Interview

Interview

انٹرویو

وہ دھم سے آکر بس کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔اس کی سانسیں پھولی ہوئی اور جسم پسینے میں شرابور تھا۔ شاید بس کو پکڑنے کے لیے اسے کافی دور تک بھاگنا پڑا تھا۔ اس کی عمر بیس سے پچیس کے درمیان تھی۔ کچھ دیر بعد جب اس کے اوسان کچھ بحال ہوئے تو اس کے کانوں سے ایک دھیمی آواز ٹکرائی:” خیریت تو ہے بیٹا؟“

محمد طارق:
وہ دھم سے آکر بس کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔اس کی سانسیں پھولی ہوئی اور جسم پسینے میں شرابور تھا۔ شاید بس کو پکڑنے کے لیے اسے کافی دور تک بھاگنا پڑا تھا۔ اس کی عمر بیس سے پچیس کے درمیان تھی۔ کچھ دیر بعد جب اس کے اوسان کچھ بحال ہوئے تو اس کے کانوں سے ایک دھیمی آواز ٹکرائی:” خیریت تو ہے بیٹا؟“
اس نے ساتھ والی سیٹ کی جانب دیکھا تو ایک ادھیڑ عمر شخص ، جس کی گود میں بریف کیس رکھا ہوا تھا سوالیہ نظروںسے اس کی طرف دیکھ رہا تھا:” آپ بھاگتے بھاگتے بس میں سوار ہوئے ہیں۔

یقینا آپ کو جلدی میں گھر سے نکلنا پڑا ہوگا، کیوں کہ اگر کوئی طے شدہ پروگرام ہوتا تو آپ دس، پندرہ منٹ پہلے اسٹاپ پر آجاتے۔“ ان صاحب کے لہجے میں نرمی اور فکری مندی ظاہر ہو رہی تھی۔

(جاری ہے)


” بات یہ ہے کہ نوکری کے لیے آج میرا انٹرویو ہے ۔

مون اسٹار کمپنی جانا ہے جو آفتاب منزل کے اسٹاپ پر ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی جگہ قسمت آزما چکا ہوں، مگر ہمیشہ نتیجہ” ڈھاک کے تین پات“ کی طرح نکلتا ہے، مگر آج یقین ہے کہ سرخ رو ہو ہی جاو¿ں گا، کیوں کہ آج جہاں انٹرویو ہے وہاں بہت سی اسامیاں خالی ہیں۔
آخر کہیں نہ کہیں تو منتخب ہو ہی جاو¿ں گا۔“ اس نے جواب دیتے ہوئے ایک لمبی سے انگڑائی لی اور ساتھ ہی سگرٹ سلگالی۔
ساتھ والے صاحب نے خیرت سے پوچھا:” تو آپ سگرٹ بھی پیتے ہیں؟“
سگرٹ تو میں بہت شوق سے پیتا ہوں۔
“ اس نے ایک زبردست قہقہہ لگایا۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی، پھر ان صاحب نے پوچھا:” کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟“
اس نے طنزیہ بھرے لہجے میںکہا:” میرا نام کامران عرف فسادی ہے۔“
”فسادی!“ ساتھ والے صاحب نے نہ سمجھنے والے انداز میںکہا۔

” جی ہاں فسادی، یعنی دو جگری دوستوں کو آپس میں لڑانا، بھائی کو بھائی سے جدا کرنا، ایک دوسرے کے خلاف لوگوں کے کان بھرنا میرا بہترین مشغلہ ہے جس کی وجہ سے محلے بھر میں فسادی کے نا م سے مشہور ہوں۔“
”اوہ۔۔۔ یہ تو بہت بُری بات ہے بیٹا!“ ساتھ بیٹھے صاحب نے افسوس بھرے لہجے میںکہا:” اس سے تو۔
۔۔“
وہ آگے کچھ کہنا چاہتے تھے اس نے بات کاٹتے ہوئے لہجے میں ناگواری سموتے ہوئے کہا:” محترم ! تقریر مسجد میںکی جاتی ہے یا جلسے میں، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ اس وقت بس میں موجود ہیں۔“
وہ صاحب سٹپٹا کر رہ گئے، مگر تحمل سے کام لیتے ہوئے دوبارہ بولے: ” آپ اپنی تعلیم کے متعلق کچھ بتانا پسند کریں گے؟“
” ویسے تو ” ایم اے“ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ لکھنا تو دور کی بات کوئی چیز پڑھتے ہوئے بھی نانی یاد آجاتی ہے۔

” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایم اے پاس ہو کر پڑھنا تک نہ آئے؟“ ان صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
” یہ ساری نقل کی مہربانیاں ہیں جناب! آپ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ “ اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔
” اوہ واقعی۔۔۔!“ وہ صاحب بے یقینی کے عالم میں بولے۔
“ یہ سب کچھ بتانے پر بھلا آپ کو کون نوکری دے گا؟“
اس نے زور دار قہقہہ لگایا اور بولا:” میں تو اب تک آپ کو عقل مند سمجھ رہا تھا ۔ بھلا کون بے وقوف ہے جو یہ ساری باتیں انٹرویو میں بتائے گا۔ یہ باتیں تو میں نے صرف آپ کو بتائی ہیں ، ورنہ انٹرویو کے وقت میری معلومات یہ ہوں گی۔
۔۔کامران خان!انتہائی شریف اور عزت دار لڑکا، جس نے انتہائی محنت اور لگن سے ایم اے اعلیٰ نمبروںسے پاس کیا ۔ سمجھے آپ!“
” چلو ، چلو۔۔۔۔آفتاب منزل والے گیٹ پر آجاو¿۔“ کنڈیکٹر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور پلک جھپکنے سے پہلے ہی بس سے اُتر آیا۔
اس نے محسوس کیا کہ بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ میںچوہے دوڑ رہے ہیں۔ وہ فوراََ ہوٹل میں داخل ہو گیا اور خوب کھا پی کر مون اسٹار کمپنی کی طرف چل دیا، جو چند قدم کے فاصلے پر ہی تھی۔ وہاں پہنچ کر وہ ٹھٹک کر رہ گیا، کیوں کہ ایک ہجوم تھا جس میں کم از کم سو، سوا سو آدمی موجود تھے، چپ چاپ وہ بھی ان میں شامل ہو گیا۔
آخر تین گھنٹے بعد اس کا نمبر آہی گیا۔ وہ آگے بڑھا اور ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوا تو چونک اُٹھا۔ اچانک اس کے کانوں سے ایک زور دار آواز ٹکرائی۔” آپ کا انٹرویو ہو چکا ہے، آپ جا سکتے ہیں۔“
اس نے جو سر اٹھاکر دیکھا تو دھک سے رہ گیا، کیوں کہ انٹرویو لینے والے وہی صاحب تھے ، جو بس میں اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ وہ شرم کے مارے پانی پانی ہو گیا اور بے جان قدموں سے کمرے سے نکل آیا۔

Your Thoughts and Comments