Jab Main Nannha Sa Tha

Jab Main Nannha Sa Tha

جب ننھا سا تھا

بالکل پھول پڑھنے والے ننھوں کی طرح اُ سی زمانے کاذکر ہے۔ کہ ایک مرتبہ میری امی جان نے مجھ کو ایک مرغے کی کہانی سنائی تھی۔

شوکت تھانوی:
بالکل پھول پڑھنے والے ننھوں کی طرح اُ سی زمانے کاذکر ہے۔ کہ ایک مرتبہ میری امی جان نے مجھ کو ایک مرغے کی کہانی سنائی تھی۔ وہ مرغا ایک بادشاہ کا تھا بادشاہ اُس کو باسی روٹی کے ٹکڑے توڑتوڑ کر نہیں کھلاتا تھا۔
یہ چیزیں تو غریب آدمی اپنے مرغوں کو دیا کرتے ہیں۔ بادشاہ اپنے اس مرغے کو انار کے دانے کھلایا کرتا تھا۔ اور کبھی کبھی موتی بھی اس کے سامنے ڈالے جاتے تھے کہ وہ ان کو چُگ لے۔
اس مرغے کو حلوہ سوہن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر کھلائے جاتے تھے۔
اور اس کے لئے طرح طرح کی مٹھائیاں بنائی جاتی تھیں۔ شکر پارے اور بوندیاں۔
اس کہانی کو سن کر میرا کئی مرتبہ یہ جی چاہا کہ میں مرغان جاوں اور کوئی بادشاہ مجھ کوپال لے مگر میں نے یہ سن رکھا تھا کہ بادشاہ مرغ کھانے کے بھی بڑے شوقین ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

اگر میں مرغابن بھی گیا۔ اور بادشاہ نے مجھ کو نہ پالا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کھالیا جاؤں بھون بھون کر۔
دوتین دن تک میں اسی بات پرسوچتا رہا۔ کہ مرغابن جانے میں فائدہ ہے یا نقصان۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک مرغے کو بوانصیبن کی بلی نے دبوچ لیا۔
میں نے اُس دن سے توبہ کرلی۔ کہ اب میں کبھی مرغا بننا نہ چاہوں گا۔
مگر اس توبہ کے بعد ہی میں ایک دم مرغا بن گیا۔ آپ اسے جھوٹ نہ سمجھے میں جھوٹ نہیں بولتا۔ میں سچ مچ مرغابن گیا تھا۔
سن تو لیجئے کہ میں کیسے مرغا بنا۔

میں نے دیکھا کہ میری بڑی نے بہن سرخ سرخ دہکتا ہوا قندھاری انارخریدا۔ میں اپنے پیسوں کی ٹافی خرید کرپہلے ہی چٹ کرچکا تھا۔ اب میں انار کیسے کھاتا؟ میری سمجھ میں ایک ترکیب آگئی ۔ میں اپنی بہن سے کہا۔باجی آج تو تم بادشاہ نظر آرہی ہو۔

باجی نے کہا۔ بادشاہ! وہ کیسے؟ میں نے کہا۔ انار ہے ناتمہارے ہاتھ میں۔ جو بادشاہ اپنے مرغوں کو کھلاتے ہیں۔
باجی نے ہنس کرکہا۔ اچھا وہ کہانی والی بات۔ مگر میرے پاس تو صرف انار ہے، مرغا کہاں ہے ؟
میں نے کہا۔ دیکھو باجی تم بادشاہ ویسے ہی میں مرغا، تم انار ڈالو میں مرغے کی طرح اس کو چگوں ۔

یہ کہہ کر میں نے ہاتھ سے چونچ بند کی اور اپنے منہ کے سامنے وہ ہاتھ لگالیا۔ اور کہنیوں اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
باجی نے انار کے دانے فرش پر ڈالنا شروع کردئیے اور میں اپنے ہاتھ کی چونچ سے وہ دانے کھاتا رہا۔ تھوڑی ہی دیر میں سارا انار میں کھا چکا تھا۔ اورا ب جو باجی نے دیکھا ۔ تو نہ وہ بادشاہ تھیں نہ میں مرغا تھا۔ البتہ انارکاخالی چھلکا اُن کے ہاتھ میں تھا۔

Your Thoughts and Comments