Honehar Musawir - Article No. 2436

Honehar Musawir

ہونہار مصور - تحریر نمبر 2436

”بابا!ہمارے اسکول میں مصوری کا ایک انعامی مقابلہ منعقد ہو رہا ہے۔اول انعام دس ہزار،دوم پانچ ہزار اور تیسرا انعام ڈھائی ہزار روپے کا ہے۔میں خوب مشق کرنا چاہتا ہوں،ہو سکتا ہے میری بنائی ہوئی تصویر کو اول انعام مل جائے۔“

ہفتہ 14 جنوری 2023

جمال رومی
احمد ایک غریب،لیکن شریف آدمی تھا۔وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا۔وہ جوتے بنانے کے ایک کارخانے میں کئی سال سے ملازم تھا۔احمد محنتی بھی تھا اور ایمان دار بھی۔وہ اپنی کمائی کو احتیاط سے خرچ کرتا۔اس کی بیوی بھی کفایت شعار عورت تھی۔وہ احمد کی تنخواہ سے ہر ماہ کچھ رقم بچا لیتی۔
احمد اپنی سادہ،مگر پُرسکون زندگی سے بہت مطمئن تھا۔
احمد کا اکلوتا ہونہار بیٹا اسد ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔وہ ایسی خوب صورت تصویریں بناتا تھا کہ سب دیکھتے رہ جاتے۔ایک دن اس نے بابا سے سائیکل کی فرمائش کر دی:”میرے بہت سے دوستوں کے پاس بھی سائیکلیں ہیں۔بابا!مجھے بھی سائیکل دلا دیجیے۔“
”ٹھیک ہے!“ احمد نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا:”اگلے ماہ کی پانچ تاریخ تک انتظار کر لو۔

(جاری ہے)

“اسد خوشی سے پھولے نہ سمایا۔
آج احمد کو تنخواہ ملی تھی۔اس نے تنخواہ کا لفافہ جیب میں رکھا اور کارخانے سے خوشی خوشی باہر نکل آیا۔بس اسٹاپ کارخانے سے پانچ منٹ کی دوری پر تھا۔احمد کا ارادہ یہاں سے سپر مارکیٹ جا کر سائیکل خریدنے کا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ نئی سائیکل کو دیکھ کر اسد کتنا خوش ہو گا۔ابھی وہ بس اسٹاپ سے کچھ دور تھا کہ ایک موٹر سائیکل اس کے قریب رکی۔
موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہنے دو آدمی سوار تھے۔ان میں سے ایک آدمی نے احمد کو پستول دکھا کر اس کی جیبیں خالی کروا لیں۔احمد کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔تنخواہ کے ساتھ ساتھ اور ٹائم کی رقم بھی ہاتھ سے نکل گئی تھی۔
احمد جب گھر میں داخل ہوا تو اسد کو اپنا منتظر پایا۔اس کے چہرے پر رونق سی آ گئی۔
”بابا!میری سائیکل؟“اسد نے شکایتی انداز میں پوچھا۔

احمد اپنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ پیدا کرکے بولا:”ارے․․․․آج سیٹھ صاحب ہی نہیں آئے،اس لئے آج تنخواہ ہی نہیں مل سکی۔“
اسد کے سونے کے بعد احمد نے بیوی کو آج رونما ہونے والے حادثے کی روداد سنائی۔بیوی نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا۔نہ خود پریشان ہوئی نہ احمد کو مزید پریشان ہونے دیا۔وہ بولی:”آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔میں نے کچھ بچت کر رکھی ہے۔
گھر کا خرچ تو چل جائے گا،لیکن سائیکل کے لئے پیسے نہیں بچیں گے۔“
دوسرے دن احمد گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اسد صحن میں بچھے تخت پر بیٹھا ڈرائنگ بنانے میں مصروف ہے۔اسد نے بابا کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو اُٹھ کر بڑے ادب سے سلام کیا۔احمد کو اس بات پر بھی حیرت تھی کہ آج اسد نے سائیکل کے بارے میں نہیں پوچھا۔ماں بھی حیران تھی۔

