Dosti Ya Ihsan

دوستی یا احسان

’امی یہ کیا؟آپ مجھے روز دس روپے زیادہ کیوں دیتی ہیں ،بچ جاتے ہیں “۔جنید کی امی نے اُسے تیار کرتے ہوئے جیسے ہی اُسکی جیب میں پیسے ڈالے تو جنید نے اُن سے پوچھ لیا۔کیونکہ وہ فضول خرچ نہیں تھا ۔جو پیسے بچتے اُنہیں سنبھال کر رکھتا اور بہت فرماں بردارتھا۔

منگل نومبر

dosti ya ihsan

’امی یہ کہا؟آپ مجھے روز دس روپے زیادہ کیوں دیتی ہیں ،بچ جاتے ہیں “۔جنید کی امی نے اُسے تیار کرتے ہوئے جیسے ہی اُسکی جیب میں پیسے ڈالے تو جنید نے اُن سے پوچھ لیا۔کیونکہ وہ فضول خرچ نہیں تھا ۔جو پیسے بچتے اُنہیں سنبھال کر رکھتا اور بہت فرماں بردارتھا۔


”بیٹا! تم روز ایک ہی سوال کرتے ہو اور میں تمہیں ایک ہی جواب دیتی ہوں ۔میں تمہیں تمہاری ضرورت سے زیادہ پیسے اِسلئے دیتی ہوں کہ اگر تمہیں کہیں کوئی ضرورت مند نظر آئے تو اُسے دے دینا۔“
”مگر امی جان مجھے تو کوئی ضرورت مند نہیں ملتا،جسے دیدیا کروں ۔
“جنید نے کہا۔
”بیٹا ضروری نہیں کہ کوئی خود تم سے کہے کہ وہ ضرورت مند ہے بلکہ ہمیں دوسروں کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اُن کی مدد کرنی چاہیے۔

(جاری ہے)


”مگر ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ؟“جنید نے اگلا سوال کیا۔


”جب ہم کچھ ایسا دیکھیں کہ کسی کو کچھ چاہئے مگر وہ اُسے پورا نہ کرپارہا ہوتو ہمیں اُسکی مددکرنی چاہیے۔“
”ٹھیک ہے ،امی میں سمجھ گیا،میں اب اِن پیسوں سے اُن کی مدد کروں گا جن کو ضرورت ہو گی ۔“جنید امی کو اللہ حافظ کہتے ہوئے سکول چلاگیا۔

کلاس میں پچھلے مہینے کی طرح اِس بار بھی عدنان نے فیس نہیں دی بلکہ سراُس پر ناراض بھی ہوئے۔اُنہوں نے اُس سے کہا؛اب تم کلاس میں تب ہی آؤ گے ۔جب دوماہ کی فیس لاؤ گے ۔“عدنان سر جھکا کر کلاس سے نکل گیا تو سب لڑکے افسردہ تھے کیونکہ عدنان کے ابو دو ماہ پہلے فوت ہو گئے تھے ۔
جنید کلاس کے بعد جب باہر نکلا تو عدنان باہر سیڑھیوں پر بیٹھا رورہا تھا ۔
عدنان فکر نہ کرو،تمہاری فیس کا بندوبست ہو گیا ہے ۔“جنید نے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کرکہا۔
کیسے ؟عدنان نے حیرت سے پوچھا۔
”میں نے کچھ پیسے جمع کئے تھے ،تمہارے فیس اداہوجائے گی۔
“جنید نے یہ کہتے ہوئے عدنان کو گلے لگایا تو دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے وہ دونوں خوشی خوشی سر کے پاس فیس جمع کروا کر آئے ۔جنید نے عدنان سے کہا۔”میری امی نے کہا تھا کہ میں تمہیں زیادہ پیسے دیتی ہوں تا کہ تم کسی ایسے انسان کو دو جس سے اُسکی مشکل آسان ہوجائے اب میں ہر ماہ تمہیں فیس دیا کروں گا۔

”میں تمہارا احسان زندگی بھریادرکھوں گا۔“عدنان نے کہا۔
”دوستوں میں کوئی احسان نہیں ہوتا بلکہ حق ہوتا ہے ۔اِسلئے اب تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ہم دوست ہیں اور رہیں گے ۔“پھر وہ دونوں خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔

Your Thoughts and Comments