Haqiqat

Haqiqat

حقیقت

میں ان خاتون کو نہیں جانتا اور نہ میں ان کا بیٹا ہوں لیکن حال ہی میں میری ماں کینسر کے باعث انتقال کرگئیں یہ خاتون مجھے اپنی ماں جیسی لگیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جب تک ان کے گھر والوں کا پتا نہیں چل جاتا میں انہیں اپنی ماں کی طرح رکھوں گا ان کا علاج بھی کرواﺅں گا

روہنسن سیموئیل گل:
وہ شخص اپنی بات ختم کرکے کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ شمائل نے جلدی سے ایک ہی سانس میں کہہ دیا سُنیے جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے میں ان خاتون کو نہیں جانتا اور نہ میں ان کا بیٹا ہوں لیکن حال ہی میں میری ماں کینسر کے باعث انتقال کرگئیں یہ خاتون مجھے اپنی ماں جیسی لگیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جب تک ان کے گھر والوں کا پتا نہیں چل جاتا میں انہیں اپنی ماں کی طرح رکھوں گا ان کا علاج بھی کرواﺅں گا جناب آپ نے یہ بتا کر مجھے ایک بار پھر حیران کردیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بے چاری کو اپنا اصل بیٹا بھی یاد نہیں اس نے آپ ہی کو اپنا بیٹاک سمجھ لیا اگر آپ انہیںماں سمجھ کر اپنے پاس رکھ لیں تو اس نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ ضرور دے گا آج کل کے دور میں لوگ اپنے حقیقی والدین کو نہیں پوچھتے تو آپ کا یہ بڑا پن ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اُٹھانے کو تیار ہیں۔

(جاری ہے)

