Chirya Ka Intiqam

چڑیا کا انتقام

بعض اوقات انسان جانے انجانے میں ایسے افعال کر گزرتا ہے جن کے نتائج بہت بھیا نک اور ہو لناک ہوتے ہیں ۔

جمعہ اپریل

chirya ka intiqam
زاراآسی
بعض اوقات انسان جانے انجانے میں ایسے افعال کر گزرتا ہے جن کے نتائج بہت بھیا نک اور ہو لناک ہوتے ہیں ۔جب نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان کو عقل آتی ہے چڑیا ایک چھوٹا سا پرندہ ہے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ کسی سے اپنا انتقام لے گی لیکن یہ لگ بھگ 1960-65کی بات ہے ۔
اس زمانہ میں پاکستان کے اکثر علاقے بجلی کی سہولت سے محروم تھے ۔
بالخصوص دیہی اور نواحی علاقے بہت زیادہ پس ماندہ تھے اس لئے رات ہوتے ہی تاریکی کا راج ہوتا یعنی راتیں روشن تونہ تھیں لیکن لوگوں کے دل محبت وہمدردی کے نور سے منور تھے لوگ بہت ملنسار تھے ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے مین دلی اطمینان وسکون محسوس کرتے تھے ایک شخص کراچی کے نواحی علاقے میمن گوٹھ میں امامت کے فرائض ادا کرتا تھاو ہ اس علاقے میں بہت خوش تھا وہاں کے لوگ بہت ملنسار ،غم گسار ،ہنس مکھ تھے وہاں آب وہوا بہت تازہ تھی اردگرد سبزہ ہی سبزہ تھا اس پر مستز ا دوہاں خالص دودھ دہی مکھن دیسی انڈے دیسی گھی تازہ سبزیاں اور گوشت الغرض خوش خوراکی کے لئے بہت ہی ارزاں قیمت پر بہترین غذا ہر وقت میسر تھی وہاں کی ایک اور خاص بات پرندوں کا گوشت تھا جو ذرا سی محنت سے بالکل مفت حاصل ہوجاتا ان صاحب کو بھی چڑوں کی یخنی محبوب تھی کبھی کبھی وہ چڑے پکڑتے اور ان کی یخنی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

(جاری ہے)


چڑے پکڑنے کے لئے اسے کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑتی کیونکہ اس شخص کا کمرہ چڑیاں پکڑنے کے لئے نہایت موزوں تھا وہ اپنی دہلیز پر بہت سے دانے گرادیتا جب چڑیاں دانے چگنے میں مصروف ہوتیں تو یہ اچانک دروازہ بند کر دیتا اور اندر جا کر انہیں پکڑ لیتا ایک دن اس نے اسی ترکیب پر عمل کرتے ہوئے بہت ساری چڑیوں کو کمرے کے اندردھکیل کر کمرابند کر دیا ارادہ تھا کہ تھوڑی دیر بعد انہیں ذبح کرکے شام کا بہترین سالن پکایا جائے گا وہ دن اس شخص کا کچھ اتنا مصروف گزرا کہ دن بھر اسے چڑیوں کا خیال تک نہ آیا دو پہر کو قیلولہ کرنے کے بعد جب وہ اٹھا تو عصر کا وقت ہو چکا تھا عصر کی نماز پڑھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ اس علاقے کا ایک بااثر آدمی ملنے کے لئے آگیا اس سے گفتگو کے دوران مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا مغرب کے بعد کسی اور شخص سے ملاقات کرنا پڑی جس نے کھانے کی دعوت بھی دی وہاں کھانا کھانے کے بعد جب آئے تو عشاء کا وقت ہو چکا تھا اس زمانے میں لائٹ تو تھی نہیں اس لئے لوگ عشا کے فوراً بعد سو جاتے تھے یہ شخص بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہی مسجد کے باہر کھاٹ لگا کر سو گیا۔

