مند ہو گئی ہیں ۔ہاتھ چھونے پر اب یہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتیں ۔“
بادشاہ اور ملکہ حکیم صاحب کے طریقہ علاج پر بہت خوش ہوئے ،اس لیے انھوں نے حکیم صاحب کو مالا مال کر دیا اور شاہی حکیموں میں شامل کرلیا۔

Your Thoughts and Comments