Gumnaam Hamdard

گمنام ہمدرد

”یونس بیٹا!ہیڈ ماسٹر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔“سر خالد نے یونس کو مخاطب کیا۔یونس فوراً اُٹھا اور دفتر کی طرف چل پڑا۔

جمعرات جون

Gumnaam Hamdard

زبیر سلطان محسود،کراچی
”یونس بیٹا!ہیڈ ماسٹر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔“سر خالد نے یونس کو مخاطب کیا۔یونس فوراً اُٹھا اور دفتر کی طرف چل پڑا۔
”السلام علیکم سر!“یونس دفتر میں داخل ہوا اور ایک کونے میں بیٹھ گیا۔

ہیڈماسٹر صاحب کسی کام میں مصروف تھے۔یونس نے دیکھا،ہیڈماسٹر صاحب کے ساتھ یونس کے بہترین دوست امجد کے والد داؤدخان بھی تشریف فرماتھے۔
”یونس بیٹا!آپ کی فیس اب تک جمع نہیں ہوئی ہے۔حال آنکہ کل دس تاریخ ہے۔کیا وجہ ہے؟“ہیڈماسٹر صاحب نے اپنے کام سے فراغت پا کر یونس کو مخاطب کیا۔

”وہ ․․․․․․وہ․․․․․․میری والدہ کے پاس فی الحال پیسے موجود نہیں ہیں۔کل تک ان شاء اللہ میں فیس جمع کردوں گا۔“یونس ہکلایا۔

(جاری ہے)

اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
”ٹھیک ہے،کل تک آپ کی فیس ہر حال میں جمع ہونی چاہیے،ورنہ اسکول سے آپ کو خارج کردیا جائے گا۔


یونس ایک غریب لڑکا تھا۔ان کے والد ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہوئے کسی حادثے کا شکار ہو کر وفات پاگئے تھے۔والدہ پڑوسیوں کے کپڑے سی کر بڑی مشکل سے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پال رہی تھیں۔
یونس حصول علم کا بے حد شوقین تھا۔
وہ بہت ذہین بھی تھا۔غربت ومفلسی کی وجہ سے اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔معاشرے میں اپنے آپ کو باوقار شخص دیکھنا چاہتاتھا۔اس کی والدہ کی بھی یہی آرزو تھی کہ بیٹا کامیاب انسان بنے۔
”امی جان !ہیڈماسٹر صاحب نے مجھ سے فیس مانگی ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر آج میں نے فیس جمع نہیں کرائی تو وہ اسکول سے مجھے نکال دیں گے۔
آج مجھے فیس جمع کرانی ہے ،اس لیے مجھے پیسے چاہییں۔“یونس نے اگلے روز اسکول جاتے ہوئے والدہ سے پیسوں کی فرمائش کی۔
”بیٹا !آج تو گھر میں ایک روپیہ بھی نہیں ہے۔آج تم اسکول چلے جاؤ،کل تک میں ان شاء اللہ بندوبست کرلوں گی۔

یونس نے جب والدہ کی طرف سے یہ جواب سنا تو سخت رنجیدہ ہوا۔آج بھی گھر میں پیسے نہیں ہیں۔میں ہیڈماسٹر صاحب کو کیا جواب دوں گا۔یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
اس کی والدہ اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگیں:”بیٹا!رومت،اپنی کوشش اور جستجو کو جاری رکھ ۔
اللہ تعالیٰ ضرور تمھاری مدد کریں گے۔“
یونس کلاس میں بیٹھ کر اس بات کا منتظر تھا کہ فیس کے لیے دفتر سے بلاوا آئے گا ،اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ نہ جانے ہیڈماسٹر صاحب کیا رویہ اختیار کریں گے۔چھٹی ہو گئی،مگر اسے فیس کے لیے نہ بلایا گیا۔
وہ حیران بھی تھا اور خوش بھی۔حیران اس وجہ سے تھا کہ ہیڈماسٹر صاحب نے اس کو بلایا نہیں اور خوش اس لیے تھا کہ آج اس کی جان بچ گئی۔
دوسرا اور تیسرا دن ،بلکہ اب تو مہینہ گزر گیا،مگر ہیڈماسٹر صاحب نے دوبارہ کبھی فیس کی بات نہیں کی ۔

چناں چہ وہ سمجھ گیا کہ یہ ضروراللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد آئی ہو گی۔کسی سے دریافت کرنے کی ہمت اسے نہ ہوئی کہ اصل معاملہ کیا ہے ۔ہیڈ ماسٹر صاحب نے دوبارہ یونس سے فیس نہیں مانگی۔
ایک دن یونس کسی کام سے دفتر جارہا تھا۔
جب وہ دفتر کے دروازے پر پہنچا ،تو ہیڈماسٹر صاحب کسی سے بات کررہے تھے،جس میں اس کانام لیا جارہا تھا۔اس نے جب غور کیا تو پتا چلا کہ ہیڈماسٹر صاحب اور داؤدخان اسی کے اخراجات سے متعلق بات کررہے تھے ۔یونس سے رہا نہ گیا اور وہ فوراًدفتر میں داخل ہوکر ہیڈ ماسٹر صاحب سے دریافت کرنے لگا:”سر!یہ گفتگو میرے اخراجات کے متعلق ہورہی ہے۔
برائے مہربانی مجھے بھی بتادیجیے کہ یہ کیا معاملہ ہے؟“
”میں نے ایک دن آپ کو دفتر میں بلایا تھا اور فیس کی بات کی تھی۔اس دن سے داؤد خان نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کی اسکول فیس وہی ادا کریں گے۔“ہیڈماسٹر صاحب سانس لینے کے لیے رکے پھر بولے:”انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میرے بارے میں کسی کو بھی معلوم نہیں ہونا چاہیے۔
میں یہ سب محض اللہ کی رضا کے لیے کررہا ہوں ،مگر آج تم نے معاملہ جان لیا۔اس وجہ سے ہم بات کو مزید چھپانہ سکے اور ساری بات تمھیں بتادی ہے۔“
یونس کو جب یہ معاملہ پتا چلا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور شکر گزار نظروں سے داؤد خان کی طرف دیکھنے لگا۔
داؤدخان نے اس کو گلے لگایا اور تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے:”بیٹا !رومت ،محنت سے کام لو۔کامیابی تمھیں مل کررہے گی۔حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں،انسان کے لیے ایک نہ ایک راستہ ضرور کھلا رہتا ہے،بشر طیکہ تمھارے اندر تلاش وجستجو کا مادہ ہو،لہٰذا اپنی تعلیم پر توجہ دو۔
ایک دن ان شاء اللہ تم معززآدمی بنو گے۔“
داؤد خان کی یہ نصیحت آموز باتیں یونس کے اندر ایک نیا جوش وجذبہ پیدا کر گئیں۔اب وہ مزید تگ ودوکرنے لگا۔
میٹرک کے بعد یونس نے ملازمت شروع کی اور ساتھ ساتھ پڑھتا بھی رہا۔آخر وہ دن بھی آگیا جس کابرسوں سے یونس کو انتظار تھا۔جب وہ فوج میں ایک بڑے افسر کے عہدے پر فائز ہو گیا۔اس کی آنکھوں کے سامنے آج بھی اس گمنام ہمدرد کا چہرہ گھوم رہا تھا ،جس نے اس مقام تک پہنچنے میں اس کی بھر پور مدد کی تھی۔

Your Thoughts and Comments