Ghareeb Lakarhara - Article No. 1886

غریب لکڑہارا

اس کے گھر کے قریب ہی جنگل تھا،اس نے وہاں سے لکڑیاں کاٹیں اور بازار میں لے جا کر فروخت کر دیں۔اس سے اچھی خاصی آمدنی ہوئی اور یہ اس کی زندگی کا پہلا دن تھا جب اس نے اور اس کے بیوی،بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا

ہفتہ جنوری

Ghareeb Lakarhara
نور فاطمہ
کسی گاؤں میں فضلو نامی محنت کش رہتا تھا۔وہ روز مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلتا تھا،جو کبھی مل جاتی اور کبھی اسے خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا ۔اس کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں تھا۔دن بھر محنت مشقت کے بعد اسے جو اجرت ملتی،وہ اس کے اہل خانہ کا پیٹ پالنے میں ہی صرف ہو جاتی جس کے بعد پھر خالی ہاتھ ہوتا۔
اسی طرح وقت گزرتا رہا اور اس کے بچے بڑے ہوتے گئے۔اب ان کی ضرورتیں اس کی قلیل آمدنی سے پوری نہیں ہوتی تھیں،اس آمدنی کا دارومدار بھی مزدوری ملنے پر تھا۔اسے کئی کئی روز تک بے کار بیٹھنا پڑتا تھا۔ضرورتیں بڑھنے کے بعد اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اب آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ تلاش کرو،بچے بڑے ہو رہے ہیں،ان کی تعلیم اور دیگر ضرورتوں کے لئے بھی پیسے کی ضرورت پڑے گی۔

(جاری ہے)

محنتی تو وہ تھا ہی ،بیوی کی بات سن کر اس نے ایک فیصلہ کیا۔
اگلے ہی روز وہ بازار گیا اور اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم تھی اس سے ایک کلہاڑا خرید کر لایا۔اس کے گھر کے قریب ہی جنگل تھا،اس نے وہاں سے لکڑیاں کاٹیں اور بازار میں لے جا کر فروخت کر دیں۔
اس سے اچھی خاصی آمدنی ہوئی اور یہ اس کی زندگی کا پہلا دن تھا جب اس نے اور اس کے بیوی،بچوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔لکڑیاں کاٹنے کا کام اس کا مستقل روزگار کا ذریعہ بن گیا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے گھریلو حالات بہتر ہونے لگے۔
وہ روز کوشش کرتا کہ زیادہ سے زیادہ لکڑیاں کاٹے تاکہ ان کی فروخت سے زیادہ پیسے آئیں ۔لیکن چند ماہ بعد ہی اس کے استعداد کار میں کمی آنے لگی اور اس کے کلہاڑے سے اتنی لکڑیاں نہیں کٹ پاتیں جتنی وہ ابتدائی دنوں میں کاٹتا تھا۔
اس صورتحال سے اس کی روزانہ کی آمدنی بھی متاثر ہونے لگی اور اس کے گھریلو حالات پھر سے بدتر ہونے لگے۔
اس کی بیوی نے اس سے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اب اس سے پہلے کی طرح زیادہ لکڑیاں نہیں کاٹی جاتیں حالانکہ وہ تمام دن محنت کرتا ہے۔
کلہاڑا درخت پر پہلے کی طرح نہیں چلتا جس کی وجہ سے اسے لکڑیاں کاٹنے میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔اس کی بیوی نے انتہائی سوچ بچار کے بعد اپنے شوہر سے پوچھا،کہ اس نے کلہاڑا خریدنے کے بعد کتنی مرتبہ اس پر دھار لگوائی ہے،؟فضلو نے جواب دیا کہ اسے دھار لگوانے کا خیال ہی نہیں آیا،دوسری بات یہ کہ اگر میں کلہاڑا تیز کرانے جاؤں گا تو لکڑیاں کس وقت کاٹوں گا۔
اس پر بیوی بولی کہ اگر کلہاڑے کو دھار لگوانے میں تھوڑا سا وقت صرف کر دو گے تو اس کی کارکردگی میں اضافہ ہونے کے بعد کم وقت میں زیادہ لکڑیاں کاٹ لو گے اور تمہیں مشقت بھی کم کرنا پڑے گی۔فضلو کی سمجھ میں بیوی کی بات آگئی اور اس کے بعد وہ باقاعدگی کے ساتھ کلہاڑے پر دھار لگوانے لگا،جس سے اس کی کارکردگی پہلے جیسی ہو گئی اور اس کے گھریلو حالات پھر سے بہتر ہونے لگے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

5 Lakh

پانچ لاکھ

5 Lakh

Mother

ماں

Mother

Naiki Ka Hassan

نیکی کا حسن

Naiki Ka Hassan

Dost Ho Tu Aaisa

دوست ہو تو ایسا ہو

Dost Ho Tu Aaisa

Sitara Pari

ستارہ پری۔۔تحریر:مختار احمد

Sitara Pari

Azaadi Inhain Bhi Chahiye

آزادی انہیں بھی چاہیے

Azaadi Inhain Bhi Chahiye

Har Hath Milane Wala Shakhash Dost Nahi Hota

ہر ہاتھ ملانے والا شخص دوست نہیں ہوتا‎

Har Hath Milane Wala Shakhash Dost Nahi Hota

Bay Charah Lakar Hara

بے چارہ لکڑ ہارا

Bay Charah Lakar Hara

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

عقلمند وزیر کے حاسد دشمن

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

Jhoote Bhikari

جھوٹے بھکاری

Jhoote Bhikari

Naik Nabina

نیک نابینا

Naik Nabina

Zalim Bheriye Ka Anjaam

ظالم بھیڑئیے کا انجام

Zalim Bheriye Ka Anjaam

Your Thoughts and Comments