جی بالکل میرے لیے یہ خوشی کی بات ہوگی کہ میں اپنی ماں کی طرح ان کی خدمت کرسکوں۔اس کے بعد انہوں نے مل کر چائے پی اور پھر وہ بوڑھی خاتون خوشی خوشی شمائل کے ساتھ چلنے کو تیار ہوگئیںچند دنوں کے بعد ہی شمائل کے گھر کا نقشہ بدل گیا وہ گھر واپس آتا تو اس کو سب چیزیں اس طرح ملتیں جس طرح اس کی والدہ ترتیب سے رکھا کرتی تھیں کھانا بھی وقت پر تیار ہوتا شمائل بھی انہیں امی جان ہی کہتا اور ان کی خوب خدمت کرتا وہ کبھی کبھی یوں ہی اُداس اور غمگین ہوجاتیں تب شمائل پوچھتا امی جان خیریت تو ہے آپ اتنی اُداس کیوں ہوجاتی ہے؟آپ اتنی اُداس کیوں ہوجاتی ہیں؟نہیںنہیںیسی کوئی بات نہیں بس ایسے ہی اکیلے ہونے کی وجہ سے پریشان ہوجاتی ہوں۔
“لیکن میں آپ کے پاس شام کو آتوجاتا ہوں آپ کو اندازہ نہیں کہ جب میں اپنی والدہ کے بعد تنہا ہوگیا تھا تو یہ گھر کس قدر بے رونق اور اُداس معلوم ہوتا تھا؟آپ کے آنے سے اس میں زندگی لوٹ آئی ہے اس لیے میں آپ کی صحت اور طویل عمر کے لیے ہر وقت دعا گو رہتا ہوں میں آپ کو کھو کر دوبارہ اسی دکھ اور اذیت سے نہیں گزرنا چاہتا چند ہی ہفتوں میں ماں جی صحت بہت اچھی ہوگئی اور وہ ہر وقت خوش رہنے لگی تھیں جہاں شمائل کو اُن کی صورت میں ماں مل گئی تھیں وہیں اُن کوبھی شمائل کی صورت میں فرماں بردار اور دیکھ بھال کرنے والا بیٹا مل گیا تھا جس کی خدمت گزاری اور خلوص و محبت سے وہ بے حد خوش تھیں،شمائل نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بوڑھی خاتون کے گھر والے یہاں تک پہنچیں اس لیے اُس نے کبھی خاتون سے ان کے ماضی کے حالات نہ گریدے البتہ وہ ان کی یاداشت کا باقاعدگی سے ایک بہت اچھے معالج سے کروارہا رتھا اور اب وہ کافی حد تک بہتر تھیں اور گھر کے تقریباً سبھی کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیتی تھیں کمپنی کے مالک نے ارسلان کو جب شمائل کی ماتحتی میں ملازمت کے لیے بھیجا تھا توشمائل خوشی خوشی دوسرے ہی دن اسے اپنے گھر لے گیا وہیں پر اُس کی ملاقات شمائل کی اس والدہ سے ہوئی اور اسے ایک لمحے کو بھی احساس نہ ہوا کہ شمائل کی اصل والدہ نہیں ہیں بعد میں جب اسے یہ علم ہوا کہ شمائل نے اپنی ماں کے علاج معالجے کے لیے آفس سے بھاری قرضہ وصول کیا اور اب باقاعدگی سے اُتارنے کی کوشش کررہا ہے تو اس بات کو سمجھ نہ سکا تھا کہ شمائل کی ماں کینسر جیسے مرض کے بعد اتنی صحت یاب اور تن درست کس طرح ہوگئیں،دوسری جانب وحید صاحب کی اس بات نے بھی اُسے حیرت میں ڈال دیا تھا کہ شمائل کی والدہ کو فوت ہوئے چند ماہ گزرچکے ہیں اور تب اس نے آفس سے چھٹیاں بھی لی تھیں اگرچہ اس برانچ کو کافی نقصان کا بھی سامناکرنا پڑا ارسلان سے رہا نہ گیا اور اس نے اپنی دانست میں شمائل کا بھانڈا پھوڑ دیا وحید صاحب بھی شک میں مبتلا ہوکر چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑگئے تھے،چند دنوں کے بعد ارسلان نے وحید صاحب کو راضی کرلیا کہ آپ خود یہاں آئیں اور اس برانچ کا حال احوال معلوم کیجیے سچ ہے کہ جب ایک بار شک کا بیچ کسی ذہن میں بودیا جائے تو وہ جلد اگنے لگتا ہے اور گھنے درخت کی صورت اختیار کرتا جاتا ہے رات کا وقت تھا دروازے پر دستک ہوئی شمائل نے دروازہ کھولا تو ہکا بکا رہ گیا سامنے وحید صاحب ارسلان کے ساتھ کھڑے تھے ،سر آپ؟ارسلان کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے وہ لمحہ آپہنچا تھا کہ شمائل کی پول کھل جاتی اور ارسلان کو شمائل کو عہدہ مل جاتا اپنی آمد کی پہلے اطلاع نہ دینے کا مقصد یہی تھا کہ کہیں شمائل اپنی والدہ کو کسی عزیز رشتے دار کے ہاں نہ بھیج دئے،شمائل نے خوشی سے دونوں کو اندر آنے کی دعوت دی اور پھر ان کی خاطر تواضع میں مصروف ہوگیا وحید صاحب نے ارسلان کی جانب معنی خیز نگاہوں سے دیکھا اور پھر شمائل کو مخاطب کرکے بولے شمائل مجھے تمہاری والدہ کے انتقال کا بہت افسوس ہوا تھا میں کسی کام سے اس شہر میں آیا تو سوچا کہ دیکھتا چلوں تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں۔
