Ghurbt Ka shikkar

Ghurbt Ka Shikkar

غربت کا شکار

اس جوڑے نے وہاں وہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ اب تک چھے دیہاتی مرد او ر عورتیں اس کا نشانہ بن چکے تھے

غربت کا شکار
جاوید اقبال:
ایک دن ہمیں پڑوسی ملک سے ایک شکاری دوست کا خط ملا۔ خط میں اس نے شیروں کے ایک آدم خور جوڑے کے بارے میں لکھا تھا۔ اس جوڑے نے وہاں وہشت پھیلائی ہوئی تھی۔
اب تک چھے دیہاتی مرد او ر عورتیں اس کا نشانہ بن چکے تھے۔ ہمارے دوست نے ہمیں جلد از جلد وہاں پہنچنے کی تاکیدکی تھی۔ ہمارا یہ دوست کئی شکاری مہمات میں ہمارے ساتھ رہا تھا۔ پھر ایک ٹریفک حادثے میں وہ اپناایک بازو اور ٹانگ گنوا بیٹھا۔
چوں کہ اب وہ خود تو اپنی معذوری کی وجہ سے شکارنہیں کرسکتا، اس لیے اس نے ان آدم خودرندوں کو مارنے کے لیے ہمیں بلایا تھا ۔ یہ خط پڑھ کر ہم اپنے دوست سے ملنے کو بے چین ہوگئے، ہمیں شکار کیے ہوئے بھی بہت دن ہوگئے تھے۔

(جاری ہے)

اس لیے ہم نے جلدی سے تیاری کرلی اور تیسرے دن ہی ٹرین میں سوار ہوکر ایک لمبے سفر کے بعد شام کو اپنے دوست کے گاؤں پہنچے۔

