EID K Jore

عید کے جوڑے

عیدالفطر میں چند روز باقی رہ گئے تھے۔عاتکہ‘حمیدہ‘ثریا اور بھائی جان سلیم کے کپڑے سل کر آچکے تھے۔امی اور ابو نے نئے جوڑے نہیں سلوائے تھے ۔

جمعہ مئی

EID K Jore
صوفیہ یزدانی
عیدالفطر میں چند روز باقی رہ گئے تھے۔عاتکہ‘حمیدہ‘ثریا اور بھائی جان سلیم کے کپڑے سل کر آچکے تھے۔امی اور ابو نے نئے جوڑے نہیں سلوائے تھے ۔کچھ عرصہ قبل خانہ زاد بہن کی شادی ہوئی تھی جس میں انہوں نے دونئے جوڑے سلوائے تھے۔
”عاتکہ بیٹا!یہ میرے دونوں جوڑے استری کرکے رکھ دیں ۔نیلا جوڑا عید کی نماز اور بادامی دوسرے دن پہن لوں گی۔“امی نے عاتکہ سے کہا۔ابونے اپنے دونوں سوٹ ڈرائی کلینز سے استری کروالئے تھے۔
امی عید کے لئے ایک نیاسوٹ تو سلوالیں ۔
ثریا نے امی سے کہا۔بیٹا!عید کے لئے جوڑے میرے پاس ہیں تیسرا کوئی جوڑا سلواکرمیں پیسے ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ہمیں عید میں فضول خرچی والا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے ۔

(جاری ہے)

آپ بہن بھائیوں کے پاس عید میں پہننے والے کپڑے نہیں تھے۔اس لئے آپ کو بنوادےئے ہیں۔

“امی نے بات مکمل کی تو ثریا کہنے لگی۔” ہمیں ہر موقع فضول خرچی سے بچنا چاہئے ورنہ کئی لوگ توجمعة الوداع اور چاند رات کے لئے بھی الگ جوڑے بناتے ہیں اور صرف نئے کپڑے ہی نہیں بلکہ چاند رات کو تو ہمارے ہاں بازاروں اور میڈیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

ثریا کی باتیں سن کر عاتکہ نے بھی اپنی کہی ہاں”ثریا!مجھے یاد آیا کہ میری دوست نیہانے گزشتہ سال چاند رات کے لئے بھی قیمتی جوڑے بنوائے تھے۔اس میں تو کسی غریب بچے کے عید کے جوڑے بنائے جاسکتے تھے۔“گفتگو جاری تھی کہ بھائی جان عصر کی نماز پڑھ کر ہاتھ میں اخبار لئے گھر میں داخل ہوئے۔
”السلام وعلیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ بھائی جان“۔تینوں بہنوں نے انہیں ایک ساتھ سلام کیا۔بھائی جان نے بھی مسنون طریقے سے جواب دیا۔ان کے ہاتھ میں اخبار کا رنگین صفحہ تھا۔بہنوں کو عید کی باتیں کرتا دیکھ کر انہوں نے با آواز بلند ایک مضمون کی سرخی پڑھی۔

”کراچی میں مخیرحضرات کی جانب سے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر افطاری کا اہتمام ‘ضرورت مندوں میں عید کے کپڑے بھی تقسیم کئے گئے“۔یہ نیکی تشہیر کے لئے نہیں کی گئی تھی اس لئے اس مضمون میں کہیں کسی کانام نہیں تھا ۔بھائی جان نے بلند آواز سے کہا”رمضان المبارک کا موسم بہار ہے۔
روزہ داروں کو روزہ کھلوانا اور غریبوں کو رمضان میں راشن اور عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کے لئے عید کے جوڑے سلوا کر دینا بہت بڑی نیکی ہے ۔ہمیں بھی اس میں حصہ لینا چاہئے“۔بہنوں نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی ۔فرزانہ آپی ہاتھ میں چاول کا ٹرے لئے ان کے پاس آگئیں۔

”آج آپ سب کے لئے مٹر والے چاول پکائے جائیں گے“۔ان کے گھر میں افطاری کھجور اور پانی سے کرکے مغرب کی نماز کے بعد کھانا کھایا جاتا تھا۔اس طرح انہیں رمضان المبارک کے لئے الگ سے راشن خریدنے یا افطاری کا اہتمام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی اور ساتھ ہی قرآن پاک پڑھنے کا وقت بھی مل جاتا تھا۔
امی نے اس سال گھر میں خواتین کے لئے تروایح پڑھنے کا اہتمام بھی کیا تھا ۔امی ان کی باتیں سن کر کچن سے باہر آئیں اور کہنے لگیں”نیکی میں دیر کیسی․․․․․․؟آپ سب اپنے عید کے جوڑوں میں سے ایک ایک جوڑا کسی ضرورت مند کو دے دیں۔اللہ تعالیٰ رمضان میں نیکی کا اجر بڑھا کر دیتے ہیں “۔تھوڑی ہی دیر میں سب نے اپنا عید کا ایک ایک سوٹ لا کر امی کے سامنے رکھ دیا۔

Your Thoughts and Comments