سر میں آپ کے احسانات کا پہلے ہی بے حد ممنون ہوں آپ نے ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا میری والدہ کی بیماری کا تمام عرصہ واقعی کٹھن تھا مگر آپ نے میری ہر ضرورت کا خیال رکھا میں آپ کا احسان ہرگز نہیں بھولوں گا آپ مجھے ہمیشہ وفارادر پائیں گے ،ارسلان بولا شمائل صاحب جب آپ نے میری دعوت کی تھی تو تب آپ کی والدہ حیات تھی،شمائل مسکراتے ہوئے کہنے لگا بس یہ قدرت کا کرشمہ ہے خدا نے مجھے ایک بے یارومددگار ماں سے ملوادیا جس کو بیٹے کی ضرورت تھی اور مجھے ماں کی یہ کہتے ہوئے اس نے باورچی خانے کی جانب منھ کرکے بلند آواز سے کہا امی جان آئیں میں آپ کو اپنی کمپنی کے مالک سے ملواﺅں،شمائل کی والدہ چائے نمکو اور بسکٹ میز پر سجانے کے بعد وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں انہوں نے وحید صاحب کی جانب گھور کردیکھا وحید صاحب تو پہلے ہی ٹھٹک گئے تھے ارسلان نے ماں جی سے پوچھا ماں جی کیا شمائل آپ ہی کا بیٹا ہے؟انہوں نے ایک نگاہ وحید پر ڈالی اورپھر مسکراتے ہوئے شمائل کو دیکھا اور کہا ہاں یہی تو میرا پیارا بیٹا ہے ارسلان کا دل ایک بار پھر تیز تیز دھڑکنے لگا وہ وحید صاحب کو جتانا چاہتا تھا کہ سر میں نے کہا تھا ناں کہ شمائل کی والدہ ماشاءاللہ حیات ہے وحید صاحب بجھے دل سے بے چینی سے پہلو بدلتے رہے انہوں نے چائے بھی نہیں پی جب وہ جانے لگے تو دروازے کے قریب پہنچ کر ماں جی نے سرگوشی کے انداز میں وحید صاحب سے کہا بیٹا مجھے امید ہے کہ تو اپنی بیوی کے ساتھ خوش ہوگا بہو تو کچھ زیادہ ہی خوش ہوگی میں نے تجھے شرمندگی سے بچانے کے لیے ان دونوں پر یہ حقیقت نہیں ظاہر ہونے دی ویسے بھی اب میں کبھی بھی اُس گھر میں واپس نہیں جاﺅں گی جہاں سے مجھے در بدر کردیا گیا تھا میں نے تو صدمے کے باعث اپنی یاداشت ہی کھودی تھی بیٹے شمائل نے مجھے دوبارہ سے نئی زندگی بخشی تو اپنی دنیا میں خوش رہ مجھے وہ بیٹا مل گیا جسے میری ضرورت اور جس کے دل میں ماں کی قدر تھی وحید صاحب ہاتھ ملتے ہوئے بے بسی کے عالم میں پرنم آنکھوں کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوئے آج ماں نے اپنے بیٹے کو دھتکاردیا تھا ارسلان ان کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھے ہوئے بولا سر آپ بالکل خاموش ہوگئے آپ نے دیکھا کہ وہ خاتون کہہ رہی تھی کہ شمائل ان کا اصل بیٹا ہے مگر شمائل کس قدر صفائی سے جھوٹ بول رہا تھا مجھے تو بے حد حیرانی ہوئی ہے سر آپ کچھ پریشان ہیں؟وحید صاحب کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھری ہوئی تھیں مگر اندھیرے میں ارسلان دیکھ نہیں پایا چند روز بعد شمائل کو وحید کی جانب سے ایک لیٹر موصول ہوا جس میں والدہ کے علاج کے لیے حاصل کردہ قرضہ معاف کردیا گیا اور اس کی تنخواہ بھی دُگنی کردی تھی شمائل اتنی مہربانی کے پیچھے راز کو کبھی جان نہ سکا ادھر ارسلان اس معمے کو آج تک سلجھا نہیں پایا کہ بازی کیسے پلٹ گئی اور وحید صاحب نے بھی اسے کبھی اصل حقیقت نہیں بتائی

Your Thoughts and Comments