Eid Card - Article No. 1968

عید کارڈ

اپنے ہاتھ سے عید کارڈ بناؤں اور سب کو عید کی مبارک باد دوں

منگل 11 مئی 2021

Eid Card
نذیر انبالوی
دادی جان کے پاس مفید باتوں اور یادوں کی ایک پٹاری تھی۔جب بھی وقت ملتا،انعم اور عمر دادی جان کے پاس بیٹھ جاتے۔دادی قصے سناتی جاتیں اور وہ پوری توجہ سے سنتے رہتے۔دادی جان کے پاس ایک ڈائری تھی،جس میں اچار،مربہ جات اور مختلف چیزوں کی چٹنیاں بنانے کی ترکیبیں لکھی ہوئی تھیں۔
ایک بڑا سا البم بھی تھا،جس میں تصاویر کے ساتھ ساتھ بہت سے عید کارڈ بھی تھے۔عید کارڈ بہت خوبصورت تھے۔کسی کارڈ پر قدرتی مناظر تھے اور کسی پر سنہرے حروف لکھے ہوئے تھے۔دادی جان نے ایک سبز رنگ کا عید کارڈ دکھاتے ہوئے کہا:”بچو!یہ تمہارے تایا جان کا بھیجا ہوا ایک عید کارڈ ہے۔

”تایا جان کا بھیجا ہوا عید کارڈ۔“عمر نے عید کارڈ ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔

(جاری ہے)


کارڈ کے اندرونی صفحہ پر نہایت خوش خط لکھا ہوا تھا:
پیاری امی جان!پیارے ابو جان!
عید کے پُرمسرت موقع پر میری طرف سے دلی عید مبارک قبول کیجیے۔


آپ کا پیارا بیٹا
توفیق احمد
دادی جان نے بتایا کہ جب تمہارے تایا ابو پڑھنے کے لئے شہر گئے تو انھوں نے ہاسٹل سے یہ عید کارڈ بھیجا تھا۔
انعم نے اپنے اسکول کے زمانے میں ایسے عید کارڈ دیکھے تھے،مگر پھر موبائل فون کا استعمال زیادہ ہونا شروع ہوا تو عید کارڈ منظر سے غائب ہو گئے۔
عمر نے اسی دور میں آنکھ کھولی تھی کہ موبائل فون پر فیس بک یا واٹس ایپ پر عید کی مبارک باد دینے کا رواج ہو گیا۔دادی جان کے البم میں اور بھی بہت سے عید کارڈ تھے۔ان عید کارڈوں کو دیکھ کر ایک خیال عمر کے ذہن میں آیا۔اس خیال کے آتے ہی اس نے انعم آپی سے کہا:”میں چاہتا ہوں کہ اپنی ڈرائنگ کا امتحان لوں،اپنے ہاتھ سے عید کارڈ بناؤں اور سب کو عید کی مبارک باد دوں،کیا اس کام میں آپ میری مدد کریں گی؟“
آپی نے کہا:”میں تمہاری بھرپور مدد کروں گی۔
تم عید کارڈ بناؤ گے اور میں دادی جان کی ڈائری میں درج کسی ایک چیز کی چٹنی بنانے کی کوشش کروں گی۔“
”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔“دادی جا ن نے دونوں کی باتیں سن لی تھیں۔
انعم آپی اور عمر اپنے اپنے کام میں جت گئے۔
عمر بہت سے رنگین کاغذ اور مارکر لے آیا۔آپی نے دادی جان سے مشورہ کرنے کے بعد خوبانی اور آلو بخارے کی چٹنی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔امی جان کو بھی علم ہو گیا تھا کہ بچے دادی جان کے کمرے میں بیٹھ کر کوئی اہم کام کر رہے ہیں۔ دونوں نے دادی جان کی نگرانی میں عمدہ انداز میں اپنا کام مکمل کیا۔
دادی جان نے عمر کے بنائے ہوئے عید کارڈ کو دیکھا۔سبز اور پیلے رنگ کا کارڈ بہت خوب صورت دکھائی دے رہا تھا۔
رمضان المبارک کا آغاز ہوا تو پہلے روزے کے افطار پر میز پر جہاں اور مزے مزے کی کھانے کی چیزیں تھیں،وہیں آپی کی بنائی خوبانی کی مزے دار چٹنی بھی تھی۔
ابو جان کے ساتھ ساتھ سب نے چٹنی کی خوب خوب تعریف کی۔ابو جان نے آپی کو پانچ سو روپے انعام دیتے ہوئے کہا:”اب یہ مزے دار کام گھر میں جاری رہنا چاہیے۔“
عمر میاں نے اپنے بنائے عید کارڈ رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں ڈاک کے ذریعے بھیج دیے تھے۔
ماموں جان بحرین میں اور پھوپھو قدسیہ ملتان میں عید کارڈ ملنے پر بہت خوش تھیں۔تایا جان اور چچا جان کے ساتھ ساتھ عمر نے امی جان اور ابو جان کو الگ الگ عید کارڈ دیے۔ایک خوب صورت کارڈ اپنے شفیق استاد،سر اجمل کو بھی بھیجا۔سب کو عمر کے بنائے عید کارڈ بہت پسند آئے تھے۔

