ijazat

Ijazat

اجازت۔۔تحریر:طیبہ ثناء

اجازت لینا ضروری نہیں سمجھا ابو کی کڑک دار آواز نے مزید سہما دیا۔ بدن پر ہلکا ہلکا رعشہ طاری ہونے لگا۔ کچھ نے نگاہیں جھکا کر اقرار جرم کیا اور کچھ نے سادہ سے لب و لہجے میں حرف مدعا پیش کرنے کی سعی کی

اے رکو۔۔۔ کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟ وہ گھر سے نکلے ہی تھے کہ گرجدار آواز نے انہیں روک لیا۔ ہوں تو چپکے چپکے آوارہ گردی کے لئے نکلا جا رہا ہے ابو کی کرخت آواز نے ہمیں آگے بڑھنے سے قطعی انکار کر دیا۔ ہم ٹھٹھک کر رک گئے اور ساتھ ہی حواس باختہ بھی ہو گئے۔
ہم سٹپٹا گئے۔ ابو نے پھر پوچھا۔۔۔ ہاں ! تو کہاں جایا جا رہا ہے۔ رمشہ ، عمیر ، زبیر اور زمل نے آنکھوں ہی آنکھوں میں جھوٹ بولنے کا عندیہ دیا۔ ابو ہم پکنک منانے جارہے ہیں ( وگرنہ پلاننگ تو رات بھر کی تھی موج مستی کرنے کی )۔ اجازت لینا ضروری نہیں سمجھا ابو کی کڑک دار آواز نے مزید سہما دیا۔
بدن پر ہلکا ہلکا رعشہ طاری ہونے لگا۔ کچھ نے نگاہیں جھکا کر اقرار جرم کیا اور کچھ نے سادہ سے لب و لہجے میں حرف مدعا پیش کرنے کی سعی کی ۔

(جاری ہے)

دراصل آج چھٹی ہے اور ہم نے۔۔۔۔۔ابو نے فورا بعد کاٹی بات یہ نہیں کہ چھٹی ہے تم سب ہم سے اجازت لئے بغیر جا رہے ہوں یہ جرم ہے۔

اب سزہ تو بنتی ہے۔ سبھی نے فورا اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ جو حکم ابو آپ کا۔آپ چاہتے ہیں کہ ہم نہ جائیں تو ہم نہیں جاتے۔ شاید ابو کو بھی ان کے ہارنے کا ادراک ہو چکا تھا۔ انہوں نے بچوں کو کڑی نگاہ سے دیکھا۔ آج چھوڑ دیتا ہوں۔
۔۔جاوٴ مگر جلد آجانااندھیرا بڑھنے سے پہلے پہلے تم سب گھر میں ہو۔ جی ابو آپ کتنے اچھے ہیں۔۔سب بچے ان سے لپٹ گئے۔ دیکھا بچو ! اجازت کتنی اور کیوں ضروری ہے ؟ خدانخواستہ کوئی حادثہ یا پھر کسی قسم کی ناگہانی ہو جاتی ہے تو ۔۔۔۔۔ سمجھ گئے ناں بچو۔ بچوں نے اپنے ابو سے کہا کہ آئندہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ہم آپ کو بتا کر۔۔۔ اجازت لے کر جائیں گے۔ وہ شور مچاتے ابو کو ہاتھ ہلا کر جا چکے تھے۔

Your Thoughts and Comments