Hoshayar Billi Aur Dushman Ki Misaal

Hoshayar Billi Aur Dushman Ki Misaal

ہوشیار بلی اور دشمن کی مثال

ایک چڑا درخت پر گھونسلا بنا کر مزے سے رہتا تھا۔ ایک دن وہ دانا پانی کے چکر میں اچھی فصل والے کھیت میں پہنچ گیا۔ وہاں کھانے پینے کی موج سے بڑا ہی خوش ہوا۔

ایک چڑا درخت پر گھونسلا بنا کر مزے سے رہتا تھا۔ ایک دن وہ دانا پانی کے چکر میں اچھی فصل والے کھیت میں پہنچ گیا۔ وہاں کھانے پینے کی موج سے بڑا ہی خوش ہوا۔ اس خوشی میں رات کو وہ گھر آنا بھی بھول گیا اور اس دن مزے میں وہی گزرنے لگے۔
ادھر شام کو ایک خرگوش اس درخت کے پاس آیا جہاں چڑے کا گھونسلا تھا۔ درخت ذرا بھی اونچا نہیں تھا۔ اس لئے خرگوش نے اس گھوسلے میں جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ گھونسلا خالی پڑا ہے۔ گھونسلا اچھا خاصا بڑا تھا اتنا کہ وہ اس میں خرگوش آرام سے رہ سکتا تھا۔
اسے یہ بنا بنایا گھونسلا پسند آ گیا اور اس نے یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا ۔ کچھ دنوں بعد وہ چڑا کھا کھا کر موٹا تازہ بن کر اپنے گھوسلے کی یاد آنے پر واپس لوٹا۔ اس نے دیکھا کہ گھوسلے میں خرگوش آرام سے بیٹھا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اسے بڑا غصہ آیا، اس نے خرگوش سے کہا، "چور کہیں کا، میں نہیں تھا تو میرے گھر میں گھس گئے ہو؟ چلو نکلو میرے گھر سے ذرا بھی شرم نہیں آئی میرے گھر میں رہتے ہوئے؟" خرگوش امن سے جواب دینے لگا ، "کہاں کا تمہارا گھر؟ کون سا تمہارا گھر؟ یہ تو میرا گھر ہے۔

پاگل ہو گئے ہو تم۔ ارے! کنواں، تالاب یا درخت ایک بار چھوڑ کر کوئی جاتا ہے تو اپنا حق بھی گوا دیتا ہیں۔ یہاں تو جب تک ہم ہیں، وہ اپنا گھر ہے۔
بعد میں تو اس میں کوئی بھی رہ سکتا ہے۔ اب یہ گھر میرا ہے۔ بیکار میں مجھے تنگ مت کرو۔
" یہ بات سن کر چڑا کہنے لگا، "ایسے بحث کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ کسی ثالث کے پاس چلتے ہیں۔ وہ جس کے حق میں فیصلہ سنائے گا اسے گھر مل جائے گا۔ اس درخت کے پاس سے ایک دریا بہتا تھا۔ وہاں پر ایک بڑی سی بلی بیٹھی تھی۔
ویسے تو یہ بلی ان دونوں کی پیدائشی دشمن ہے لیکن وہاں اور کوئی بھی نہیں تھا اس لئے ان د ونوں نے اس کے پاس جانا اور اس سے انصاف لینا ہی مناسب سمجھا۔ احتیاط برتتے ہوئے بلی کے پاس جا کر انھوں نے اپنے مسائل بتائے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی الجھن تو بتا دی، اب اس کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب آپ سے سننا چاہتے ہیں۔
جو بھی صحیح ہوگا اسے وہ گھونسلا مل جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا اسے آپ کھا لیں۔ " "ارے ارے!! یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو، تشدد جیسا گناہ نہیں اس دنیا میں۔ دوسروں کو مارنے والا خود جہنم میں جاتا ہے۔ میں تمہیں انصاف دینے میں تو مدد کروں گی لیکن جھوٹے کو کھانے کی بات ہے تو وہ مجھ سے نہیں ہو پائے گا۔

میں ایک بات آپ لوگوں کو کانوں میں کہنا چاہتی ہوں، ذرا میرے قریب آوٴ تو!! " خرگوش اور چڑا خوش ہو گئے کہ اب فیصلہ ہو کر رہے گا۔ اور اس کے بالکل قریب گئے۔ پھر کیا؟ قریب آئے خرگوش کو پنجے میں پکڑ کر منہ سے چڑے کو نوچ لیا۔ دونوں کا کام تمام کر دیا۔ اپنے دشمن کو پہچانتے ہوئے بھی اس پر یقین کرنے سے خرگوش اور چڑے کو اپنی جانیں گنوانی پڑیں۔ سچ ہے، دشمن سے سنبھل کر اور ہو سکے تو چار ہاتھ دور ہی رہنے میں بھلائی ہوتی ہے۔

Your Thoughts and Comments