Burhapay Ka Sahara - Article No. 2284

Burhapay Ka Sahara

بڑھاپے کا سہارا - تحریر نمبر 2284

زمان نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ اور چچی جان آج سے میرے ساتھ رہیں گے

جمعرات 16 جون 2022

شیخ معظم الٰہی،لاہور
زمان اپنے ماں باپ کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا تھا۔اس کے والدین اس کی ہر خواہش کو پوری کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔زمان کے والد کافی مالدار تھے۔ان کا گھر چونکہ بڑا تھا اور زمان کا چچا غریب تھا۔اس لئے زمان کے والد نے اپنے بھائی کو گھر کا کچھ حصہ رہنے کے لئے دے دیا تھا۔ایک دن جب زمان سکول سے گھر واپس آیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے امی ابو کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا ہے۔
زمان پر تو قیامت ٹوٹ پڑی۔کچھ دن تو سوگ میں گزرے پھر روزمرہ کا معمول شروع ہو گیا۔اب اس کے چچا نے زمان کے گھر پر قبضہ کر لیا۔اس کا رویہ زمان سے اچھا نہ تھا اور چچا اسے اپنے راستے کا پتھر سمجھتا تھا آخرکار ایک دن اس نے زمان کو گھر سے نکال دیا۔زمان نے بہت احتجاج کیا مگر کسی نے اس کی نہ سنی۔

(جاری ہے)

اس بات کو آج تین دن ہو گئے تھے۔زمان بھوک سے نڈھال تین دن سے سڑکوں پر مارا مارا پھر رہا تھا۔

پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے تھے۔اسے اپنی بے بسی پر رونا آ گیا۔وہ سڑکوں پر بھاگتا ہوا ایسے علاقے میں پہنچ گیا،جہاں پر رہائشی بنگلے بنے ہوئے تھے اور وہ علاقہ نسبتاً سنسنان تھا۔زمان نے تیزی سے بھاگنا شروع کر دیا۔وہ ایک گلی سے دوسری گلی تک بھاگتا رہا اور آخر ایک بنگلے کا گیٹ کھلا دیکھ کر اس میں گھس کر باغ میں چھپ گیا۔کافی دیر بیٹھے رہنے سے اسے نیند آ گئی۔
رات کو اس بنگلے کے چوکیدار نے اسے دیکھا تو اپنے مالک کو بلا لیا۔مالک نے آ کر دیکھا تو زمان بخار سے تپ رہا تھا۔لہٰذا مالک نے چوکیدار کی مدد سے زمان کو اُٹھایا اور گھر کے اندر لا کر پلنگ پر لٹا دیا۔اتنے میں زمان کی آنکھ کھل گئی۔مالک کی بیگم نے اسے دوائی کے ساتھ دودھ دیا اور سلا دیا۔
دونوں میاں بیوی کو بچے پر رحم آ گیا تھا۔صبح زمان نے اُٹھ کر ناشتہ کیا تو اس نے اپنے آپ کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کیا۔
بیگم نذیر راٹھور نے پہلے تو اس کے حال احوال دریافت کیا پھر اس سے ساری بات پوچھی کہ وہ یہاں کیسے آیا؟اور اس کے ماں باپ کہاں ہیں؟زمان ذرا سی ہمدردی پا کر پگھل گیا اور انہیں سارا ماجرا کہہ سنایا۔بیگم نذیر راٹھور کو بیحد دکھ ہوا۔انہوں نے زمان کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔کیونکہ وہ بے اولاد تھیں۔غرض یہ کہ زمان ان کے گھر میں رہنے لگا۔نذیر راٹھور اور ان کی بیگم زمان کو بالکل اپنا بیٹا سمجھنے لگے۔
زمان نے اب سکول جانا شروع کر دیا۔
آخرکار ایک دن ایسا آیا۔جب زمان ڈاکٹر بن گیا۔نذیر راٹھور اور ان کی بیگم کو بہت خوشی ہوئی۔ایک دن زمان ہسپتال میں تھا اور ایک مریض جس کی حادثہ میں دونوں ٹانگیں ضائع ہو چکی تھیں۔اس کی نبض دیکھ رہا تھا۔مریض نے زمان کو پہچان لیا اور اس کا چہرہ اپنے قریب کرکے پوچھا۔بیٹا مجھے پہچانا میں تمہارا چچا ہوں۔
زمان نے یہ سنا تو اپنا منہ پھیر لیا۔مریض نے زمان سے کہا کہ بیٹا مجھے معاف کر دو۔مجھے اپنے کئے کی سزا مل گئی ہے۔زمان نے چچا کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں بے چارگی دیکھ کر زمان نے انہیں معاف کر دیا۔
اتنے میں نذیر راٹھور نے آواز دی کہ زمان!کہاں ہو تم؟میں تمہیں ہسپتال میں تلاش کر رہا ہوں اور تم کہاں ہو؟اچانک زمان کو ایک اجنبی کے سینے پر سر رکھے دیکھ کر چونکے۔
مریض کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔زمان نے نذیر راٹھور کو ساری بات بتا دی۔زمان کے چچا نے بتایا کہ اس کی اولاد اسے چھوڑ کر چلی گئی وہ اور زمان کی چچی آج کل بڑی مشکل سے زندگی گزار رہے ہیں۔زمان نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ اور چچی جان آج سے میرے ساتھ رہیں گے۔کیونکہ میرا اور آپ کا خون کا رشتہ ہے۔اور میں آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔نذیر راٹھور نے بھی زمان کی ہاں میں ہاں ملائی۔اسی طرح زمان کو اس کا چچا اور چچی کو بڑھاپے کا سہارا مل گیا اور یوں سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

Browse More Moral Stories