چاند رات کو عمر نے دادی جان کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔
”عمر میاں!اندر آجاؤ۔“
عمر جب کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت عید کارڈ تھا۔اس نے نہایت ادب سے کہا:”دادی جان!یہ عید کارڈ آپ کے لئے ہے۔

دادی جان نے عید کارڈ لیتے ہوئے محبت سے عمر کے سر پر ہاتھ رکھا۔عید کارڈ دیکھ کر دادی جان بولیں:”واہ،بہت عمدہ عید کارڈ ہے،میں اسے اپنے البم میں لگاؤں گی،ایک عرصہ کے بعد کوئی نیا عید کارڈ البم میں لگے گا۔جیتے رہو،عمر میاں!“
آپ کا بھی شکریہ امی جان!“یہ آواز عمر کے ابو کی تھی۔
ان کے ہاتھ میں عمر کا بنایا ہوا عید کارڈ تھا۔
دادی نے کہا:”میرے بچو!دور جدید کی چیزوں سے تعلق ضرور رکھنا چاہیے،لیکن ماضی کی اچھی روایات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔عمر میاں نے بہت کم پیسے خرچ کرکے ہمیں اپنے ہاتھوں سے جو عید کارڈ بنا کر دیے ہیں،اس سے اخلاص،محبت اور تعلق کا احساس ہوتا ہے۔“
دادی جان کی باتیں سن کر عمر بولا:”دادی جان!ایسا صرف اور صرف آپ کی وجہ سے ہوا ہے،انشاء اللہ ہمارے گھر میں یہ روایت قائم رہے گی۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Bajre Ki Meethi Tikya

باجرے کی میٹھی ٹکیہ

Bajre Ki Meethi Tikya

Shahi Musawir

شاہی مصور

Shahi Musawir

Til

تِل

Til

Shaheed Millat

شہید ملت

Shaheed Millat

Kar Darguzar

کر درگزر۔۔تحریر:طیبہ ثناء

Kar Darguzar

Chirya Ka Intiqam

چڑیا کا انتقام

Chirya Ka Intiqam

3 Dost

تین دوست

3 Dost

Jangal Wala Jin

جنگل والا جن

Jangal Wala Jin

بادشاہ اور غریب میں‌ فرق

Badshah Aur Ghareeb Main Faraq

Jis Ka Kaam Usi Ko Sajahy

جس کا کام اُسی کو ساجھے

Jis Ka Kaam Usi Ko Sajahy

Meri Kahaani

میری کہانی

Meri Kahaani

Wazir Ya Ustad

وزیریااُستاد

Wazir Ya Ustad

Your Thoughts and Comments