اسد نے کہا:”بابا!ہمارے اسکول میں مصوری کا ایک انعامی مقابلہ منعقد ہو رہا ہے۔اول انعام دس ہزار،دوم پانچ ہزار اور تیسرا انعام ڈھائی ہزار روپے کا ہے۔میں خوب مشق کرنا چاہتا ہوں،ہو سکتا ہے میری بنائی ہوئی تصویر کو اول انعام مل جائے۔“
احمد نے بیٹے کی حوصلہ افزائی کی:”کیوں نہیں،تم نے محنت کی تو ضرور کامیاب ہو گے۔“
اسد نے مزید کہا:”آپ ابھی سائیکل نہیں خریدیے گا،پہلے میں اس مقابلے سے فارغ ہو جاؤں،پھر آپ مجھے سائیکل دلا دیجیے گا۔

احمد سوچنے لگا کہ چلو اچھا ہے،سائیکل خریدنے کے لئے مزید وقت مل گیا۔
ایک ہفتہ گزر گیا اور آج اسکول میں مصوری کے مقابلے کا دن تھا۔اسکول کے میدان میں مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔اسد کو پورا یقین تھا کہ وہ ضرور جیتے گا۔
اسد نے اپنی تصویر میں اُفق پر جہاں سمندر اور آسمان ملتے نظر آتے ہیں،ایک ڈوبتے سورج کی منظر کشی کی تھی،جس میں بحری جہاز اور پرندے بھی شامل تھے۔
اسد نے بڑی مہارت سے رنگوں کا استعمال کیا،جس سے اس کی تصویر کافی پُرکشش ہو گئی تھی۔اسد نے مقررہ وقت سے پہلے ہی اپنی تصویر مکمل کر لی۔مقابلے کے بعد جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا:”پہلے انعام کا حق دار آٹھویں جماعت کے نعمان احمد کو قرار دیا گیا۔“
اسد کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔وہ سر جھکائے بیٹھا رہا۔اب دوم انعام جیتنے والے مصور کا نام پکارا جا رہا تھا:”اس مقابلے میں دوسرے انعام کے حق دار قرار پائے ہیں ساتویں جماعت کے اسد احمد۔

اسد کا چہرہ کھل اُٹھا۔اس کی مایوسی یکا یک خوشی میں تبدیل ہو گئی۔احمد کو ایک خوبصورت یادگاری شیلڈ اور پانچ ہزار روپے بطور انعامی رقم دی گئی۔
اسد نے بڑی بے صبری سے شام تک بابا کے آنے کا انتظار کیا۔امی کو بھی نہیں بتایا۔بابا کے آنے کے بعد اس نے کہا:”بابا اور امی!میرے پاس آپ دونوں کے لئے ایک خوشخبری ہے۔آپ دونوں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

امی اور بابا نے آنکھیں بند کر لیں۔اسد نے اپنی پتلون کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور دونوں کے درمیان رکھتے ہوئے بولا:”اب آپ لوگ آنکھیں کھول سکتے ہیں۔“
”یہ کیا ہے؟“دونوں نے حیرت سے پوچھا۔
”کھول کر دیکھیں!“ اسد نے جواب دیا۔احمد نے لفافہ کھولا تو اس میں ہزار روپے والے پانچ نوٹ نکلے۔
”اتنی رقم تمہارے پاس کہاں سے آئی؟“احمد نے حیرت سے پوچھا۔

”میری بنائی ہوئی مصوری کو دوسرا انعام ملا ہے۔“اسد نے فخر سے کہا:”بابا کو اب پیسوں کے لئے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں،آپ ان پیسوں کو گھر کے اخراجات کے لئے استعمال کریں،مجھے سائیکل لینے کی اتنی جلدی نہیں ہے،وہ آپ مجھے اگلے ماہ بھی دلا سکتے ہیں۔“
”لیکن تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ بابا پیسوں کے لئے پریشان ہیں؟“سائرہ نے پوچھا۔
”میں اُس روز سویا نہیں تھا امی!میں نے بابا اور آپ کی ساری باتیں سن لی تھیں،اگلے روز جب اسکول میں مقابلے کا اعلان کیا گیا تو میں نے فوراً حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔“
انھیں اسد پر فخر ہونے لگا۔احمد اور سائرہ نے آگے بڑھ کر اسد کو گلے لگا لیا۔

Browse More Moral Stories