Faraibiya

فریبیا

”اُف ،اتنی گرمی ۔ایسا لگ رہاہے ،سورج میاں سرپر کھڑے ہیں ۔“نواب صاحب بڑبڑاتے ہوئے سبزی کا تھیلا اُٹھائے چلے جارہے تھے کہ اچانک

جمعرات جنوری

faraibiya

مہر ین فاطمہ
”اُف ،اتنی گرمی ۔ایسا لگ رہاہے ،سورج میاں سرپر کھڑے ہیں ۔“نواب صاحب بڑبڑاتے ہوئے سبزی کا تھیلا اُٹھائے چلے جارہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان سے ٹکرا گئے،یا شاید نوجوان ان سے ٹکرا گیا۔آلو زمین پر گر پڑے۔


”ارے ارے میاں ! یہ اندھوں کی طرح کیوں ٹکراتے پھررہے ہو،سڑک پر شرافت سے چلا کرو۔“
نواب صاحب نے بھی نوجوان کو نہ بخشا۔
”معافی چاہتا ہوں انکل! ذرا جلدی میں تھا۔نوکری پر جارہا تھا۔یہ لیں آپ کے آلو۔“نوجوان نے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے گرنے والے آلو بھی اُٹھا کر دے دیے۔

وہ ذرا جلدی میں لگتا تھا،اتنی دیر میں نواب صاحب نے اس کا معائنہ کر چکے تھے۔وہ پینٹ شرٹ پہنے اچھے گھر کا لگتا تھا۔

(جاری ہے)


”اچھا،اچھاجائیے،مگر آیندہ احتیاط کیجیے گا۔“
نوجوان ،نواب صاحب کی نصیحت سننے سے پہلے ہی جا چکا تھا۔


”تو بہ ،یہ آج کل کے بچے کسی کی نہیں سنتے ،بس جلدی ،ہر وقت جلدی۔“نواب صاحب بڑ بڑاتے ہوئے گھر کو چل دیے۔وہ بڑے سادہ انسان تھے ۔نواب صاحب کو جتنی جلدی غصہ آتا تھا،اتنی ہی جلدی اُتر بھی جاتا تھا ۔سیدھے سادے نواب صاحب کو گھر جا کر پتا چلا کہ کسی نے نہایت صفائی سے ان کی جیب کاٹ لی ہے ۔
اچانک ان کو وہی نوجوان یاد آیا ،جس سے وہ ٹکرائے تھے۔انھیں اس نوجوان پر بے حد غصہ آیا،مگر اب کیا ہو سکتاتھا،وہ نوجوان تو اپنا کام کرچکا تھا۔
کچھ دن بعد نواب صاحب بازار میں ایک دوکان سے سود اسلف لے رہے تھے کہ اپنے برابر کھڑے آدمی پر ایک سر سری سی نگاہ ڈالی۔
سوچنے لگے کہ انھوں نے اس آدمی کو کہاں دیکھا تھا۔اچانک ان کے ذہن میں جھما کا ہوا کہ یہ تو وہی جیب کتر ا نوجوان ہے ۔اتنے میں وہ نوجوان سود اسلف لے کر جانے لگا۔
نواب صاحب نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑ لیا:”ارے میاں جیب کترے! کہاں چلے،پھر کسی کو لوٹنے تو نہیں جارہے؟“
نو جوان نواب صاحب کو دیکھ کر گڑ بڑا گیا۔
وہ رفو چکر ہونا ہی چاہتا تھا کہ نواب صاحب نے اپنے ہاتھ کی گرفت سخت کردی۔
”ارے انکل! آپ تو وہی ہیں نا․․․․․․“
”ہاں وہی ہوں ،جس کی تم نے جیب کترلی تھی۔“نواب صاحب نے اس کی بات کاٹی۔
”ہاں ،نہیں ،جی،وہ بس انکل! اب آپ کو کیا بتاؤں !“ نوجوان نے اپنے اوپر معصومیت طاری کرلی:”میرے بچے تین دن سے بھوکے تھے ۔
گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا،بہت مجبور ہو کر میں نے یہ حرکت کی۔“وہ بہت معصوم دکھائی دینے لگا۔
نواب صاحب اپنا غم بھول کر نوجوان کے دکھ پر افسردہ ہو گئے۔جیب سے کچھ پیسے نکال کر اسے دیے اور کہا:”بچوں کے لیے پھل وغیرہ لیتے جانا ،بچے خوش ہو جائیں گے ۔

