Doctor Saib

Doctor Saib

ڈاکٹر سیب

ارے سنتی ہو، رفی کی ماں، آج مزہ آگیا۔ ایک پختون نوجوان نے اپنے دوست سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا: یہ ڈاکٹر سیب کا والد ہے۔ یعنی یہ ڈاکٹر صاحب کے والد ہیں۔

فرزانہ روحی، اسلم سعودی عربیہ:
ارے سنتی ہو، رفی کی ماں، آج مزہ آگیا۔ ایک پختون نوجوان نے اپنے دوست سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا: یہ ڈاکٹر سیب کا والد ہے۔ یعنی یہ ڈاکٹر صاحب کے والد ہیں۔
سردار صاحب ہنستے ہوئے سوفے پر لوٹ پوٹ ہورہے تھے اور ان کی بیگم ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بیٹی ڈاکٹر رافیہ کو دیکھ رہی تھی، جو اپنے والد کو یوں ہنستا دیکھ کر منھ بناکر کمرے میں جاگھسی تھی۔

ڈاکٹر رافیہ بچوں کے امراض کی ماہر تھیں۔ وہ ایک انسان دوست، خوش اخلاق اور اپنے کام سے لگاؤ رکھنے والی ڈاکٹر تھیں۔ وہ سرکاری اسپتال میں ڈیوٹی دیاکرتی تھیں جہاں دور دور سے لوگ اپنے بچوں کا معائنہ کرانے آیاکرتے۔
ڈاکٹررافیہ غریب والدین کے بچوں کا علاج کرکے نہایت خوش ہوا کرتی تھیں۔

(جاری ہے)

یہی وجہ تھی کہ ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے تھے، مگرا ن کی ڈیوٹی ایک ایسے علاقے میں تھی، جہاں لوگوں کی زبان پر ڈاکٹر سیب ، ڈاکٹر سیب ہی ہوتا۔ پہلے تو وہ چڑجاتیں۔ پھر اپنے کام میں مگن ہوجاتیں۔ وہاں زیادہ ترپختون برادری آباد تھی ، جن کی مادری زبان اردو نہیں تھی۔

گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی وہ ایک غریب بستی لگنے والے طبی کیمپ میں بچوں کا چیک اپ کررہی تھی ۔ ایک ایک بچے کا تفصیلی معائنہ کرنے، ان کے وزن کرنے، ان کے والدین کو مشورہ دینے اور دوا سے لے کر اسپتال بھیجنے میں انھیں خبر ہی نہ ہوئی کہ دوپہر کے کھانے کا وقت گزر چکا ہے۔
یکا یک ان کے پا س ایک حادثاتی مریض لایا گیا یہ ایک آٹھ سالہ بچہ تھا ، جوبے ہوشی کے عالم میں لایا گیا تھا۔ اس کی روتی ہوئی ماں نے بتایا کہ وہ درخت پر سے گرا ہے۔ کافی دیر کے بعد آخر اسے ہوش آہی گیا۔ تب کہیں جاکر اس کی ماں کے آنسو تھمے۔
وہ ڈھیروں دعائیں دینے لگی، جس سے ڈاکٹر رافیہ کو بہت سکون مل رہا تھا۔ وہ ان دعاؤں سے اپنے اندر طاقت محسوس کررہی تھیں کہ اچانک ان کا منھ لٹک گیا۔ بچے کا باپ کہہ رہاتھا : اللہ آپ کو خوش رکھے ڈاکٹر سیب!
وہ چڑگئیں، مگر انھیں اس بات کااحساس تھا کہ وہ ایک مسیحا ہیں۔
لہٰذا اپنے غصے کو چھپانے کے لیے انھوں نے اپنا رخ دوسری جانب کرلیا۔
شام کو جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوئیں تو تھکن کے باوجود انجانی خوشی سی محسوس ہورہی تھیں۔ گھر جا کر اپنے والد سردار صاحب کو انھوں نے پورے دن کی روداد سنائی، مگر وہ بات چھپا گئیں، جس میں مریض بچے کے باپ نے آخر میں انھیں وہی کہہ دیا تھا، جس پر ان کے والد خوب ہنستے تھے۔

اس دن سردار صاحب مغرب کی نماز پڑھ کر گھر لوٹے ہی تھے کہ کسی نے بیل بجائی۔ چوکیدار نے بتایا کہ کوئی غریب آدمی ہے، جوڈاکٹر رافیہ کا پوچھ رہاہے۔ سردار صاحب نے اسے اندر بلالیا اور بتایا کہ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی اسپتال سے آئی ہیں اور اس وقت سورہی ہیں۔
وہ غریب آدمی ان کی بیٹی کے لیے ایک تھیلے میں تحفہ لے کر آیا تھا۔ سردارصاحب نے اسے چاے پلوائی اور عزت سے رخصت کیا۔ وہ بھی دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔
ابھی وہ آدمی گیٹ سے باہر نکلا ہی تھا کہ سردار صاحب کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ وہیں لوٹ پوٹ ہوگئے۔

