Chatora Tinku - Article No. 1744

چٹورا ٹنکو

وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کا عادی تھا سب اسے موٹو کہہ کر چھیڑتے تھے

پیر جون

Chatora Tinku
عطرت بتول
ٹنکو بہت پیٹو اور پرلے درجے کا چٹورا تھا۔ اس کا روزہ رکھنے کو دل چاہتا تھا لیکن چٹوری طبیعت نہیں چاہتی تھی وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کا عادی تھا سب اسے موٹو کہہ کر چھیڑتے تھے ،وہ جب صبح سو کر اٹھتا سب رو زے سے ہوتے لیکن وہ اٹھتے ہی شور مچا دیتا ،ماما ناشتہ ،جلدی سے ناشتہ ،تم چڑی روزہ ہی رکھ لیا کرو، تاکہ تمہیں کچھ تو برداشت کی عادت پڑے ،اگلے سال سے روزے تم پر فرض ہو رہے ہیں پھر تو رکھنے پڑیں گے ۔
لیکن ایک دن کیا ہوا جب وہ ناشتہ کرنے کے بعد ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا ہاتھ میں چٹ پٹے نوڈلز کی پلیٹ تھی کہ اسے گھر میں غیر معمولی چہل پہل محسوس ہوئی، ماما ڈرائنگ روم کی سیٹنگ بدل رہی تھیں اور پاپا لسٹ بنا رہے تھے اور آپی بڑا سا بانس سنبھالے جالے اُتارنے میں مصروف تھیں ،ماما آج کوئی آرہا ہے ؟ٹنکو نے پوچھا،ہاں آج بہت سے مہمان آئیں گے آج رفی کی روزہ کشائی ہے ،کمال ہے ،فتنو نے حیران ہو کر سوچا ،رفی اس سے ایک سال چھوٹی بہن تھی ،اس کا تو بھوک پیاس سے برا حال ہو گا اس نے سوچا ،لیکن جب وہ رفی کے کمرے میں گیا تو حیران رہ گیا وہ سکون سے بیٹھی ،سپارہ پڑھ رہی تھی ،شام کو افطاری میں خوب رونق تھی ،چچا،پھپو،خالہ ،نانو، دادو سب آئے ہوئے تھے ،سب نے رفی کو خوبصورت ،گفٹ دیے،کھلونے ،کپڑے،پیسے،رفی کے پاس اتنی چیزیں دیکھ کر ٹنکو خوب للچا یا اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ بھی روزہ رکھے گا اگلے دن ہی اس نے ماما سے کہا کہ وہ مکمل روزہ رکھے گا تو روزہ کشائی کا فنکشن کریں گی ؟ضرور ،ماما نے جواب دیا، اب جناب ٹنکو نے روزہ رکھ لیا ،دن کے بارہ بج گئے ٹنکو ابھی تک ثابت قدم تھا۔

(جاری ہے)


ماما کو اطمینان ہو گیا کہ اب وہ روزہ پورا کرلے گا وہ بجے دوپہر سب نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر سونے کے لئے لیٹ گئے ماما نے کہا وہ چار بجے اٹھ کر انتظامات کریں گی ،ٹنکو کو نیند نہیں آرہی تھی وہ کروٹیں بدل رہا تھا اسے خیال آیا کہ سب سو رہے ہیں اگر وہ کچھ کھالے گا تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا یہ سوچ کر وہ چپکے سے اٹھا اور رفی کے کمرے کی طرف بڑھا کیوں کہ رفی کے کمرے میں چاکلیٹ کا ڈبہ تھا جو اسے خانہ نے گفٹ کیا تھا۔

رفی اور اپیا بے سود سو رہی تھیں ٹینکو کو یاد تھا کہ رفی نے چاکلیٹ کا ڈبہ الماری میں رکھا تھا وہ دبے پاؤں الماری کی طرف بڑھا ڈبہ نکالا چاکلیٹ دیکھتے اس کے منہ میں پانی آگیا اور اس نے جلدی جلدی چاکلیٹ نکالی اور منہ میں بھرلی اور کچھ اپنی جیب میں ٹھونس رہا تھا کہ آپی کے موبائل فون کا الارم بجنے لگا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں ٹنکو کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکا وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا بہت شرمندہ ہو رہا تھا اب تو گھر بھر کو اس کی حرکت کا پتہ چل گیا تھا۔

آپی سب کو بتا رہی تھیں کہ میری آن لائن کلاس ہونی تھی اس لئے میں نے الارم لگا لیا تھا کہ جلدی سو کر اُٹھ جاؤں اگر میرا الارم نہ بجتا تو ہم سب بیوقوف بن جاتے کہ ٹینکو کا روزہ ہے ،آپی اور رفی ٹینکو کا مزاق اڑا رہی تھیں لیکن ماما اور پاپا ٹنکو سے بات نہیں کر رہے تھے سخت ناراض تھے ،ٹنکو سمجھ رہا تھا کہ ماما اور پاپا تھوڑا سا ڈانٹیں گے اور بس بات ختم ہو جائے گی لیکن اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے کوئی بڑی غلطی کی ہے ،دو دن ہو گئے تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی ماما خاموشی سے ناشتہ کھانااس کے سامنے رکھ دیتی تھیں۔

اب ٹنکو بہت اداس ہو گیا تھا تیسرے دن ماما نے اس کے سامنے ناشتہ رکھا تو وہ رونے لگا، ماما سوری ،ماما سوری پلیز معاف کردیں اور مجھ سے بولیں ،معافی اللہ تعالیٰ سے مانگو ماما نے کہا روزہ صرف اللہ کے لئے ہوتا ہے ،جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا اللہ اس وقت بھی دیکھ رہا ہوتا ہے،مجھے سچ بتاؤ ٹنکو تم نے روزہ کیوں رکھا تھا ؟اس لئے تاکہ تمہیں رفی کی طرح گفٹ ملیں ؟جی ماما ٹنکو نے شرمندگی سے اعتراف کر دیا،بس اسی لئے تم میں روزہ پورا کرنے کا شوق اور ہمت نہیں ہوئی کیونکہ تمہارا روزہ دکھا وے کا تھا، یاد رکھو روزہ اللہ کا حکم سمجھ کر اور کسی لالچ اور دکھاوے کے بغیر رکھتے ہیں ،جی ماما ٹینکو اچھی طرح سمجھ گیا تھا اس نے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی پھر ماما پاپا نے بھی معاف کر دیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Sahhi Chor

شاہی چور

Sahhi Chor

Koyle

کوئل

Koyle

Insaan Dost

انسان دوست

Insaan Dost

Tanha Bandar

تنہا بندر

Tanha Bandar

Chacha Sheikhi Baaz

چچا شیخی باز

Chacha Sheikhi Baaz

Ghareeb Saith

غریب سیٹھ

Ghareeb Saith

متوازن خوراک

Mutwazan Khurak

دولت اور علم

Daulat Aur Ilm

Mujhe Bakra Chahiye

مجھے بکرا چاہئے

Mujhe Bakra Chahiye

Teen Dost

تین دوست

Teen Dost

Lalach Ka Injaam

لالچ کا انجام

Lalach Ka Injaam

Shaheed Millat

شہید ملت

Shaheed Millat

Your Thoughts and Comments