himmat wala

Himmat Wala

ہمت والا

شام کا وقت تھا۔پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے ۔بچے بھی کھیل کود کر اپنے گھروں کی طرف جارہے تھے کہ اچانک گاؤں میں کہرام مچ گیا ۔

حسنات احمد چوہان
شام کا وقت تھا۔پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے ۔بچے بھی کھیل کود کر اپنے گھروں کی طرف جارہے تھے کہ اچانک گاؤں میں کہرام مچ گیا ۔ہرطرف چیخ وپکار گونجنے لگی،کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے ۔

جس طرف شورتھا ،بس ہر کسی نے اس طرف دوڑ لگا دی ۔بچے ،نوجوان سے دوڑتے ہوئے آواز کی سمت بھاگ رہے تھے۔کچھ دور جا کرلوگوں نے دیکھا کہ ایک مکان سے آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں ۔یہ خوف ناک منظر دیکھ کر لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ۔

آخر وہ گھنٹے کے بعد وہ خطر ناک قسم کی آگ خودبخود بجھ گئی۔اب اندھیرا بھی کافی چھا چکا تھا اور وہ مکان بہت بھیا نک منظر پیش کررہا تھا۔
جس مکان میں آگ بھڑک اُٹھی تھی،وہ کافی پرانا مکان تھا۔

(جاری ہے)

اس کی دیواریں بھی آہستہ آہستہ جھڑتی جارہی تھیں ۔

اس مکان میں کوئی رہتا بھی نہیں تھا۔
پہلے یہاں ایک ہندوخاندان آباد تھا۔ان کے جانے کے بعد وہ مکان برسوں تک خالی رہا ،پھر ایک سرکاری افسر نے اس مکان کی مرمت کرائی اور آباد ہو گئے ۔وہ یہاں ایک سال بھی نہیں رہے تھے کہ دوسری جگہ منتقل ہو گئے ،کیوں کہ اس گھر میں آئے روز عجیب اور خطر ناک واقعات ہونے لگے تھے،جس سے تنگ آکر انھیں مکان یہ چھوڑ نا پڑا۔

اب اس مکان میں پرندوں کی آواز کے علاوہ کوئی چیز سنائی نہیں دیتی اور نہ کوئی اس مکان کی جانب جاتا تھا۔
اس روز پتا نہیں کیا ہوا کہ اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور اس دن کے بعد ایسے واقعات اس جگہ کا معمول بن چکے ہیں ۔کبھی خوف ناک آوازیں سنائی دیتی ہیں تو کبھی کسی بھیانک شکل والے آدمی کو اس گھر میں داخل ہوتے دیکھا جانے لگا۔

ذیشان کا دین دار گھر انہ بھی اسی گاؤں میں تھا۔وہ اٹھارہ سال کا خوش شکل ،خوب صورت اور نڈرلڑکا تھا۔وہ بھی اپنے بزرگوں کی طرح حافظ قرآن اور وظائف کا عامل تھا۔
جب سے ذیشان نے اس مکان میں ایسے واقعات کی خبریں سنیں تو اسے اس کے اندر جانے اور پوری تفصیلات حاصل کرنے کا جنون سوار ہو گیا۔

ایک دن ذیشان معمول سے پہلے اُٹھا اور نماز ادا کرکے ناشتا کیے بغیر ہی اس خوف ناک مکان کی جانب چل پڑا۔اس کے ذہن میں عجیب وغریب خیالات آرہے تھے ،لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور چلتا رہا۔جب وہ مکان کے دروازے تک پہنچا تو اسے اندر سے ایک آواز سنائی دی:”رک جا،نادان لڑکے ! ورنہ تیرا حشر بُرا ہو گا۔

پہلے ذیشان نے اسے اپنا وہم سمجھا ،لیکن جب دوسری بار آواز آئی تو ذیشان سمجھ گیا کہ واقعی اس گھر میں جنات ہیں ۔
”میں تم سے ڈرنے والا نہیں ،میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں ،جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور جو ہمیشہ رہنے والا ہے ۔
“ذیشان یہ کہتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔
مکان میں مکمل طور پر خاموشی چھا چکی تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ بھی بند ہو گئی تھی۔خاموشی اتنی تھی کہ ذیشان اپنے دل کی دھڑکن بھی سن سکتا تھا۔
پیچھے سے کسی چیز کے گرنے کی آواز سے ذیشان چونکا اور پیچھے دیکھنے پر مجبور ہو گیا،لیکن وہاں کسی چیز کا نام نشان تک نہیں تھا۔
ذیشان چوکنا ہو کر ایک کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔چلتے چلتے اسے اچانک خیال آیا کہ کچھ دن پہلے تو اس گھر میں آگ لگی تھی ،لیکن اب تو راکھ تک نظر نہیں آرہی۔ذیشان ابھی اسی سوچ میں ہی ڈوبا ہوا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اس کی گردن پر ہاتھ سے زور دار ضرب لگائی اور سختی سے پکڑ لیا۔
وہ اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس کرنے لگا۔گلے پر دباؤ کی وجہ سے اس کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔ذیشان نے گھومتے ہوئے بڑی مشکل سے اپنی گردن آزاد کرائی اور نیچے بیٹھ کرکھانسنے لگا ،لیکن چند لمحوں بعد ہی اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔
حیرت کی بات یہ بھی کہ وہاں کوئی سایہ بھی نظر نہیں آیا تھا ،صرف غیبی حملہ ہواتھا۔
”ہمت ہے تو سامنے آؤ ،چھپ کر کیوں وار کرتے ہو؟“ذیشان نے بڑی مشکل سے آواز نکالی ،کیوں کہ وہ بھوکے پیٹ ہی یہاں چلا آیا تھا۔
ذیشان کے کہتے ہی اس گھر میں قہقہے گونجنے لگے اور آواز آئی:”نادان لڑکے ! اب بھی وقت ہے واپس چلا جا ،ورنہ اپنے انجام کا خود ذمے دار ہو گا۔

