Dolat Aur Zindagi - Article No. 1210

دولت اور زندگی

ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم کرکے بہت سا را خزانہ جمع کر لیا اور اسے شہر سے باہر ایک جنگل میں خفیہ غار میں چھپا دیا۔غار کے دروازے کی دو چابیاں تھیں ۔ایک بادشاہ کے پاس اور دوسرے اس کے وزیر کے پاس تھی ۔

پیر اکتوبر

dolat aur zindagi

حافظ سعید الرحمن انصاری
ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم کرکے بہت سا را خزانہ جمع کر لیا اور اسے شہر سے باہر ایک جنگل میں خفیہ غار میں چھپا دیا۔غار کے دروازے کی دو چابیاں تھیں ۔ایک بادشاہ کے پاس اور دوسرے اس کے وزیر کے پاس تھی ۔

ان دو کے علاوہ کسی کو بھی اس غار کا پتا نہیں تھا۔ایک دن صبح کے وقت بادشاہ خزانہ دیکھنے کے لیے غار کی طرف گیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
خزانہ کمروں میں چاول اور گندم کے اَنبار کی طرح بکھرا پڑا تھا ۔ہیرے اور جواہرات الماری میں سجے ہوئے تھے۔
بادشاہ اس خزانے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن آتے وقت بادشاہ غار کا دروازہ ہی بند کرنا بھول گیا تھا۔اسی وقت وزیر کا اس غار کی طرف سے گزر ہوا ۔وزیر نے جب خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا ۔

(جاری ہے)

وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔

وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔اسی خیال کے تحت اس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور محل پہنچ کر یہ بات بھول گیا۔
جب بادشاہ ہیرے اور جواہرات کا معائنہ کرنے سے فارغ ہوا تو واپسی کا سوچا، لیکن جب وہ دروازے کی طرف پہنچا تو دیکھا کہ وہ تو بند تھا۔
بادشاہ نے دروازے کو خوب زور زور سے پیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ چِلاّ تا بھی رہا ،لیکن اس ویران جنگل میں اس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔
وہ واپس اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کرنے لگا ،لیکن بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ پھر دروازے کی طرف گیا،اس نے چینخنا چِلاّنا شروع کر دیا اور پھر تھک ہار کر وہ واپس جگہ پر آگیا ۔
بھوک اور پیاس کی شدت اتنی بڑھ گئی تھی کہ آخر وہ ہیروں سے بھیک مانگنے لگا:”اے قیمتی پتھر! مجھے ایک وقت کا کھانا دے دو۔“اسے ایسا لگا جیسے،وہ ہیرے اس کی سادگی پر زور زور سے ہنس رہے ہوں۔اس نے ایک ہیرا اُٹھا یا اور زور سے دیوار پر مارا،پھر موتیوں سے اپنی فریاد کرنے لگا:”اے قیمتی موتیوں ! مجھے ایک گلاس پانی دے دو۔
“اسے ایسا لگا کہ موتی اور جواہرات اس پر ہنس رہے ہوں ،بادشاہ کو بہت غصہ آیا ،لیکن بھوک غصے پر غالب آگئی۔
آخر بھوک کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ وہ نڈھال ہونے لگا۔اس نے دنیا کو پیغام دینے کے لیے زمین پر کچھ لکھا ۔اس کے بعد بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔
وزیر بادشاہ کو تلاش کرتا ہوا اس غار کی طرف سے گزر ہواتو اس نے سوچا کہ بادشاہ کے خزانے کا کچھ اَتا پتا کریں ۔جب وہ غا کے اند ر داخل ہوا تو دیکھا کہ بادشاہ مرا پڑا ہے اور زمین پر لکھا ہے:”دولت کسی کو زندگی نہیں دے سکتی۔“

مزید اخلاقی کہانیاں

Mehnat Mein Azmat Hai

محنت میں عظمت ہے

Mehnat Mein Azmat Hai

Ajnabi Ka Tohfa

اجنبی کا تحفہ

Ajnabi Ka Tohfa

Jaib Katra

جیب کترا

Jaib Katra

Muqadar Ka Likha

مقدر کا لکھا

Muqadar Ka Likha

Veran Kunway Ka Raaz

ویران کنویں کا راز

Veran Kunway Ka Raaz

Jangli Larka

جنگلی لڑکا

Jangli Larka

Haqeeqi Khushi

حقیقی خوشی

Haqeeqi Khushi

Qeemti Motti Ki Talash

قیمتی موتی کی تلاش

Qeemti Motti Ki Talash

Urdu Akhabarat Ki Tareekh

اردو اخبارات کی تاریخ

Urdu Akhabarat Ki Tareekh

Parri Ki Charri

پری کی چھڑی

Parri Ki Charri

Jamia Al-Azhar

جامعتہ الازہر

Jamia Al-Azhar

Hathi Aur Bandar Main Ho Gayi Larai

ہاتھی اور بندر میں ہوگئی لڑائی

Hathi Aur Bandar Main Ho Gayi Larai

Your Thoughts and Comments