Ghanne Jangal Se Greater Iqbal Park Tak - Article No. 1706

گھنے جنگل سے گریٹر اقبال پارک تک

پرانے وقتوں کی بات ہے دریائے راوی بادشاہی مسجد اور قلعہ اکبری کی شمالی دیواروں کے قریب سے گزرا کرتا تھا ۔کئی صدیاں اس جگہ بہنے کے بعد دریا آہستہ آہستہ اپنا رُخ تبدیل کرتا ہوا اپنی موجودہ گزرگاہ تک جا پہنچا۔

جمعرات اپریل

Ghanne Jangal Se Greater Iqbal Park Tak
راحیلہ مغل
پیارے بچو!آئیے آپ کو گریٹر اقبال پارک کی کہانی سناتے ہیں۔ پرانے وقتوں کی بات ہے دریائے راوی بادشاہی مسجد اور قلعہ اکبری کی شمالی دیواروں کے قریب سے گزرا کرتا تھا ۔کئی صدیاں اس جگہ بہنے کے بعد دریا آہستہ آہستہ اپنا رُخ تبدیل کرتا ہوا اپنی موجودہ گزرگاہ تک جا پہنچا۔
گویا جس جگہ راوی کی لہریں کبھی ٹھاٹھیں مارا کرتی تھیں وہاں ایک وسیع وعریض میدان وجود میں آگیا ۔وقت کے ساتھ ساتھ یہاں ایک خطر ناک گھنا جنگل اُگ آیا۔شالا مار باغ سے بادامی باغ تک پھیلا ہوا یہ جنگل اس وقت گنجان تھا کہ یہاں دن کے وقت بھی کوئی شخص گزرتے ہوئے خوف محسوس کرتا تھا ۔
سکھوں کا دور آتے آتے یہ جنگل ڈاکوؤں اور لٹیروں کی پناہ گاہ بن گیا تھا ۔انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تو انہوں نے اپنی حفاظت کے پیش نظر اس جنگل کو صاف کر دیا تاکہ انگریز مخالف گر وہ یا دیگر سماج دشمن عناصر یہاں چھپ کر کارروائیاں نہ کر سکیں ۔

(جاری ہے)


جنگل کٹنے کے بعد یہاں چٹیل میدان وجود میں آگیا جسے انگریزوں نے پلٹن میدان کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا جہاں انگریز فوج کی پریڈ وغیرہ ہوا کرتی تھی ۔علاوہ ازیں گھڑ دوڑ اور نیزہ بازی کے مقابلے بھی اس میدان میں منعقد کرائے جاتے تھے ۔
شام کے وقت اندرون شہر کے لوگ میدان میں چہل قدمی اور سیر کے لئے آیا کرتے تھے ۔1930ء کے لگ بھگ میدان میں آم اور دوسرے پھلوں کے درخت لگوائے گئے ۔علاوہ ازیں میدان کو گھاس اور پودوں سے بھی آراستہ کیا گیا ۔اس طرح یہاں جو باغ وجود میں آیا اُسے اس وقت کے گورنر جنرل ہند (وائسرائے) لارڈ منٹو کی نسبت سے منٹو پارک کا نادم دے دیا گیا۔
یہ نام قیام پاکستان تک مشہور رہا اور اب تک یہ نام ذہنوں میں محفوظ ہے ۔
جس زمانے میں لاہور شہر صرف قلعہ اور اس کے گردو نواح تک محدود تھا اس وقت منٹو پارک بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ شہر کے قریب ترین ہونے کی وجہ سے منٹو پارک عوام میں بے پناہ مقبول تھا۔
اس وقت تک لاہور کے دوسرے پارک اور باغات صرف انگریز حکمرانوں اور امراء کے لئے مخصوص تھے اسی لئے منٹو پارک کی اہمیت زیادہ ہو گئی تھی ۔عام شہریوں کی تفریح وعوامی تقریبات کے لئے منٹو پارک کو خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔اس لئے یہ مقام اپنے اندر کئی یاد گار داستانیں سمیٹے ہوئے ہے ۔
پتہ چلتا ہے کہ شروع ہی سے یہ پارک ادبی محافل ،بڑے پہلوانی دنگلوں اور سیاسی اجتماعات کا مرکز رہا ۔بسنت پر یہاں پتنگ بازی کے مقابلے ہوئے جن میں ہر مذہب کے لوگ ذوق وشوق سے حصہ لیتے تھے ۔منٹو پارک میں فٹ بال، ہاکی، کبڈی ،کُشتی اور کرکٹ کے مقابلے ہوا کرتے ۔
پارک کا مغربی حصہ مختلف کھیلوں اور ادبی محافل کے لئے مخصوص تھا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا 27ویں اجلاس 22،23اور 24مارچ1940کو اسی منٹو پارک میں منعقد ہوا۔ 23مارچ کو یہاں پاکستان کے قیام کی تاریخی قرار داد پیش کی گئی جسے 24مارچ کو منظوری دے کر تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا گیا ۔اور بعد ازاں اسی جگہ پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا ۔اب اس کا نام گریٹر اقبال پارک ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Ghareeb Saith

غریب سیٹھ

Ghareeb Saith

Koshish

کوشش

Koshish

Khwahish Badshah Ban Nay Ki

خواہش بادشاہ بننے کی

Khwahish Badshah Ban Nay Ki

Buray Amaal Ki Saza

برے اعما ل کی سزا

Buray Amaal Ki Saza

Khushamad Buri Bala Hai

خوشامد بُری بلا ہے

Khushamad Buri Bala Hai

Chanbeli Begum

چنبیلی بیگم

Chanbeli Begum

Do Saheliyaan

دو سہیلیاں

Do Saheliyaan

Nafarmaan Olaad

نا فرمان اولاد

Nafarmaan Olaad

Be Behra

بے بہرہ

Be Behra

Allama Se Wadda

علامہ اقبال‌سے وعدہ

Allama Se Wadda

Biryani Nahi Bki Hai Bhai

بریانی نہیں پکی ہے بھائی۔۔تحریر:مختار احمد

Biryani Nahi Bki Hai Bhai

Raqam Kahn Se Aayi

رقم کہاں سے آئی

Raqam Kahn Se Aayi

Your Thoughts and Comments