”نہیں ،آج میں تمھیں ختم کرکے ہی جاؤں گا،آئے دن گاؤں میں تماشا بنا یا ہوا ہے او ر سب گاؤں والوں کو تنگ کیا ہوا ہے ۔“ذیشان نے گرج دار آواز میں کہا اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے پورا گھر ہل رہا ہو۔
ذیشان نے بڑی مشکل سے خود کرگرنے سے بچایا اور کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔
”نادان لڑکے! کمرے کی طرف مت جانا ،ورنہ تیرا حشر بہت بھیا نک ہو گا۔“آواز کو سن کر ذیشان اور بھی تیزی سے کمرے کی جانب لپکا ،لیکن ٹھوکر لگنے سے درمیان میں گر گیا۔
”شیطانو! ہمت ہے تو سامنے آؤ ۔“ذیشان نے یہ کہہ کر دل میں کوئی وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا اور کچھ دیر بعد دیوار سے ایک چمگا دڑ نمودار ہوئی جو ذیشان پر جھپٹی۔
ذیشان کا وظیفہ بھی مکمل ہو چکا تھا ،اس لیے اس کے پھونک مارنے کی دیر تھی کہ چمگادڑ دیوار سے ٹکرا کر تڑپنے لگی اور کچھ دیر بعد غائب ہو گئی ۔
ذیشان کی ہمت بندھی اور پھر سے کمرے کی طرف چلنے لگا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی ذیشا ن کی نظر ایک مورتی پرپڑی جو لال آنکھوں والی بڑی بھیانک مورتی تھی۔
ذیشان نے اس مورتی کو ہاتھ لگانا چاہا لیکن اس نے ہاتھ جیسے ہی قریب کیا تو اسے ٹانگ میں شدید درد کا احساس ہوا اور اس کے منھ سے زور دار چیخ نکلی،جس سے پورا گھر لرزاُٹھا۔
ذیشان کے حواس بحال ہوئے تو اس نے دیکھا کہ مورتی کو ایک بھیا نک اور زہریلے سانپ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اوروہ سانپ پوری طرح اس مورتی سے جکڑا ہوا ہے ۔

ذیشان نے کچھ پڑھنا شروع کیا تو سانپ مورتی کو آزاد کرتے ہوئے ذیشان کی طرف بڑھنے لگا۔ سا نپ کے قریب آتے ہی ذیشان نے پھونک ماری اور سانپ دوٹکڑوں میں تقسیم ہو کر غائب ہو گیا۔ اب ذیشان مورتی کی طرف بڑھا اور اسے سر سے بھی اوپر اُٹھا کرزور سے نیچے پھینکا۔
مورتی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔مورتی کے ٹوٹتے ہی گھر میں زور دار دھما کاہوا اور کئی بھیا نک چیخوں کے ساتھ ہی پورا گھر بھی غائب ہو گیا۔چیخیں ختم ہونے کے بعد جب ذیشان نے آنکھیں کھولیں تو وہ یہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا کہ وہ کمرے کے بجائے خالی میدان میں کھڑا تھا اور گھر کاکوئی نام ونشان بھی نہیں تھا ۔
ایسے لگ رہا تھا ،جیسے یہ میدان ایسے پڑا ہے اور وہاں کبھی گھر تھا ہی نہیں ۔
اس وقت دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے اور ذیشان کو بھوک بھی ستار ہی تھی،اس لیے اس نے گھر کا راستہ لیا اور کھانا کھا کر آرام سے سو گیا۔
شام کو جب سو کر اُٹھا تو اس نے لوگوں سے یہ بات سنی کہ واقعی مکان کسی غیبی طاقتوں کا گڑھ تھا جو اب غائب ہو گیا۔
لوگ دور کھڑے ہو کر اس مکان والی جگہ کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف باتیں کر رہے تھے۔ ان لوگوں میں ذیشان بھی شامل ہو گیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی کہ یہ سب ذیشان کا کارنامہ ہے ۔ذیشان لوگوں کو باتیں سن کر مسکرارہاتھا ۔اس گاؤں کا چھپار ستم آج تک نامعلوم ہے ۔

Your Thoughts and Comments