ہمارا دوست ہمارے استقبال کے لیے موجود تھا۔ وہ دلیر شکاری جس نے درجنوں خونخوار درندوں کا مارا تھا۔ کئی بار شیروں سے دو بدو لڑائی کی تھی ، اب بیسا کھیوں کے سہارے چلنے پرمجبور تھا۔ اپنے دوست کو اس حال میں دیکھ کر ہمارا دل بھر آیا۔
ایک رات اور آدھا دن تو پرانی یادوں کو تازہ کرنے میں گزر گیا۔سہ پہر ہوئی ہم نے اپنے دوست سے کہا کہ وہ ہمیں درندوں کا ٹھکانہ دکھادے ایسا نہ ہویہ درندے کوئی اور جانی نقصان کردیں۔ ہمارا دوست ہمیں ایک قریبی گاؤں لے گیا۔ یہ جنگل کے کنارے ایک چھوٹا کام کررہے تھے۔
ہمارے دوست نے بتایا کہ یہاں پر سرکاری کارندے بھی ان درندوں کا شکار کرنے آئے تھے، مگر نہ جانے وہ اب تک کیوں نہیں مارے گئے۔ ہمارے ہاتھوں میں بندوقیں دیکھ کر لوگ ہمارے گرد اِکھٹے ہوگئے۔ ہم نے انہیں تسلی دی کہ وہ بے فکر ہوجائیں یہ درندے اب ہم سے بچ نہیں سکتے۔
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس جگہ پہنچے، جہاں ان درندوں کا ٹھکانا تھا۔ گھنے درختوں کے بیچ ایک کھوہ نما جگہ تھی۔ میں نے اپنے تجربے کی بنا پر اندازہ لگا لیا کہ شیروں کا ٹھکانہ اسی جگہ ہوسکتا ہے۔ میرا خیال درست نکلا۔ خونخوار درندوں نے یہیں اپنا مسکین بنارکھا تھا۔
انسان یا جانور کو مارکروہ اسے اس کھوہ میں گھسیٹ لاتے اور پھر اطمینان سے اسے کھاتے ۔ ہم نے مچان بنانے کے لیے درخت کا انتخاب کیا، جہاں سے ہمیں کھوہ اور ندی کو جانے والی پگڈنڈی نظر آرہی تھی۔ یوں درندے پینے نکلتے یا ہمارے باندھے ہوئے جانور کو کھانے آتے وہ ہمارے نشانے پر ہوتے۔
اپنے دوست کوہم نے ایک بچھڑے کا انتظام کرنے کو کہا اور جنگل کے باہر اپنا کیمپ لگا لیا۔ مچان بنانے کا مرحلہ آیا مقامی مزدورں نے جنگل میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ چناں چہ ہمیں خود ہی مچان بنانی پڑی۔ مچان اتنی بڑی تھی کہ ہم تینوں دوست آسانی سے اس پر بیٹھ سکتے تھے۔
دن ڈھلتے ہی بچھڑے کو ایک درخت سے باندھ دیا گیا۔ ہم مچان پر بیٹھ کر شام کا انتظار کرنے لگے۔ شام ہوتے ہی جنگل میں خاموشی چھا گئی۔ اس کے ساتھ ہی مچھروں نے ہم پر ہلہ بول دیا۔ ہم نے اپنے ہاتھوں اور چہرے پر مچھر بھگانے والا لوشن مَل لیا۔
پھر تھرموس سے گرم گرم چائے نکال کر پی اور چست ہوکر بیٹھ گئے۔ چاند کبھی بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتا، کبھی اس کی چاندنی میں پتے چمکنے لگتے ۔ اچانک چارے کے لیے باندھا ہوا بچھڑا اُٹھ کھڑا ہوا اور رسی تڑانے کی کوشش کرنے لگا۔
ہم ایک دم چوکنے ہوگئے۔ شیرتو ابھی اپنی کھچارسے نکلنے نہیں تھے یہ یقینا کوئی دوسرا جانور تھا جو بچھڑے کی بُو پاکر اِدھر اآنکلا تھا۔ پھر جھاڑیوں میں سرسراہٹ ہوئی اور ہم نے کسی کو جھاڑیوں سے نکلتے دیکھا۔”ارے یہ توکوئی انسان ہے۔
“ ایک کے منھ سے نکلا ۔ واقعی یہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔ اس نے دھوتی اور بنیان پہنی ہوئی تھی اور وہ اس طرح اردگرد دیکھ رہا تھا، جیسے کسی کا انتظار کررہا ہو۔ ہمارا ایک دوست کسی احتیاط کا خیال کیے بغیر بندوق لے کر درخت سے اُترا اور بجلی کی طرح اس پر جھپٹا۔
اس نے ایک ہاتھ آدمی کے منھ پر رکھا اور اسے پیٹھ پر اُٹھا لایا۔ شکار کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ہم نے اس بوڑھے کو اپنے کیمپ میں لے آئے ۔ حلیے سے وہ بہت غریب معلوم ہوتا تھا وہ خود کو چھڑانے کے لیے جدوجہد کررہا تھا ۔ جیسے ہی ہمارے دوست نے اس کے منھ سے ہاٹھ ہٹایا وہ غصے سے بولا:” تم نے مجھے کیوں پکڑا ہے؟“ ”میرے بزرگ ! شایدآپ کو معلوم نہیں خودکشی کرنا جرم ہے۔
“ ہم نے کہا۔”غربت خودکشی سے بھی بڑا جرم ہے۔“ یہ کہہ کر وہ ایک دم روپڑا، پھر اس نے جو کہانی سنائی اسے سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے بتایا وہ اپنے بیٹے اور بہو کی خاطر اپنی مرضی سے شیروں کا لقمہ بننے آیا تھا،کیوں کہ اگر کوئی درندہ کسی انسان کو مارڈالے تو حکومت اس کے گھر والوں کو دولاکھ روپے دیتی ہے۔
پہلے بھی جولوگ مرے ہیں، ان کے گھر والوں کو حکومت نے امدادی رقم دی تھی۔ میں نے سوچا کچھ دن بعد ویسے ہی مرجاؤں گا ، کیوں نہ اپنے بیٹے کی غربت دور کرنے کا انتظام کرجاؤں۔ ہم پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس بوڑھے کو دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ غربت کے ہاتھوں انسان اس حد تک مجبور ہوسکتا ہے ہم بوڑھے کو اس کے بیٹے کے گھر لے گئے۔
اسے سمجھایا کہ بزرگ اولاد کا سرمایہ ہوتے ہیں ان کی قدر کرو، ان کی دیکھ بھال اور خدمت کرو۔ محنت کرکے اپنے حالات بدلو، اوپر والے کی ذات پر بھروسا کرو، وہ کارساز ہے۔ بعد میں ہم نے دونوں آدم خور شیروں کو مارڈالا، جب وہ بچھڑے کے بچے ہوئے گوشت پر دعوت اُڑانے آئے تھے۔ دونوں شیروں کی قیمتی کھالیں ہم نے اس غریب بوڑھے کو تحفے کے طور پر دے دیں اور اپنے دوست سے پھر ملنے کا وعدہ کرکے رخصت لی اور واپس گھر لوٹ آئے۔

Your Thoughts and Comments