Gharoor Ki Saza

Gharoor Ki Saza

غرورکی سزا

ایک جنگل میں منٹواور پنٹونامی دو بندرہتے تھے۔ دونوں دن بھرخوب اچھلتے اور شرارتیں کرتے۔ منٹو عادت کا اچھا اور رحمددل تھاجبکہ پنٹو غصیلا اور مغرور طبیعت کامالک تھا۔

روبینہ ناز:
ایک جنگل میں منٹواور پنٹونامی دو بندرہتے تھے۔ دونوں دن بھرخوب اچھلتے اور شرارتیں کرتے۔ منٹو عادت کا اچھا اور رحمددل تھاجبکہ پنٹو غصیلا اور مغرور طبیعت کامالک تھا۔ کبھی کبھی منٹواسے سمجھاتاتو منٹو کہتا۔
میں پھر تیلابندرہوں۔ میری پھرتی اور اونچی چھلانگ کاکوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ منٹوایک دن جنگل میں پھل تلاش کررہاتھا کافی تلاش کے باوجود جب اسے اپنی پسند کاپھل نہیں ملا تو وہ درخت کے پتے اور بیرکھاکرپیٹ بھرنے لگا۔ اچانک پنٹو آگیا منٹوکوبیرکھاتادیکھ کرکہنے لگا‘ تم بیرکیوں کھارہے ہو؟ کیا تمہیں اچھے پھل نہیں ملے؟ منٹونے نفی میں سرہلایاتو پنٹو بولا“ چلوہم جنگل کی دوسری جانب چلتے ہیں اور وہاں ہمیں اپنی پسند کے پھل ضرور ملیں گے۔

(جاری ہے)

منٹونے کہا ہمارے بڑوں نے اس حصے میں جانے سے منع کیاہے وہاں اکثر شکاری گھومتے ہیں۔ پنٹو نے کہا‘ تم میرے ساتھ چلومیں دیکھتاہوں کیسے شکاری پکڑتے ہیں۔
منٹومجبور ہوکرپنٹو کے ساتھ چل پڑا۔ جنگل کے اس حصے میں انہیں پھلوں سے لدے ہوئے درخت ملے منٹونے کچھ پھل کھائے اورپنٹو سے کہا۔
چلواب ہم واپس چلتے ہیں۔ پنٹونے کہا۔ میں توایسی یہاں گھوموں گااور سیر کروں گا۔ یہ کہتے ہی پنٹونے چھلانگ لگائی اور درخت کے اوپر چڑھ کرایک شاخ پکڑ کے جھوٹنے لگا۔ کچھ دیر بعد انہیں درختوں کے بیج میں ایک تھام میں پھل دیکھ کرپنٹو کی رال ٹکپنے لگی۔
وہ جیسے ہی ان پھلوں کی طرف لپک تومنٹو بولاپنٹو مجھے خطرے کی بوآرہی ہے۔ تم وہاں نہ جاؤ۔ پنٹونے اس کی بات نہ سنی اور نیچے چھلانگ لگادی اور جیسے ہی پنٹو نے تھال میں سے پھل اٹھایا ایک جال کہیں سے آگرا جس میں وہ پھنس گیا۔ کچھ ہی دیرمیں ایک شکاری آیااور پنٹو کو جال سے نکال کراس کے گلے میں رسہ باندھ کراپنے ساتھ لیاگیا۔
منٹو بے چارہ درخت پربیٹھایہ سب دیکھ رہاتھا۔ وہ اپنے دوست کوبچانے کیلئے کچھ نہیں کرسکا۔ اسے خیال آیاکہ ان کے بزرگ کہتے ہیں۔ کہ بیٹا” بڑا بول آگے آتا ہے۔ پنٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ اپنی پھرتی اور چالاکی پرغرور کرتاتھا لیکن وہ آک اس کے کچھ کام نہ آئی۔

Your Thoughts and Comments