Bhooka Musafir

Bhooka Musafir

بھوکا مسافر

میں پڑھنے کی غرض سے شہر میں رہتا تھااور میرے امی ابو گاؤں میں تھے ۔ ابو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے ۔ کچھ آمدنی کھیتوں اور ایک چھوٹے سے باغ سے حاصل ہوتی تھی۔

جدون ادیب :
میں پڑھنے کی غرض سے شہر میں رہتا تھااور میرے امی ابو گاؤں میں تھے ۔ ابو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے ۔ کچھ آمدنی کھیتوں اور ایک چھوٹے سے باغ سے حاصل ہوتی تھی ۔ میں اپنے گاؤں ایبٹ آباد سے کراچی آکر بڑے بھائی منیر کے پاس رہتا تھا، جو عمارتوں کی ٹھیکے داری کاکام کررہے تھے ۔
مجھے گاؤں سے ابو پیسے بھجواتے تھے ، جو میں بھائی کے منع کرنے کے باوجود گھر کے سودے سلف پر خرچ کردیتا تھا۔ بھابھی ہماری رشتے دار نہیں تھیں، اس لیے ان کے رویے میں ایک اجنبیت ہوتی تھی۔ وہ میرا اس گھر میں رہنا دل سے پسند نہیں کرتی تھیں، مگر بظاہروہ کچھ نہیں کہتی تھیں۔
میں میٹرک کا امتحان پاس کرکے یہاں آیاتھا اور اب فرسٹ ائر میں حال ہی میں داخلہ لیا تھا ۔

(جاری ہے)


اس دن بھائی اور بھابھی آہستہ آواز میں باتیں کررہے تھے کہ میں اپنا نام سن کر خود پر قابونہ رکھ سکااور چھپ کر ان کی باتیں سننے لگا۔

بھابھی میرے یہاں رہنے پر خوش نہیں تھیں۔ وہ بھائی پر زور دے رہی تھیں کہ اپنے بھائی سے کہو کہ کالج ہوسٹل میں رہے ۔ یہ سن کر مجھے بہت شرمندگی ہوئی ۔
اسی وقت میں نے فیصلہ کیاکہ مجھے اپنے ایک دوست عامر کے ساتھ اس کے کمرے میں منتقل ہوجانا چاہیے۔
عامر بھی کسی گاؤں سے آیاتھا۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک ہوٹل میں کام بھی کرتا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں بھی کوئی کام کرلوں گا۔ اس طرح میرا گزارہ ہوجائے گا اور مجھے کسی سے پیسے لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی ۔ دونوں مل کر کمرے کا کرایہ آدھا آدھا دے دیں گے ۔

اپنے بھائی کو مشکل سے راضی کرکے آخر میں عامر کے پاس چلاگیا۔ ایک ہفتہ گزرا تو امی ابو نے فون کرکے اپنی تشویش کااظہار کیا۔ وہ میرے اس طرح الگ رہنے پر خوش نہ تھے ۔ کچھ دن بعد ابو کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ میں پھر پریشان ہوگیا۔
میں پیسے خرچ کرچکا تھااور کوشش کے باجود کوئی کام بھی نہیں ڈھونڈسکا تھا۔
میں بے چین ہوگیااور جلدی جلدی تیاری کی، مگر اصل پریشانی توپیسے کی تھی۔ بس کاٹکٹ ڈھائی ہزار کاتھا اورمیرے پاس صرف پانچ سوروپے تھے ۔ میری مدد بھای کرسکتے تھے، مگر میرا دل نہیں مان رہاتھا کہ ان سے مددلوں۔

عامر کا تعلق بھی ایک غریب گھر سے تھا۔ پھر بھی اس نے کہیں نہ کہیں سے بندوبست کرکے دہ ہزار رپے مجھے دے دیے ۔ جب میں بس میں سوار ہوا تو میری جیب بالکل خالی تھی اور چوبیس گھنٹے سے زیادہ کاسفر تھا۔
فجر کے بعد طویل سفر شروع ہواتھا۔
ظہر کے وقت بس ایک ہوٹل کے سامنے رکھی تو میں نے مسجد میں جا کر نماز پڑھی اور وہیں بیٹھ کر وقت گزارا اورپانی پی کر بس میں آکر بیٹھ گیا۔ مغرب تک میری حالت خراب ہوچکی تھیں۔ بس نماز کے لیے رکی تو کچھ مسافر ہوٹل میں بیٹھ کر چائے پینے لگے ۔
میں نے سوچا کہ کاش کوئی مسافر ایک پیالی چائے مجھے پلادے ۔
بس ایک مرتبہ پھر روانہ ہوگئی۔ ساڑھے نوبجے بس ایک ہوٹل میں رکی۔ اب مجھ پر کمزوری طاری ہونے لگی۔ ایک طرف گہری نیند آرہی تھی اور دوسری طرف پیٹ میں درد ہورہا تھا۔
فجر کی نماز تک میری یہی حالت رہی۔ فجر کی نماز سڑک کے کنارے بنی مسجد میں پڑھی ، پھر بس روانہ ہوگئی۔ اکثر مسافر سورہے تھے ۔اچانک ایک ناکے پربس کو روک دیاگیا۔ دواہلکار اوپر چڑھے۔ تیسرے نے درائیور کو بس ایک طرف روکنے کو کہا۔
ڈرائیور نے بس سڑک کے کنارے لگائی اور نیچے اُتر کر پولیس موبائل کے پاس کھڑے افسر کے پاس جاکربات کرنے لگا۔
جو دو اہلکار اوپر چڑھے تھے، وہ سب مسافروں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ وہ میرے پاس بھی آئے۔ مجھے غور سے دیکھا ، پھراپنی جیب سے موبائل فون نکال کر اس میں چیک کیا، میرا نام پوچھا اور نیچے اُتر گئے ۔

