Jadoo Ka Pani

Jadoo Ka Pani

جادو کا پانی

بہت دنوں کی بات ہے کہ جنگل میں ایک لکڑہاراور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ دونوں بہت بوڑھے اور غریب تھے۔ لکڑہار ادن بھرکلہاڑی سے لکڑیاں کاٹتا اور شام کو انہیں شہر میں بچ آتا تھا۔

شیخ محمد اسماعیل:
بہت دنوں کی بات ہے کہ جنگل میں ایک لکڑہاراور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ دونوں بہت بوڑھے اور غریب تھے۔ لکڑہار ادن بھرکلہاڑی سے لکڑیاں کاٹتا اور شام کو انہیں شہر میں بچ آتا تھا۔
لکڑہار کی بیوی گھر کا کام کاج کرتی تھی۔
ایک دن لکڑہارے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہاتھا۔ کہ اسے بہت زور کی پیاس لگی۔ ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ کہ کوئی کنواں یا تالاب نظرآئے تووہاں جا کر پانی پی لوں مگر جب کوئی کنواں یا تالاب نظر نہ آیا تو اس نے کلہاڑی ہاتھ سے رکھ دی۔
اور پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر پھرنے لگا۔
تھوڑی دیر میں اُسے ایک تالاب مل گیا۔ جسے اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ تالاب صاف اور ٹھنڈے پانی سے بھرا ہواتھا۔ پانی کودیکھ کر بوڑھے لکڑہارے کی جان میں جان آئی۔

(جاری ہے)

اس نے تالاب کے کنارے بیٹھ کر دو تین چلو پانی کے پئے۔


خدا کی قدرت! پانی پیتے ہی بوڑھے لکڑہارے کے بدن کی ساری جھریاں جاتی رہیں۔ سر کے سفیدبال سیاہ ہوگئے۔ پہلے منہ میں ایک بھی دانت نہ تھا۔ اب سب دانت پیدا ہوگئے۔ اور بوڑھا لکڑہارا آن کی آن میں جوان ہٹاکٹاآدمی بن گیا۔
لکڑہارا بڑا حیران ہوا کہ ایکاایکی یہ کیا ہوگیا۔
اُس نے جھک کرتالاب کے صاف پانی میں اپنی شکل دیکھی تو وہ بالکل جوانوں کی سی نظر آئی اب تو لکڑہارے کی خوشی کاٹھکانہ رہا۔
اس نے لکڑیاں تو وہیں جنگل میں پھینکیں۔ اور خوشی سے اچھلتا کودتا گھر کی طرف چلا لکڑہارے کی بیوی نے جو ایک جوان آدمی کو گھر میں آتے دیکھا۔
تو پہلے توڈری مگر جب لکڑہارے نے کہا۔ کہ میں جادو کا پانی پی کر جوان ہوگیا ہوں۔ تو بہت خوش ہوئی۔ اور کہنے لگی مجھے بھی جلد اس تالاب کا پتہ بتاؤ۔ میں ابھی وہاں جاتی ہوں۔ اور جوان ہو کر واپس آتی ہوں۔ پھر ہم دونوں بڑے مزے میں رہا کریں گے۔

لکڑہارے نے بہتر کہا۔ کہ ٹھہرو میں تمہیں اپنے ساتھ لے چلتا ہوں مگر اس کی بیوی نے ایک نہ سنی۔ اور کہا نہیں تم تھک گئے ہوگے۔ تم گھر میں بیٹھو۔ اور مجھے اس کا پتہ بتادو۔ میں اکیلی جا کر پانی پی آؤں گی۔
اُس پر لکڑہارے نے اس تالاب کا پتہ بتادیا۔
وہ اسی وقت جنگل کی طرف چلی گئی۔ اور تھوڑی دیر میں تالاب کے پاس پہنچ گئی۔
تالاب اسی طرح پانی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ خوشی خوشی تالاب کے کنارے بیٹھ گئی۔ اس نے سوچا میں جتنا زیادہ پانی پیوں گی۔ اُتنی ہی زیادہ جوان ہوجاؤں گی۔
یہ سوچتے ہی اس نے جلد جلد پانی پینا شروع کیا۔ اور پیٹ بھر کر پانی پیا۔ کہ منہ تک آگیا۔
بہت دیر ہوگئی۔ مگر لکڑہارے کی بیوی گھر نہ پہنچی ۔ آخرلکڑہارا بے چارا اسے ڈھونڈنے نکلا۔ اور اس کی بیوی اسے کہیں نہ ملی۔ وہ تالاب کی طرف گیا۔
اورچاروں طرف دیکھنے لگا۔ تالاب کے پاس ایک درخت کے نیچے اُسے اپنی بیوی کے کپڑے پڑے ہوئے نظر آئے دوڑ کروہاں گیا۔ دیکھتا کیا ہے۔ کہ ایک چھوٹی سی لڑکی جو کوئی دوڈھائی برس کی معلوم ہوتی تھی۔ کپڑوں میں لپٹی ہوئی پڑی ہے۔
قصہ یہ ہوا ۔
کہ لکڑہارے کی بوڑھی بیوی نے لالچ میں آکر جادوکا پانی بہت سا پیا لیا۔ کہ وہ جوانی کی عمر سے گزرکر بچپن کے زمانے میں پہنچ گئی ۔ اور جوان ہونے کی بجائے چھوٹی سی لڑکی بن گئی۔ اگر وہ پیٹ بھر کر پانی نہ پیتی۔ اور دوتین گھونٹ پی کر گھر چلی آتی۔
تو جوان بن جاتی۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ چھوٹی لڑکی نے بہت رنج کے ساتھ لکڑہارے کی طرف دیکھا۔ اور بلک بلک کر رونے لگی۔
لکڑہارا اس کی صورت دیکھتے ہی بات کو سمجھ گیا۔ اس نے لڑکی کو گود میں اُٹھالیا۔ اور غمگین صورت بنائے گھر کی طرف چلاآیا۔

Your Thoughts and Comments