Haseen Shahzadi - Article No. 1289

حسین شہزادی۔۔تحریر:طیبہ گل

مل جل کر رہنے سے برکت ہوتی ہے ، اپنے والدین کی خدمت کریں اور ایسی بات زبان پر نہ لائیں جس سے والدین کا دل دکھے

ہفتہ فروری

haseen shahzadi
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک نیک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا کے ساتھ بہت نیک سلوک کرتا تھا، اس کی چار بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک شہزادی بہت حسین تھی، جس کی خوبصورتی پر باقی شہزادیاں نفرت کرتی تھیں۔ اس شہزادی کا نام شہزادی صباء تھا۔
ایک دفعہ ان کا باپ کسی کام کی غرض سے بیرون ملک گیا، اس نے اپنی ساری بیٹیوں سے ان کی خواہشات پوچھیں۔ ان تین بہنوں نے قیمتی زیورات لانے کو کہا جب بادشاہ نے چوتھی بیٹی سے پوچھا کہ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دو۔
شہزادی صباء نے کہا مجھے ایک گلاب کا پھول چاہئے ان کا باپ کوئی نہ کوئی بات بھول جاتا تھا اس لئے صرف شہزادی صباء کے لئے پھول لے آیا، باقی چیزیں وہ بھول چکا تھا۔ جب وہ گھر آیا تو شہزادیاں دروازے پر کھڑی اپنے باپ کا انتظار کر رہی تھیں، جب ان کا باپ آیا تو صرف ایک پھول کے علاوہ اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔

(جاری ہے)

شہزادیوں نے اپنے باپ کو برا بھلا کہہ کر باپ کی نافرمانی کی۔ شہزادی صباء کمرے میں جا کر رونے لگی۔ اس کا باپ کمرے میں آیا اوراس کا پھول اُسے دے دیا۔ بادشاہ نے کہا دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز والدین کی خدمت ہے۔ چنانچہ جب بادشاہ دوسری مرتبہ بیرون ملک گیا تو سب نے اپنی اپنی چیزیں لانے کے لئے کہا مگر شہزادی صباء اس پر خاموش رہی، اس نے سوچا کہ اس بار کوئی ایسی بات نہ ہو کہ جس سے میرے باپ کا دل دکھے تو بادشاہ نے اپنی بیٹیوں کے لئے زیورات لئے۔
راستے میں ایک جنگل تھا، بادشاہ اس جنگل میں سے گزر رہا تھا تو اس نے درخت پر بیٹھے ایک چمگادڑ کو دیکھا۔ وہ چمگادڑ اصل میں ایک خوفناک جن تھا۔ اس نے بادشاہ کو قید کر لیا۔ ایک شہزادہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، اس نے اپنی تیز دھار تلوار نکالی اور چمگادڑ کی گردن پر دے ماری، چمگادڑ اسی وقت مر گیا۔
شہزادہ ، بادشاہ کو محل لے گیا اور ان کی بیٹیوں کو سارا ماجرہ سنا دیا۔ شہزادیاں اپنے باپ کے پاس آئیں اور اپنے باپ سے نافرمانی پر معافی مانگی۔ بادشاہ نے اس وقت اپنی ساری بیٹیوں میں سے صباء پر فخرمحسوس کیا اور اپنی ساری بیٹیوں کو گلے لگا لیا، سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ دیکھا بچو!! مل جل کر رہنے سے برکت ہوتی ہے ہمیں بھی چاہئے کہ شہزادی صباء کی طرح اپنے والدین کی خدمت کریں اور ایسی بات زبان پر نہ لائیں جس سے والدین کا دل دکھے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

علم کی طاقت

Ilm Ki Taqat

Tohfa

تحفہ

Tohfa

Banu Or Ranu

بانو اور رانو

Banu Or Ranu

Jadu Ki Geend

جادو کی گیند۔ تحریر: مختار احمد

Jadu Ki Geend

Pari Ka Tufa

پری کا تحفہ

Pari Ka Tufa

Teesra Kamra

تیسرا کمرہ ۔ تحریر: مختار احمد

Teesra Kamra

Baap Ka Wada

باپ کا وعدہ

Baap Ka Wada

Qeemti Motti Ki Talash

قیمتی موتی کی تلاش

Qeemti Motti Ki Talash

Malomat

معلومات

Malomat

Hame Inaam Nahi Chahiye

ہمیں انعام نہیں چاہیے۔۔تحریر:مختار احمد

Hame Inaam Nahi Chahiye

Nidamat

ندامت

Nidamat

Sultan Ka Adal

سلطان کا عدل

Sultan Ka Adal

Your Thoughts and Comments