بس کافی دیر رکی رہی ۔ مسافروں بے چینی پیداہونے لگی۔ آخر کچھ لوگ ڈرائیور کے پاس گئے ۔ ڈرائیور نے بتایا کہ پولیس کاکوئی بڑا افسر آرہاہے ، تب تک بس رکی رہے گی ۔
تھوڑی دیر اور گزری تو ڈرائیور نے افسر سے جاکر کوئی بات کی۔
افسر نے ان پر کسی سے بات کی ، پھر مسافروں کے پاس آکر انھیں خوش خبری سنائی کہ ہم تھوڑی دور واقع ایک ہوٹل میں جاکر کچھ دیر رکیں گے۔ سب کا کھانا پینا پولیس کی طرف سے مفت ہوگا۔
سب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی خوشی ہوئی۔ بس روانہ ہوئی، پولیس کی موبائل، بس کے آگے آگے چل رہی تھی۔
تھوڑی دورایک ہوٹل پر جاکر بس اور موبائل دونوں رک گئیں۔ سارے مسافر خوشی خوشی نیچے اُترنے لگے ۔ میں قدرت کی اس مدد پر بہت خوش تھا۔ شدید بھوک میں بغیر مانگے مجھے کھانا مل رہا تھا۔ میں جیسے ہی بس سے نیچے اُترا ۔ ایک اہلکار نے میرا بازو پکڑ لیا اور بولا: آپ اس طرف آجائیں۔

سارے مسافر مجھے عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے ہوٹل میں مفت ناشتے کے لیے چلے گئے اور میں بے بسی کے عالم میں پولیس کی حراست میں وہیں کھڑارہا۔
مجھے اب تک پولیس نے کچھ نہیں بتایا تھا کہ مجھ سے کیاجرم سرزد ہوا ہے ؟
اچانک ایک بڑی وین آکر ہوٹل پہ رُکی ۔
چارگن مین اُترے ۔ اگلا دروازہ کھلاتو دوافراد نیچے اُترے۔ ایک تو میری عمر کالڑکا تھا اور دوسرا دھیڑعمر شخص کوئی بڑا افسر معلوم ہورہا تھا۔ پولیس اہلکار تیزی سے ان کی طرف بڑھے اور قریب جا کر سیلوٹ کرنے لگے ۔
پھر میں نے اس لڑکے کو پہچان لیا۔
وہ میرا ہم جماعت اظفر تھا، جس کے والد کسی اہم محکمے میں بڑے عہدے پر فائز تھے ۔
اب ایک پل میں سب کچھ بدل گیا۔ دراصل یہ بزم جوسجی تھی، وہ میرے لیے تھی۔ بس کے مسافر جو دعوت اڑارہے تھے، وہ دراصل میری وجہ سے تھی ۔
اظفر ایبٹ آباد میں آرمی کے بڑے کالج میں پڑھنا چاہتا تھا۔
اس نے اپنے والدین سے یہ اجازت اس شرط پر لی تھی کہ میں ا س کے ساتھ پڑھوں گا، کیوں کہ میرا گھر بھی وہیں تھا اور چھٹی کے دن اظفر کو یہ سہولت میسر ہوتی کہ وہ میرے گھر میں ر ہ سکتا تھا۔ اس کے گھر والے اسی طرح مطمئن ہوسکتے تھے۔
اظفر نے مجھے کراچی میں تلاش کیاتو پتاچلا کہ میں آج صبح ہی ایبٹ آباد روانہ ہوگیا ہوں۔
اس نے اپنے والد کی مدد سے مجھے میرے گھر پہنچنے سے پہلے پکڑ لیا۔ اس نے کچھ ہی دیر میں مجھے راضی کرلیا کہ ہم دونوں ایبٹ آباد میں ایک ہی کالج میں پڑھیں گے۔ تب میرا سفر دوبارہ شروع ہوا، مگر اب میں ایک سرکاری جیپ میں سفر کررہا تھا۔ اب میرا پیٹ بھرا ہواتھا اور دل باغ باغ تھا۔

Your Thoughts and Comments