Gharelo Library

گھریلو لائبریری

یہ زیادہ پرانی بات نہیں،اس زمانے میں بیشتر گھرانوں میں قصے،کہانیاں اور نظمیں سنائی جاتیں تھیں اور پہیلیاں بوجھنے کا رواج تھا۔

پیر مئی

Gharelo Library
محمد نبی پشینی
یہ زیادہ پرانی بات نہیں،اس زمانے میں بیشتر گھرانوں میں قصے،کہانیاں اور نظمیں سنائی جاتیں تھیں اور پہیلیاں بوجھنے کا رواج تھا۔مذہبی اور تاریخی قصے،بادشاہوں ،جنوں اور پریوں کی کہانیاں عام تھیں،جن سے بچوں میں دین اور ادب کا ذوق وشوق پیدا ہو جاتا تھا۔

آج ہم مہنگا اور مضرِ صحت کھانا خرید لیتے ہیں ،نمودونمایش میں رقم لٹا دیتے ہیں ،لیکن ہم اپنے گھر میں ایک چھوٹا ساکتب خانہ(لائبریری )نہیں قائم کرتے۔ایک وقت وہ تھا،جب اکثر گھروں میں بھی تھوڑی بہت کتابیں ضرور ہوتی تھیں۔
صرف حیدر آباد دکن میں چار ہزار کتب خانے تھے۔ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں:”گھر کے لوگ پانچ ہزار کا کھانا شوق سے کھالیں گے،مگرپانچ سو کی کتاب نہیں خریدیں گے۔

(جاری ہے)


محترم رضا علی عابدی لکھتے ہیں:”ایک زمانے میں گھر گھر کتب خانے ہوا کرتے تھے ۔

گھر کے ایک طاق میں کچھ کتابیں ضرور موجود ہوا کرتی تھیں۔خوش نویس راتوں کو چراغ کی روشنی میں کتابیں نقل کرکرکے بیچا کرتے تھے۔“
خلافت اُمیہ ،عباسیہ اور اسپین(اندلس)میں کوئی ایسا گھر اور کوئی ایسی مسجد نہیں تھی،جہاں کتب خانہ نہ ہو،یہاں تک کہ جس شخص کے گھر میں کتب خانہ نہ ہو ،لوگ ایسے گھرانے کو پسند نہیں کرتے تھے۔
نوابین اور بادشاہ بھی اپنے ذاتی کتب خانے رکھتے تھے۔باپ اپنی بیٹی کا رشتہ ،دامادکے گھر کی لائبریری دیکھنے کے بعد کیا کرتا تھا،تاکہ پتاچلے کہ میرا ہونے والا داماد کس ذہن،سوچ وفکر کا مالک ہے اور گھر کاماحول کتنا علمی وروحانی ہے ،مگر اب ہم پانچ ہزار کا جوتا خریدکراسے سستاسمجھتے ہیں،لیکن تین سوروپے کی کتاب کو ہم مہنگا کہتے ہیں ۔
یعنی قوم کو جوتے زیاد ہ پسند ہیں۔
اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کو پڑھا لکھا،تعلیم یافتہ،انسان بننا اور باشعور دیکھنا چاہیں تو گھر میں لائبریری ضرور قائم کریں ۔اس سے گھر کا ماحول علمی بن جاتا ہے ۔ہم جس ماحول میں آنکھ کھولتے وہاں کا اثر ہماری شخصیت کی تعمیر میں نمایاں ہوتاہے۔

ہم جس طرح گھر کا سودا خریدنے بازار جاتے ہیں،اسی طرح کتابوں کی دکانوں پر بھی جانا چاہیے۔گھر کے تمام افراد کے لیے مفید کتابوں کی خریداری کرنی چاہیے۔
گھرمیں لائبریری کی ابتداکس طرح کریں؟
اپنے گھر کے کسی گوشے میں دس بارہ کتابوں سے لائبریری کی ابتدا کریں اور اس لائبریری کو ایک خوب صورت سانام دے رہیں۔

ہر مہینے اپنے ذوق کے مطابق دو تین معلوماتی کتابوں کا اضافہ کرتے رہیں ۔اس طرح آپ کے پاس ہر موضوع پر کتاب موجود ہوگی۔
ہر مہینے کتابوں کی خریداری کے لیے کچھ رقم مختص کیا کریں۔
کتب خانے کا ماحول پر سکون ہوتو بہت ہے۔

گھر میں قرآن کی تفاسیر کے ساتھ دیگر اسلامی ،تاریخی ،ادبی اور سائنسی کتابیں ہوں۔بچوں کی تربیت کے لیے اسلامی واصلاحی کہانیاں ،واقعات ،سائنسی ،معلوماتی کتابیں بھی ہوں۔
ہوسکے تو گھر کی لائبریری کے لیے روزانہ ایک اخبار لیا کریں۔
اخبار میں کالم نگاروں کے خیالات سے آگاہ ہوں اور دیگر تحریرں بھی پڑھیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں لائبریریوں کا استعمال اس قدرعام ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے بھی پبلک لائبریریاں موجود ہیں ۔اگر ہم مطالعے کے عادی ہوجائیں تو ہم دوسروں سے بہت اعتماد کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں اور دلائل اور حوالے بھی دے سکتے ہیں ۔اس طرح دوسروں کو اپنی بات آسانی سے سمجھا سکتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments