Hoshiyar Badshah

’’ہوشیار بادشاہ‘‘

بہت مدت پہلے دور دراز کے ایک ملک میں یہ قانون تھاکہ اس ملک کے لوگ ہرسال اپنا بادشاہ تبدیل کرتے تھے جو بھی بادشاہ بنتا وہ ایک عہد نامے پر دستخط کرتا کہ

ہفتہ اگست

hoshiyar badshah

مومنہ ستار
بہت مدت پہلے دور دراز کے ایک ملک میں یہ قانون تھاکہ اس ملک کے لوگ ہرسال اپنا بادشاہ تبدیل کرتے تھے جو بھی بادشاہ بنتا وہ ایک عہد نامے پر دستخط کرتا کہ اس کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد وہ اس عہدے سے دست بردار ہو جائے گا اور اسے ایک دور دراز جزیرے پر چھوڑ دیا جائے گا جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آسکے گا۔


جب بادشاہ کا ایک سالہ دور حکومت مکمل ہو جاتا تو اسے ایک مخصوص جزیرے پر چھوڑ دیا جاتا جہاں وہ اپنی بقیہ زندگی گزارتا۔ اس موقع پر اس بادشاہ کو بہترین لباس پہنایا جاتا اور پورے ملک کا الوداعی سفر کروایا جاتا جہاں وہ سب لوگوں کو آخری بار خیرآباد کہتا۔
وہ بہت ہی افسوس ناک لمحات ہوتے پھر وہاں کے لوگ بادشاہ کو جزیرے پر ہمیشہ کے لیے چھوڑ آتے۔

(جاری ہے)


ایک مرتبہ لوگ اپنے پرانے بادشاہ کو جزیرے پر چھوڑ کر واپس آ رہے تھے کہ انہوں نے ایک ایسا سمندری جہاز دیکھا جو کچھ دیر پہلے ہی تباہ ہوا تھا اور ایک نوجوان شخص نے خود کو بچانے کے لیے لکڑی کے ایک تختے کا سہارا لے رکھا تھا چونکہ ان لوگوں کو ایک نئے بادشاہ کی تلاش تھی لہٰذا وہ لوگ اس نوجوان شخص کو اپنے ملک لے آئے اوراس سے ایک سال حکومت کرنے کی درخواست کی۔

پہلے تو وہ نوجوان نہ مانا لوگوں کے اصرار کرنے پر وہ ایک سال کے لیے بادشاہ بننے پر رضامند ہوگیا۔ وہاں کے لوگوں نے اُسے بادشاہت کے تمام اصول سمجھا دیے اور یہ بھی بتایا کہ ایک سال کے بعد وہ اسے ایک مخصوص جزیرے پر چھوڑ آئیں گئے۔
بادشاہت کے تیسرے دن ہی اس نوجوان بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا:’’ مجھے وہ جگہ دکھائی جائے جہاں گزشتہ تمام بادشاہوں کو بھیجا گیا ‘‘ بادشادہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے وہ جزیرہ دکھانے کا اہتمام کیا گیا۔ جزیرہ مکمل طور پر ایک جنگل تھا اور جنگلی جانوروں سے بھرا ہواتھا۔
بادشاہ جائزہ لینے کے لیے تھوڑا سا اندر گیا اور وہاں پچھلے تمام بادشاہوں کے ڈھانچے پڑے نظر آئے۔ وہ سمجھ گیا بہت جلد اس کا بھی یہی حال ہوگا اور جنگلی جانور اس کو چیڑ پھاڑ کر کھا جائیں گئے۔ ملک واپس پہنچ کر بادشاہ نے مزدورں کو اکٹھا کیا۔
ان سب کو جزیرے پر لے گیا اور حکم دیا کہ اس جنگل کو ایک ماہ میں مکمل طور پر صاف کردیا جائے تمام خطرناک جانوروںکو مار دیا جائے اور سب فالتو درخت کاٹ دئیے جائیں۔ وہ ہر ماہ خود جزیرے کا دورہ کرتا اور کام کی نگرانی بھی کرتا۔
تمام خطرناک جانوروں کو مار دیا گیا اور سب فالتو درختوں کو بھی کاٹ دیا۔ اب بادشاہ نے مزدورں کو حکم دیا کہ جزیرے پر مختلف مقامات پر خوبصورت باغات تعمیر کیے جائیں۔ وہ اپنے ساتھ مختلف پالتو جانور بھی جزیرے پر منتقل کرتا گیا۔
اس کے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ اس جزیرے پر ایک شاندار گھر تعمیر کریں۔ گزرتے مہینوں کے ساتھ ساتھ وہ جزیرہ ایک خوبصورت شہر میں بدلتا جا رہا تھا۔ وہ نوجوان بادشاہ بہت سادہ لباس پہنتا اور اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتا۔ بالآخر بادشاہت کا ایک سال مکمل ہوگیا۔
حسب روایت وہاں کے لوگوں نے اپنے بادشاہ کو شاندار لباس پہنایا اور ہاتھی پر بٹھایا تاکہ رعایا کو خیرآباد کہہ سکے۔ بادشاہ اپنی الوداعی تقریب پر بہت خوش تھا۔ لوگوں نے پوچھا اس موقع پر تمام بادشاہ روتے تھے لیکن آپ ہنس رہے ہیں۔
آپ کے اس قدر خوش ہونے کی کیا وجہ ہیٖ؟‘‘ اس نوجوان بادشاہ نے جواب دیا ’’جس وقت تمام بادشاہ محل کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے تھے میں اس وقت اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا تھا اور اس کے لئے لائحہ عمل تیار کرتا تھا۔ میں نے اب اس جزیرے کو ایک ایسی خوبصورت قیام گاہ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں اب میں اپنی باقی زندگی نہایت آرام و سکون سے گزار سکوں گا۔

Your Thoughts and Comments