Jaddu Ka Button

جادُو کا بٹن

تزئین ایک دن اپنی امی کے سوئی دھاگے بٹنو ں والے ڈبے سے کھیل رہی تھی ۔کھیلتے کھیلتے ہی وہ بٹنوں سے

جمعہ دسمبر

jaddu ka button

احمد عدنان طارق
تزئین ایک دن اپنی امی کے سوئی دھاگے بٹنو ں والے ڈبے سے کھیل رہی تھی ۔کھیلتے کھیلتے ہی وہ بٹنوں سے اپنے ذہن میں ایک کہانی بنا چکی تھی جس میں خصوصی طور پر اُس کا لے بٹن کا ذکر تھا جو اُس نے دادی اماں کے کالے لباس سے اُتار اتھا۔


تزئین بولی ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کہیں ایک بڑی ظالم جادو گرنی رہتی تھی جسکے پاس جادو کی چھڑی تھی جسکے ایک سَرے پر ایک کالاستارہ لگا ہوا تھا جسکے درمیان میں ایک ہیرے جیسا موتی جڑا ہوا تھا اور جو بھی اُس ہیرے کی طرف دیکھتا ،اُس پر ہیرے کا جادو چل جاتا تھا اور اُس جادو کے اثر سے اُس شخص کو جو بھی حکم دیا جاتا وہ اُس پر عمل کرتا ۔

اُس جادو گرنی کے نزدیک ہی ایک بہت رحمدل اور نیک خاتون رہتی تھی ۔

(جاری ہے)

ایک دن وہ خاتون جسکا نام ریشماں تھا جادوگرنی کے باغ میں سیر کرنے آئی ۔جادو گرنی ایک درخت کے نیچے سورہی تھی اور اُسکی چھڑی اُسکے ہاتھ سے چھوٹ کرذرا دور گری ہوئی تھی ۔

ریشماں کووہ چھڑی اتفاق سے مل گئی ۔وہ بولی اِس پر کتنا خوبصورت ستارہ لگا ہوا ہے ۔
اُس نے چھڑی سے وہ جادو کا ستارہ اُتار کر اپنے لباس میں لگا لیا ۔پھر اچانک جادو گرنی جاگ گئی اور اِدھر اُدھر چھڑی ڈھونڈنے کے بعد اُس طرف بھاگی جدھر ریشماں جارہی تھی ۔
پھر اُن کا آمنا سامنا ہو گیا۔جب جادو گرنی ریشماں کے سامنے آئی اور اُسکی نظر ریشماں کے لباس پر لگے چمکدار ستارے پر پڑی تو خود اُسکے جادو کا شکار ہو گئی ۔ریشماں جادو گرنی سے بولی مجھے بڑی پیاس لگی ہے کیا مجھے کچھ پینے کو دے سکتی ہو ؟
جادو گرنی مودبانہ انداز میں بولی کیوں نہیں ضرور پھر وہ ریشماں کیلئے پانی لے کر آئی جو اُس نے پیا ،پھر مسکراکر ریشماں بولی بہت شکریہ تم بہت ہمدرد ہو ۔
یہ الفاظ جادو گرنی پر فوری اثر کرگئے کیونکہ جو الفاظ ریشماں کے منہ سے نکلنے تھے وہ پورے ہوجانے تھے ۔جادو گرنی اِن الفاظ سے ہمیشہ کیلئے ہمدرد اور نیک بن گئی۔
اور پھر ریشماں جو اصل میں تزئین کی دادی اماں تھیں کو کبھی معلوم نہیں ہوا کہ اُن کے پاس جادو کا ستارہ ہے اور جادو کے ستارے نے بھی کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ دادی ریشماں ہمیشہ سب کو اچھائی کا سبق ہی دیتی تھیں ۔
اِسلئے سب خوش تھے حتیٰ کہ ہمدرد اور نیک ہونے والی جادوگرنی بھی۔

Your Thoughts and Comments