Doulat Aur Zindagi - Article No. 1284

دولت اور زندگی

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم کرکے بہت سارا خزانہ جمع کر لیا اور اُسے شہر سے باہر ایک جنگل میں خفیہ غار میں چھپا دیا۔اُس غار کے دروازے کی دو ہی چا بیاں تھیں ۔

منگل جنوری

doulat aur zindagi

سعید الرحمن انصاری
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم کرکے بہت سارا خزانہ جمع کر لیا اور اُسے شہر سے باہر ایک جنگل میں خفیہ غار میں چھپا دیا۔اُس غار کے دروازے کی دو ہی چا بیاں تھیں ۔


ایک بادشاہ کے پاس اور دوسرے اُس کے وزیر کے پاس ۔اِن کے سوا کسی کو بھی اُس غار کا علم نہیں تھا ۔
ایک دن صبح کے وقت بادشاہ خزانہ دیکھنے کیلئے غار کی طرف گیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔
خزانے میں ہیرے جو ا ہرات چاول اور گندم کے اَنبار کی طرح بکھرے پڑے تھے ۔

بادشاہ اُس خزانے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ،لیکن اندر آتے وقت وہ غار کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔اُسی وقت وزیر کا گزر اُس غار کی طرف سے ہوا ۔وزیر نے جب خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا۔

(جاری ہے)

وہ سمجھا کہ غلطی سے دروازہ کھلا رہ گیا ہے ۔

اِسی خیال کے تحت اُس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور محل پہنچ کر یہ بات بھول گیا۔
جب بادشاہ ہیرے اور جواہرات کا معائنہ کرنے سے فارغ ہوا تو واپسی کا سوچا ،لیکن جب وہ دروازے کی طرف پہنچا تو دیکھا کہ وہ بند تھا۔
بادشاہ نے دروازے کو خوب زور زور سے پیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ چلا تا بھی رہا ،لیکن اُس ویران جنگل میں اُس کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا ۔

وہ واپس اپنے خزانے کی طرف گیا اور اُن سے دل بہلانے کی کوشش کرنے لگا ،لیکن بھوگ اور پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ پھر دروازے کی طرف گیا،اُس نے چیخنا چلاًنا شروع کر دیا اور پھر تھک ہار کروہ واپس آگیا۔
بھوک اور پیاس کی شدت اتنی بڑھ گئی تھی کہ آخر وہ ہیروں سے بھیک مانگنے لگا :”اے قیمتی پتھر! مجھے ایک وقت کا کھانا دے دو ۔
“اُسے یوں لگا جیسے ،وہ ہیرے اُس کی سادگی پر زور زور سے ہنس رہے ہوں ۔اُس نے ایک ہیرا اُٹھا یا اور زور سے دیوار پر مارا پھر موتیوں سے اپنی فریاد کرنے لگا:”اے قیمتی موتیو! مجھے ایک گلاس پانی دے دو۔
“اُسے لگا کہ موتی اور جواہرات اُس پر ہنس رہے ہیں ،بادشاہ کو بہت غصہ آیا ،لیکن بھوک غصے پر غالب آگئی۔

آخر بھوک کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ وہ نڈھال ہونے لگا۔اُس نے دنیا کو پیغام دینے کے لئے زمین پر کچھ لکھا اور مرگیا۔
ادھر ملک میں بادشاہ کے غائب ہونے کی وجہ سے کہرام مچا ہوا تھا ۔ہر شخص ہی بادشاہ کے بارے میں فکر مند تھا اور اُسے تلاش کرنے کی تگ ودو کررہا تھا ۔
بادشاہ کو تلاش کرتے ہوئے اتفاق سے وزیر کا گزر اُس غار کی طرف سے ہوا تو اُس نے سوچا کہ بادشاہ کے خزانے کا کچھ اَتا پتا کریں ۔جب وہ غار کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ بادشاہ مرا پڑا ہے اور زمین پر لکھا ہے :”دولت کسی کو زندگی نہیں دے سکتی ۔“
وزیر بادشاہ کی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سکتے میں آگیا ،وہ بادشاہ کا تجربہ محسوس کر چکا تھا، اُس نے تہیہ کیا کہ آئندہ زندگی میں وہ دولت کی بجائے انسانوں سے پیار کرے گا اورکسی کو تکلیف نہیں دے گا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Khoodari

خوداری

Khoodari

Behtreen Dost

بہترین دوست۔۔تحریر:مختار احمد

Behtreen Dost

Pari Ka Tufa

پری کا تحفہ

Pari Ka Tufa

Dou Chuhey

دو چوہے

Dou Chuhey

Ashrafion Ki Thaili

اشرفیوں کی تھیلی

Ashrafion Ki Thaili

Aik Cheel Ki Kahani

ایک چیل کی کہانی

Aik Cheel Ki Kahani

گھر کی باتیں

Ghar Ki Baatain

Khazanay Ki Chori

خزانے کی چوری۔۔تحریر:مختار احمد

Khazanay Ki Chori

Rabbit Friends

خرگوش کے دوست

Rabbit Friends

Aazm Our Hosla

عزم اور حوصلہ

Aazm Our Hosla

Dolat Aur Zindagi

دولت اور زندگی

Dolat Aur Zindagi

Titli Hoon Main Titli Hoon

تتلی ہوں میں تتلی ہوں

Titli Hoon Main Titli Hoon

Your Thoughts and Comments