اب آتے ہیں انتقام کی جانب۔عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد وہ شخص سو گیا آدھی رات کو اٹھا انتہائی گھبراہٹ ووحشت کا عالم ہر سوسناٹا چاند کی کوئی روشنی نہیں اندھیرا ہی اندھیرا وہ شخص باربار تھوک رہا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ خون تھوک رہا ہے جب خوف اور وحشت پر قابو نہ پا سکا تو اس نے فوری ایک فیصلہ کیا اور وہی سے اونچی اونچی آوازیں دے کر بستی کے لوگوں کو بلانے لگا بستی کے چند افراد آئے وہ حیران وپریشان تھے آخر معاملہ کیا ہے آدھی رات کو ہمیں کیوں بلایا گیاہے؟
امام صاحب نے ان سے کہا میری طبیعت بہت خراب ہورہی ہے مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے میرے منہ سے خون نکل رہا ہے میں اس امامت کو جاری نہ رکھ سکوں گا انہوں نے چراغ کی روشنی میں دیکھ کر بتایا کہ وہاں تو خون کا ایک دھبہ بھی نہیں ہے لیکن اس شخص کا مسلسل اصرار تھا کہ یہ خون ہے اور چراغ کی روشنی میں بھی اسے لگا کہ وہ خون تھوک رہا ہے بستی کے لوگ ایسا قطعا نہ چاہتے تھے کہ وہ اس شخص سے بہت مطمئن تھے وہ ایک متقی اور پر ہیز گار شخص تھا دن کے اوقات میں بستی والوں کے بچوں کو ناظرہ اور دوسری تعلیم دیتا تھا جب گاؤں والے کسی طرح نہ مانیں تو اس نے کہا مجھے لگتا ہے کہ مجھ پر ٹی بی کا حملہ ہوا ہے اور پھر اسی وقت گاؤں والوں سے کچھ اور انتظام کرنے کا کہا گاؤں والوں کے باربار اصرار کے باجود اس نے وہاں امامت جاری رکھنے سے منع کر دیا آخر گاؤں والوں کو اس کی بات ماننی پڑی ۔
اس شخص کو کچھ سمجھ نہ آرہا تھا کہ معاملہ کیا ہے وہ جب سونے لگا تھا اس وقت توبالکل ٹھیک تھا اس کی طبی معلومات کے مطابق اسے لگا کہ وہ ٹی بی کا شکار ہو چکا ہے اس وقت ٹی بی ایک خوفناک اور لاعلاج مرض تھا اگر کسی کو علم ہو جائے کہ اسے ٹی بی ہے تو گویا اسے موت کا پروانہ مل گیا خاص کر کمزور مالی حالت والوں کے لئے یہ واقعی موت کا پروانہ ہی تھا اس شخص کی آواز قبر سے آتی معلوم ہوتی تھی بہر حال جیسے تیسے کرکے صبح ہوئی اسی بے چینی میں صبح ہوتے ہی اس نے اپنا کمرہ کھولا اپنا سامان لیا تو وہاں پورے دن کی بھوکی پیاسی بے چین چڑیاں باہر نکلیں لیکن گردووپیش سے مکمل بے خبریہ بے چین شخص سب سے پہلے اسپتال گیا اپنا چیک اپ کروایا ڈاکٹر نے رپورٹ کے لئے اگلے دن آنے کا کہا لیکن اس شخص کی بے چینی دورنہ ہوتی تھی۔

اس نے ملتان واپس جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں اپنے ایک دوست کو ذمہ داری سونپ کر ملتان چلا گیا وہ شخص اتنا بے چین تھا کہ کراچی سے رپورٹ کا انتظار بھی نہ کر سکا اس نے ملتان پہنچتے ہی سب سے پہلے نشتر اسپتال سے اپنا دوبارہ چیک اپ کروایایہاں بھی رپورٹ کے لئے تین دن کا انتظار کرنا پڑاتین دن بعد رپورٹ ملی اسے ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ سو فیصد صحیح ہے ٹی بی کے کوئی آثار نہ تھے ایک دو دن بعد کراچی سے بھی رپورٹ آگئی کہ وہ بالکل صحیح ہے ۔
لیکن یہ پھر ایسا کیا ہواکہ وہ گھبراہٹ پریشانی آخر اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ چڑیوں کا انتقام ہے ۔
وہ خیال ذہن میں چپک گیا کہ تم نے شدید گرمی میں چڑیوں کو پورا دن بھوکا پیا سارکھا جس کی بنا پر تمہارے حواس پر بھی ٹی بی کا بھوت سوار کر دیا گیایہ بات ذہن میں آتے ہی اس شخص نے توبہ کی اور اس واقعہ کے بعد وہ حتی المقدور پرندوں اور دیگر حشرات الارض کے دانہ پانی کا انتظام کرنے والا بن گیا۔
یوں کافی عرصہ گزرنے کے بعد اس کے دل کوٹھنڈک ملی اور اسے سکون قلب میسر آیا ۔

Your Thoughts and Comments