”ارے انکل! آپ کا بہت بہت شکریہ ۔“نوجوان نے پیسے لیتے ہوئے نادیدہ آنسو پونچھے اور نواب صاحب کے گلے لگ گیا۔
”اچھا بیٹا! اب کوئی بُرا کام نہیں کرنا اور توبہ کر لینا اس کا م سے۔“نواب صاحب بولے۔
”جی انکل! اب نہیں کروں گا ایسا کام ۔
“نوجوان ندامت سے سر جھکا کر ایک طرف کو چل دیا اور نواب صاحب نے اپنے سودے کے پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتا چلا کہ آج وہ پھر لُٹ گئے۔
”ہائے ہائے ،آج ہم پھر لُٹ گئے۔وہ ہمیں پھر لُٹ کر چلا گیا۔“نواب صاحب واویلا کرنے لگے ،پھر دکان دارسے مخاطب ہوئے :”خالد صاحب , ہم پھر لُٹ گئے ۔
ہم ابھی آپ کے پیسے نہیں دے سکتے ۔“
”ارے حضرت ! یہ بھلائی کا زمانہ نہیں ہے ۔آپ نے خواہ مخوا بھلائی کی ۔آپ لے جائیے ،سوداپیسے بعد میں دے جائیے گا۔“خالد صاحب ،نواب صاحب کو جانتے تھے ،کچھ افسوس سے بولے۔
نواب صاحب سودا اُٹھائے انتہائی معصومیت سے گھر کو چل دیے۔

موسم بڑا خوش گوار تھا۔ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ۔فضا میں ہلکی خنکی تھی ۔صبح کا وقت تھا۔آج تو نواب صاحب بہت خوش دکھائی دیتے تھے ۔اس لیے وہ اسکوٹر لے کر نکلے ہوئے تھے ۔پارک دیکھ کر سوچا ،کچھ دیر چہل قدمی ہی کرلی جائے۔
ابھی اسکوٹر سے اُترے ہی تھے کہ بُری طرح چونکے اور ساتھ چلتے ایک آدمی کو انھوں نے اُچک کرد بوچ لیا:”ارے بر خوردار ! رکو تو ذرا! کہاں چلے ! ذرا ،ہم سے تو ملتے چلو ،صبح صبح۔“
نواب صاحب نے جس شخص کو پکڑا تھا ،وہی جیب کتر ا تھا۔

”ارے بھائی! آج تو ہم تمھیں ناشتا کروائیں گے اور وہ بھی تھا نے میں ۔“نواب صاحب چلائے۔
”ارے دو منٹ میری بات تو سنیں انکل!“نوجوان کی حالت غیر ہونے لگی۔
”اچھا ہم تمھیں چھوڑ دیں ،تاکہ تم ہمیں پھر کوئی کہانی سنا کر بھاگ جاؤ۔

”نہیں نہیں انکل! مجھے چھوڑ دیں ،مجھے آپ کو کچھ دینا ہے ۔“
نواب صاحب کے چھوڑتے ہی اس نے جیب سے کچھ روپے نکالے اور پکڑا تے ہوئے بولا:”یہ لیں انکل ! یہ مجھے آپ کو دینے تھے اور اس کے لیے میں آپ ہی کو ڈھونڈرہا تھا اور ایک بار پھر میں معافی چاہتا تھا۔
آپ کو دھوکا دیا ،لیکن یقین کیجیے،میں بُراآدمی نہیں ہوں ۔مجھے ندامت محسوس ہوتی تھی ۔آپ مجھے بس معاف کر دیں ۔یہ روپے گِن لیں ۔پورے تو شایدنہ ہوں ،مگر میں بعد میں لوٹا دوں گا۔“بات کرتے کرتے یہ دونوں پارک تک چلے آئے تھے ۔

”اچھا اچھا معاف کیا ،لیکن تم تھوڑا دو رہٹ کر کھڑے ہو ہم سے ۔ہمیں تو اب بھی تم پر شک ہے اور ہاں ،پیسے تو ہم ضرور گنیں گے ۔“یہ کہہ کر نواب صاحب انتہائی انہماک سے پیسے گننے میں مشغول ہو گئے ۔
انھیں اس وقت ہوش آیا ،جب بہت قریب سے ایک اسکوٹر گزری ،جس پر وہی نوجوان سوار تھا ،جواب نواب صاحب کو چِڑانے کے انداز میں ہاتھ لہراتا ہوا جارہا تھا ،کیوں کہ تھوڑے سے رپوں کے بدلے نوجوان کے لیے اسکوٹر کا سود ا بُڑا نہیں تھا۔

Your Thoughts and Comments