ان کی بیگم دوڑتی ہوئی لان میں آئیں تو وہ تھیلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہنسی کا فوارا تھا جو بندہوتا کوئی لفظ ان کے منھ سے نکلتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس آدمی کی موجودگی میں وہ اپنی ہنسی دبائے بیٹھے رہے، جو اُس کے جاتے ہی اُبل پڑے ہیں۔

ارے کچھ بتائیے بھی تو․․․․․ ہوا کیا؟ بیگم نے پوچھا: اور اس تھیلے میں کیا ہے؟ ڈاکٹر سیب کے لیے سیب لے کر آیا تھا ان کا مریض۔ یہ الفاظ بڑی مشکل سے ان کی زبان سے ادا ہوئے۔
توبہ ہے، آپ بھی حد کرتے ہیں ۔ بیگم بولیں: اور اسے سیب ہی لے کرآنا تھا۔
اس بات سے سردار جی پر دوبارہ ہنسی کا دورہ پڑگیا۔
ان کی بیگم نے تھیلااُٹھایا اور کچن کی طرف یہ کہتی ہوئی چل دیں: اسے میں کہیں اندر رکھے دیتی ہوں، کہیں سیب کو دیکھ کر رافیہ چڑ ہی نہ جائے۔
اگلے ہفتے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر رافیہ کو اپنے شعبے میں مزید مہارت حاصل کرنے بیرون ملک جانا تھا۔
دراصل ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا تھا۔ جس میں بڑی تعداد میں بچے بھی زخمی ہوجاتے تھے۔ ان کی سرجری کی اعلاتربیت کے لیے انھیں بیرون ملک بھیجا جارہاتھا۔ ڈاکٹر رافیہ خوش تھیں کہ اسی بہانے انھین مزید کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
جلدی وہ ڈاکٹروں کے ایک گروپ کے ساتھ روانہ ہوگئیں۔
وہاں سب کچھ بہت اچھا تھا۔ تندہی سے کام کرنے والے، ڈاکٹروں کے ساتھ ان کی بھی اچھی تربیت ہوئی، مگر انھیں کچھ بے چینی سی محسوس ہوتی تھی۔ جسے دور کرنے کے لیے وہ اپنے والدین کو فون کرتیں، بہنوں سے بھی بات ہوئی، مگر پھر بھی کچھ کمی تھی جو بہت محسوس ہورہی تھی۔
سردار صاحب ان کا حوصلہ بڑھاتے کہ چنددنوں کی بات ہے کچھ سیکھ کر ہی واپس آؤ گئی تو پرسکون ہوجاؤ گی۔ سردار صاحب اصل بات سمجھ رہے تھے، مگر کچھ نہ بولے کہ کہیں ان کی بیٹی کو برانہ لگ جائے یا اس کا تربیت سے دھیان نہ بٹ جائے، مگر پھر بھی ان سے چپ نہ رہاگیا۔
بیگم سے بولے: اسے وہاں کوئی ڈاکٹر سیب کہنے والا جو نہیں ہے، اس لیے وہ بے چین ہے۔ پھر وہ ہنسنے لگے۔
اللہ اللہ کرکے چھے ماہ گزرہی گئے۔ ڈاکٹر رافیہ واپس آگئیں۔ ابھی انھیں آئے ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ ہوگیا ۔
جس میں زخمی ہونے والوں میں بچے بھی تھے۔ ڈاکٹر رافیہ ایمرجنسی فلائٹ سے پشاور گئیں۔ انھوں نے فوری طور پر بچوں کے وار ڈکادورہ کیا۔ انھیں دیکھتے ہی بچوں کے والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ آوازیں دے رہے تھے۔ ڈاکٹر سیب، ڈاکٹر سیب۔

وہ ایک بچے کا بغور معائنہ کررہی تھی، جس کی کل ہی سرجری ہوئی تھی۔ زخمی بچے کاباپ اس کی ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہہ رہاتھا: خانم مارہ (ہمارا) پرانا والا ڈاکٹرسیب آگیا ہے۔ اب امارہ (ہمارا) بچہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اسی لمحے بچے نے آنھیں کھول دیں۔
بچے کی ماں خوش ہوتی ہوئی بچے سے مخاطب ہوئی، گل خاناں، وہ دیکھو ، ڈاکٹر سیب آگئی۔
بچے نے ڈاکٹر رافیہ کی طرف دیکھا اس کی ہلکی سی آواز آئی: ڈاکٹر سیب۔
ڈاکٹر رافیہ پہلی بار: ڈاکٹر سیب کا لفظ سن کر مسکرائیں اور بولیں: ہاں میں ہوں تمھاری ڈاکٹر سیب۔
قریب کھڑے دوسرے ڈاکٹر حیران ہورہے تھے کہ ایک خان صاحب نے ڈاکٹرز سے کہا: ہمارا تلفظ ہی ایسا ہے کہ ہم سب کی زبان سے صاحب کی بجائے لفظ ” سیب “ نکلتا ہے۔

Your Thoughts and Comments